تحقیق کے نام پر ارریہ کے عالم دین سے تلنگانہ میں مبینہ بدسلوکی، جمعیۃ علماء ارریہ کا احتجاج

ارریہ، 25 ستمبر: تلنگانہ کے ورنگل میں ارریہ، بہار سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین کے ساتھ مبینہ طور پر تصدیق نامے کی تحقیق کے نام پر سرِعام تھپڑ مارنے، نازیبا الفاظ استعمال کرنے اور بہاریوں کو ہدفِ تنقید بنانے کے واقعے پر جمعیۃ علماء ارریہ نے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔

جمعیۃ علماء ارریہ کے جنرل سکریٹری اور جمعیۃ علماء بہار کے نائب صدر محمد اطہر القاسمی نے کہا کہ کسی بھی دستاویز کی جانچ پڑتال ایک باقاعدہ انتظامی عمل ہے، تاہم اس کے نام پر کسی عالم دین کی سرِعام تذلیل، مبینہ مارپیٹ، گالم گلوچ یا کسی کی علاقائی شناخت کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف یا شکایت کا جواب قانون اور ضابطے کے مطابق دیا جانا چاہیے، نہ کہ ہاتھ اٹھا کر یا کسی صوبے کے باشندوں کی تحقیر کرکے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی ویڈیو بنوا کر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیے جانے سے ارریہ، سیمانچل اور بہار کے لوگوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وائرل ویڈیو کو ہٹایا جائے، متاثرہ عالم دین کو انصاف دلایا جائے اور واقعے میں ملوث متعلقہ شخص کے خلاف قانون و دستور کے مطابق کارروائی کی جائے۔

محمد اطہر القاسمی کے مطابق انہوں نے جمعیۃ علماء تلنگانہ کے صدر مولانا پیر خلیق قاسمی سے فون پر براہِ راست گفتگو کرکے واقعے پر شدید احتجاج درج کرایا اور معاملے میں فوری مداخلت کی درخواست کی۔ ان کے بقول، ریاستی صدر نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر کے ضروری کارروائی کی جائے گی۔

جمعیۃ علماء ارریہ کے جنرل سکریٹری نے واضح کیا کہ احتجاج کسی صوبے یا وہاں کے عوام کے خلاف نہیں، بلکہ ایک شہری کی مبینہ تذلیل، تشدد اور بہاریوں کی اجتماعی توہین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور بہار کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے رشتے کو کسی ایک فرد کے قابلِ افسوس طرزِ عمل سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ذمہ داران معاملے کا فوری اور مؤثر نوٹس لیں گے، تاکہ ملک کے ہر شہری کو اپنی عزت، جان اور وقار کے تحفظ کا یکساں احساس برقرار رہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔