تحریر: شیخ رفیع
دارالہدیٰ اسلامی یونیورسٹی
ماں مہر و محبت، ایثار و مروت، صبر و رضا اور خلوص و وفا کا ایک روشن مظہر ہے۔ وہ ایسا شجرِ سایہ دار ہے جس کی گھنی چھاؤں کبھی کم نہیں ہوتی اور نہ اس پر خزاں آتی ہے۔ ماں کی گود انسانیت کا اولین مکتب ہے، وہ تہذیب و شائستگی کا گہوارہ اور کائنات کا سب سے پُرخلوص رشتہ ہے۔
ماں ہی زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینار ہے۔ ماں ہی وہ مقدس ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت قرار دی گئی ہے۔ ’’ماں‘‘ خاندانی نظام کی اساس اور اسلامی تہذیب کا بنیادی نشان ہے۔ وہ اسلام کی اعلیٰ اخلاقی و معاشرتی اقدار کی امین اور خلوص و وفا کے سچے جذبات کی آئینہ دار ہے۔
ماں وہ عظیم نام ہے جس کے لیے دنیا کی مختلف زبانوں، عالمی تہذیبی ورثے اور زبان و ادب میں جو الفاظ تخلیق کیے گئے ہیں، وہ اس کے بلند مقام کے استعارے اور ماں سے عقیدت و محبت کے حسین اظہار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم دینِ فطرت اور دینِ رحمت نے ماں کی عظمت، خدمت، اطاعت اور فرماں برداری کے بارے میں جو تعلیمات دی ہیں، وہ اپنی نوعیت میں منفرد اور بے مثال ہیں۔ اسلام میں خالقِ حقیقی، رب العالمین کے بعد انسانی وجود کے ظاہری سبب یعنی ماں باپ میں سے ماں اور اس کی مامتا کو خصوصی عظمت عطا کی گئی ہے۔
خالقِ کائنات نے خلوص و وفا، ایثار و محبت اور شفقت کے اس پیکر کو پوری انسانیت کے لیے رحم و کرم اور اُنس و محبت کا منبع بنایا ہے۔ ماں اور مامتا کے معاملے میں انسان اور حیوان کے درمیان بھی کوئی بنیادی تفریق نہیں۔ محبت، خلوص اور وفا کا جو جذبہ قدرت نے انسانی ماں کے وجود میں ودیعت کیا ہے، بعینہٖ وہی جذبہ حیوانات کو بھی عطا کیا گیا ہے۔ چنانچہ جانوروں کی مادائیں بھی مامتا کے جذبے اور خلوص و وفا کے اس سرچشمے سے پوری طرح فیض یاب ہوتی ہیں۔
یہ ماں کی شفقت، مامتا کی عظمت اور محبت ہی کا اظہار تھا کہ محسنِ انسانیت، نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر ننھے اور معصوم بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلایا جارہا ہوتا، بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد اپنے رب کے حضور عبادت میں جھکے نہ ہوتے اور معصوم جانور میدانوں میں چر نہ رہے ہوتے تو یقیناً تم پر سخت عذاب نازل ہوتا۔‘‘ ماں کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایہ ہے۔ اس کی شفقت و محبت اور خلوص و وفا کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کی عظمت کو تسلیم کیا ہے، لیکن فخرِ موجودات، سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ جو ایک مثالی دین اور ابدی ضابطۂ حیات لے کر تشریف لائے، اس میں ماں کو خصوصی عظمت عطا کی گئی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے‘‘۔
والدین کے حقوق کی قرآنی بنیاد
اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے۔ کسی کو باپ کا درجہ عطا فرمایا، کسی کو ماں بنایا، کسی کو بیٹا اور کسی کو بیٹی کی نسبت دی۔ غرض یہ کہ رشتوں کے قیام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق بھی مقرر فرمائے ہیں اور ان حقوق میں سے ہر حق کی ادائیگی ضروری ہے۔ تاہم والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنی بندگی اور اطاعت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ہے۔ یہ اس امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ انسانی رشتوں میں والدین کا حق نہایت عظیم اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
’’وَقَضٰى رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوْا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَا أُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا رَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ إِنْ تَکُوْنُوْا صَالِحِیْنَ فَإِنَّہٗ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا۔ ‘‘
ترجمہ: ’’اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ، اگر وہ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ان کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو) ان سے کبھی ’’ہوں‘‘ بھی مت کرنا اور نہ ان سے جھڑک کر بولنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا: اے ہمارے پروردگار! تو اُن پر رحمت فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے (صرف ظاہر داری نہیں، دل سے اُن کا احترام کرنا) تمہارا رب تمہارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں بکثرت معاف کرنے والا ہے۔‘‘
اسی مضمون کو کنزالایمان میں یوں بیان کیا گیا ہے:
’’اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں (اُف تک) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔‘‘ (پ 15، بنی اسرائیل: 23 (
اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے فوراً بعد ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ اس میں یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق و ایجاد ہے، جبکہ اس کے وجود کا ظاہری سبب اس کے والدین ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا اور اس کے بعد ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم ارشاد فرمایا۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے رب عزوجل نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو، کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم ہے، اسی طرح تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔
اولاد کو یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ والدین صرف اس کے وجود کا سبب ہی نہیں، بلکہ آج وہ جو کچھ ہے، اس میں بھی والدین کی تربیت، محنت اور قربانیوں کا بڑا حصہ ہے۔ والدین اپنی اولاد کی خاطر ہر طرح کی تکلیف، دکھ اور مشقت برداشت کرتے ہیں، بلکہ بسا اوقات اپنا آرام و راحت، اپنی خوشی اور اپنی خواہشات تک اولاد کی خاطر قربان کردیتے ہیں۔
ماں کا مجاہدہ اور اس کے عظیم احسانات
والدین میں سب سے زیادہ محنت، مشقت اور جسمانی تکلیف ماں برداشت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَ وَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَانًا حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا۔‘‘
ترجمہ: ’’اس ماں نے تکلیف جھیل کر اُسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اُسے جنا۔‘‘
حمل کے نو [۹] ماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضعِ حمل کی دشواری، یہ سب ماں برداشت کرتی ہے۔ جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو اس کی پرورش کے لیے باپ بھی محنت و مشقت برداشت کرتا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، صحت ہو یا بیماری، وہ اپنی اولاد کی خاطر کسبِ معاش کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے، ان کے لیے کماتا ہے اور ان پر خرچ کرتا ہے۔ دوسری طرف ماں گھر کے اندر بچے کی پرورش کرتی ہے، اسے دودھ پلاتی ہے اور اسے گرمی و سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے خود گرمی و سردی برداشت کرتی ہے۔
بچہ بیمار ہوجائے تو ماں باپ دونوں بے چین ہوجاتے ہیں، ان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اور اس کے علاج و معالجے کے لیے ڈاکٹروں اور علاج گاہوں کے چکر لگاتے ہیں۔ غرض والدین اپنی راحت و آرام کو اولاد کی خاطر قربان کردیتے ہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، وہیں والدین کا بھی شکر گزار رہنے کی تعلیم دی ہے۔ سورۂ لقمان میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ‘‘
’’میرا شکر یہ ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو، میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا، بیت اللہ لایا اور اسی طرح کندھے پر اٹھا کر حج کے مناسک ادا کروائے، کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’نہیں، ہرگز نہیں، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگایا تھا۔‘‘
اس واقعے سے ماں کی حمل اور ولادت کی تکلیف اور اس کے عظیم حق کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ماں کے لیے تین مرتبہ حسنِ سلوک کی تاکید
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیری ماں!‘‘ اس نے عرض کیا، پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں۔‘‘ اس نے عرض کیا، پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیری ماں۔‘‘ چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیرے والد۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الادب(
اسی روایت کو ایک دوسرے ماخذ میں یوں نقل کیا گیا ہے:
’’تمہاری ماں (یعنی ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔)‘‘ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں۔‘‘ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر ماں کو بتایا۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ پھر کون؟ ارشاد فرمایا: ’’تمہارا والد۔‘‘
ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کے حوالے سے آپ ﷺ کے تین مرتبہ تاکیدی طور پر ارشاد فرمانے کے سلسلے میں علماء نے لکھا ہے کہ ماں کا تین مرتبہ نام لینا اس کے تین عظیم احسانات کی طرف اشارہ ہے جنہیں قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔ یعنی ماں وضعِ حمل اور پیدائش کی تکلیف برداشت کرتی ہے، پھر بچے کو دودھ پلاتی ہے اور کئی ماہ تک اس کی ہر طرح نگہداشت کرتی ہے۔ وہ اپنی راحت اور آسائش کو اولاد کی راحت و آسائش پر قربان کردیتی ہے۔
قرآن کریم اور حدیثِ نبویؐ کا یہ مضمون کس قدر ہم آہنگ ہے کہ قرآن نے ماں کے تین عظیم احسانات شمار کرائے اور والد کا ذکر ایک مرتبہ کیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ماں کی خدمت گزاری کی تاکید تین مرتبہ فرما کر باپ کی خدمت گزاری کا ذکر ایک مرتبہ فرمایا۔ قرآن کریم نے ماں باپ کے سلسلے میں اولاد کی فطرت کو بیدار کیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے جذبۂ اطاعت و خدمت کو جھنجھوڑا ہے۔
والدین کے حقوق میں ماں کا خصوصی مقام
ام المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ تو نبی کریم رؤف الرحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’شوہر کا۔‘‘ پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ تو نبی کریم رؤف الرحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس کی ماں کا۔‘‘
حضرت مغیرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ نے یقیناً تم پر ماؤں کی نافرمانی اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری؍باب حقوق الوالدین(
مشرکہ ماں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ’’جس زمانہ میں قریش نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے معاہدہ کیا تھا، میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اعراض کیے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں؟ ارشاد فرمایا: ’’اس کے ساتھ سلوک کرو۔‘‘
یعنی کافرہ ماں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے گا۔
والدین کی نافرمانی سے ممانعت
اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے: ’’وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا‘‘ یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری، اکرام و احترام اور حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آیا جائے، بے ادبی نہ کی جائے، تکبر سے کام نہ لیا جائے اور ان کی جائز اطاعت کی جائے۔ البتہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت جائز نہیں۔
سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
’’وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَإِنْ جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْہُمَا ‘‘
’’ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے، جس کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تیرے پاس نہ ہو تو اُن کا کہنا مت ماننا۔‘‘
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کس طرح کیا جائے؟ تو انہوں نے فرمایا: تو اُن پر اپنا مال خرچ کر اور وہ تجھے جو حکم دیں اس کی تعمیل کر، ہاں! اگر گناہ کا حکم دیں تو مت مان۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھاڑو، کہیں کپڑوں کا غبار اور دھول اُن کو نہ لگ جائے۔
بڑھاپے میں حسنِ سلوک کا خصوصی حکم
اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر والدین کے بڑھاپے کو ذکر فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر ان میں کوئی ایک یا دونوں تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو ’’اُف‘‘ بھی مت کہنا اور نہ اُن سے جھڑک کر بات کرنا۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان القرآن میں ’’اُف‘‘ کا ترجمہ ’’ہوں‘‘ سے کیا ہے کہ اگر ان کی کوئی بات ناگوار گزرے تو ان کو جواب میں ’’ہوں‘‘ بھی مت کہنا۔ اللہ رب العزت نے بڑھاپے کی حالت کو خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ والدین کی جوانی میں تو اولاد کو نہ ’’ہوں‘‘ کہنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی جھڑکنے کی، جوانی میں بدتمیزی اور گستاخی کا اندیشہ نسبتاً کم ہوتا ہے، البتہ بڑھاپے میں والدین جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور اولاد کے محتاج ہوتے ہیں تو اس وقت اس کا زیادہ اندیشہ رہتا ہے۔
پھر بڑھاپے میں عمومی طور پر ضعف کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات معمولی باتوں پر، بلکہ بسا اوقات درست اور حق بات پر بھی والدین اولاد پر غصہ کرتے ہیں۔ اس وقت اولاد کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کو برداشت کرکے حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرتی ہے یا ناک بھوں چڑھا کر بات کا جواب دیتی ہے۔ ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ جواب دینا اور جھڑک کر بات کرنا تو دور کی بات ہے، انہیں ’’اُف‘‘ بھی مت کہنا اور ان کی بات پر معمولی سی ناخوشگواری کا اظہار بھی نہ کرنا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر والدین کی بے ادبی میں ’’اُف‘‘ سے بھی کوئی کم درجہ ہوتا تو اللہ جلّ شانہ اسے بھی حرام فرمادیتے۔
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر والدین بوڑھے ہوجائیں اور تمہیں ان کا پیشاب دھونا پڑجائے تو بھی ’’اُف‘‘ مت کہنا کہ وہ بچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے رہے ہیں۔
والدین کا ادب و احترام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی بھی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب میں کہا کہ یہ میرا باپ ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
’’لا تمش أمامہٗ، ولاتقعد قبلہٗ، ولاتدعہ باسمہٖ، ولاتستبّ لہٗ۔‘‘
’’اُن کے آگے مت چلنا، مجلس میں اُن سے پہلے مت بیٹھنا، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گالی مت دینا۔‘‘
بڑھاپے میں جب والدین کی کوئی بات ناگوار گزرے تو ان سے کس طرح گفتگو کی جائے؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا‘‘
یعنی ان سے خوب ادب سے بات کرنا، اچھی بات کہنا، لب و لہجے میں نرمی اور الفاظ میں توقیر و تکریم کا خیال رکھنا۔
’’قولِ کریم‘‘ کے بارے میں حضرت سعید بن مسیب ؒ نے فرمایا:
’’قول العبد المذنب للسید اللفظ ‘‘
خطاکار اور زرخرید غلام سخت مزاج اور ترش رو آقا سے جس طرح بات کرتا ہے، اسی طرح بات کرنا، یہ قولِ کریم ہے۔
آگے فرمایا:
’’وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ‘‘
یعنی ان کے سامنے شفقت کے ساتھ انکساری سے جھکتے رہنا۔
حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ نے قرآن میں والدین کے سامنے جھکے رہنے کا حکم دیا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ کوئی ایسی بات کہیں جو تجھے ناگوار ہو تو ترچھی نگاہ سے بھی اُن کو مت دیکھ، کیونکہ انسان کی ناگواری سب سے پہلے اس کی آنکھ سے ظاہر ہوتی ہے۔
اور فرمایا کہ ان کے سامنے ایسی روش اختیار کر کہ تیری وجہ سے ان کی دلی رغبت پوری کرنے میں کوئی فرق نہ آئے، اور جس چیز کو والدین پسند کریں، اسے ان کی خدمت میں پیش کرنے میں کنجوسی مت کرنا۔ (بر الوالدین، ص: ۴۰)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے معارف القرآن میں لکھا ہے کہ والدین کی خدمت و اطاعت کا حکم کسی زمانے یا عمر کے ساتھ مقید نہیں، ہر حال میں اور ہر عمر میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا واجب ہے، کیونکہ والدین کی خدمت اور ان کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور ان کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔
والدین کی رضامندی اور اللہ تعالیٰ کی رضا
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’رضا اللہ مع رضا الوالدین و سخط اللہ مع سخط الوالدین۔‘‘
یعنی ’’اللہ کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔‘‘
جنت یاجہنم کے دروازے
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’من أصبح مطیعا في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنۃ، وإن کان واحدا فواحدا، ومن أمسٰی عاصیا للہ في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النار، وإن کان واحدا فواحدا، قال الرجل: وإن ظلماہ؟ قال: وإن ظلماہ، وإن ظلماہ، وإن ظلماہ۔‘‘
یعنی جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں اللہ کا فرمانبردار رہا تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور اگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور وہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو جنت کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اور جس نے اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی میں اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق حسنِ سلوک نہ کیا تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھلے رہتے ہیں، اور اگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور وہ اس کے ساتھ بدسلوکی کرے تو جہنم کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔
کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! اگرچہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: اگرچہ والدین نے ظلم کیا ہو۔
حضرت رفاعہ بن ایاس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ رونے لگے۔ کسی نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا:
’’کان لي بابان مفتوحان إلی الجنۃ وأغلق أحدھما‘‘
یعنی میرے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے تھے، اب والدہ کی وفات پر ایک بند ہوگیا ہے، اس لیے رو رہا ہوں۔
کسی قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے والدین زندہ ہیں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرتے ہیں اور ان کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ اور والدہ کی خدمت
اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنی، میں نے سوال کیا کہ یہ کون ہے جو قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ حارثہ بن نعمانؓ ہیں۔‘‘
یہ بیان فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا‘‘
یعنی ماں کی خدمت اور اس سے حسنِ سلوک کا یہ صلہ ہے۔ حضرت حارثہ بن نعمانؓ اپنی والدہ کی خدمت اور ان سے حسنِ سلوک کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے تھے۔
اسی روایت کو ایک دوسرے ماخذ میں یوں نقل کیا گیا ہے:
’’یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا۔‘‘ (شرح السنّۃ، کتاب البرّ والصلۃ، باب برّ الوالدین، 6/426، الحدیث: 3312)
اور شعب الایمان کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ ’’حارثہ رضی اللہ عنہ اپنی ماں کے ساتھ بہت بھلائی کرتے تھے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور والدہ کی خدمت
رسولِ اکرم ﷺ کے برگزیدہ صحابی حضرت ابوہریرہؓ علمِ حدیث کے اساطین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ صحابۂ کرامؓ کی جماعت میں سب سے بڑے حافظِ حدیث تھے۔ احادیثِ نبویؐ کا سب سے عظیم ذخیرہ آپ ہی سے روایت کیا گیا ہے۔ آپ کی مجموعی روایات کی تعداد 5374 بیان کی جاتی ہے۔ آپ اصحابِ صُفّہؓ میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔ اسوۂ نبویؐ پر چلنے کی تڑپ ہر وقت ان کے دل میں موجزن رہتی تھی۔ وہ زیارتِ کعبۃ اللہ کے بڑے مشتاق تھے، لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ آپ حج کے لیے نہ جاسکے، حالاں کہ صحت بھی اچھی تھی اور سفر کا خرچ بھی مہیا تھا۔
کوئی ایسی ظاہری وجہ نہ تھی جس کی بنا پر وہ حج کی عظیم سعادت سے محروم رہتے، مگر اس کے باوجود تکمیلِ تمنا کا موقع نہ آتا تھا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ حج پر جانے والے قافلوں کو خدا حافظ کہنے جاتے۔ جب معلوم ہوتا کہ حجاج کرام کا قافلہ روانہ ہونے والا ہے تو بڑے ذوق و شوق سے ان کے پاس پہنچتے، ایک ایک سے ملتے، ایک ایک کی تواضع کرتے اور حسرت بھری نگاہوں سے ایک ایک کو دیکھتے ہوئے رخصت کردیتے۔
ایک روزِ سعید ایسا بھی آیا کہ حاجیوں کے قافلے میں وہ بھی شریک ہوگئے۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی کہ حضرت ابوہریرہؓ کی والدہ ضعیف العمر تھیں اور وہ ان کی خدمت میں جی جان سے مصروفِ عمل رہتے تھے۔
ماں کی خدمت کا یہ عالم تھا کہ نماز کے سوا کسی بہت ضروری کام کے لیے بھی کبھی بوڑھی ماں کو اکیلا نہ چھوڑتے۔ آپؓ فرماتے تھے کہ میں کسی قیمت پر بھی ماں کی خدمت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہونا گوارا نہیں کرسکتا۔ ماں کی خدمت کا یہی عظیم جذبہ تھا کہ آپ حج جیسی عبادت کو ملتوی کر رہے تھے، لیکن یہ گوارا نہ تھا کہ بوڑھی ماں سے ایک دن کے لیے بھی جدا رہیں۔
جب تک ان کی بوڑھی ماں حیات رہیں، صبح و شام جی جان سے ان کی خدمت اور فرماں برداری میں مصروف رہے، یہاں تک کہ دن کے چین اور رات کی نیند کی بھی پروا نہ کی۔
حضرت ابوہریرہؓ جس سال حج پر تشریف لے گئے، اسی سال ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ کچھ نہ پوچھیے کہ دل کا کیا حال تھا۔ کعبۂ دل کے اجڑ جانے کے بعد حجِ بیت اللہ ہی میں تسکینِ دل کا سامان باقی رہ گیا تھا۔ اس لیے جو زادِ سفر ممکن ہوسکا، لیا اور کعبۃ اللہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوگئے۔ دھوپ چھاؤں کی کیفیت قلب پر طاری تھی۔ زیارتِ کعبۃ اللہ پر شاداں و فرحاں تھے اور ماں کے بچھڑ جانے پر ملول و غم زدہ۔ وصال و فراق کے اس کرشمے میں تقدیس تھی، گداز ہی گداز تھا۔ ماں کی خدمت اور فرماں برداری کا یہ ایک نقش ہے، ایسے بے شمار نقوش اسلامی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔
والدین کی خدمت اور رسول اللہ ﷺ کا اسوہ
ماں کی خدمت، اس سے حسنِ سلوک، اس کی عظمت و تقدس کو اجاگر کرنے اور اس کی اہمیت بیان فرمانے والے امام الانبیاء، سید المرسلین، رحمۃ للعالمین اور محسنِ انسانیت ﷺ کا اسوہ اور عمل ملاحظہ فرمائیے۔
ایک موقع پر رسالتِ مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اگر میری ماں حیات ہوتیں اور میں حالتِ نماز میں ہوتا، پھر وہ مجھے پکارتیں، اے محمدؐ، تو میں ان کی صدا پر لبیک کہتا اور نماز کو توڑ کر ان کی خدمت اور فرماں برداری میں مصروف ہوجاتا۔‘‘
ایک مرتبہ ایک بزرگ خاتون حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپؐ نے ان کی بڑی تعظیم و تکریم فرمائی اور اپنی چادرِ مبارک ان کے لیے بچھا دی۔ بعد ازاں صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ کون خاتون تھیں جن کی آپؐ نے اتنی تعظیم و تکریم فرمائی؟ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ میری رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہؓ ہیں۔‘‘ آپؐ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ جب بھی آپؐ حلیمہ سعدیہؓ کو دیکھتے تو ’’میری ماں، میری ماں‘‘ کہہ کر ان کی طرف دوڑتے ہوئے تشریف لے جاتے۔
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ اور والدہ کی خدمت
ماں کی عظمت اور خدمت کا ایک اور نقش ملاحظہ فرمائیے۔ حضرت اویس قرنیؓ کو اسلامی تاریخ میں ماں کی خدمت، اطاعت اور حسنِ سلوک کے حوالے سے خاص شہرت حاصل ہے۔
ایک موقع پر والدہ نے سوال کیا: اویس! تم مدینۂ منورہ جا کر رسول اللہ ﷺ کی زیارت اور صحبت سے شرف یاب کیوں نہیں ہوتے؟ والدہ کی یہ بات سن کر حضرت اویس قرنیؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ماں کے قدموں تلے جنت ہے‘‘، میں اس جنت کو کس طرح چھوڑ دوں۔
آخرکار والدہ کے بے حد اصرار پر مدینۃ النبیؐ حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ ان دنوں مدینہ میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے اس موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر میرے اختیار میں ہو تو میں پوری زندگی مدینے میں رہوں اور آپؐ کے دیدار و صحبت سے شرف یاب ہوں، لیکن یہ میرے اختیار میں نہیں۔ میری ماں بوڑھی اور خدمت کی طلب گار ہیں۔ انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور جلد یمن واپس آنے کی تاکید کی تھی۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے یہ عاشقِ صادق فوراً یمن روانہ ہوگئے اور زندگی بھر ماں کی خدمت میں مصروف رہے۔ اسی بنا پر اسلامی تاریخ میں انہیں بلند اور منفرد مقام حاصل ہوا۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ اویس قرنیؓ جب مدینہ تشریف لائیں تو ان سے دعا کی درخواست کرنا۔ خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروقؓ کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر سال حج کے موقع پر مختلف اسلامی ممالک سے آئے ہوئے حجاج سے معلومات حاصل کرتے کہ کیا تم میں یمن کے قبیلے قرن سے تعلق رکھنے والے اویس قرنیؓ موجود ہیں؟ ایک سال جب وہ حج کے موقع پر تشریف لائے تو حضرت عمرؓ نے رسول اکرم ﷺ کی وصیت کے مطابق ان سے دعا کرائی۔ اویس قرنیؓ کو اسلامی تاریخ میں یہ مقام اور امتیاز ماں کی خدمت کے صلے میں عطا ہوا۔
والدین کے لیے دعا کا اہتمام
اللہ تعالیٰ نے جہاں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، وہیں ان کے لیے دعا کرنے کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
’’رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا‘‘
’’اے میرے پروردگار! تو میرے والدین پر ایسے ہی رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں رحمت و شفقت کے ساتھ میری پرورش کی ہے۔‘‘
ہر نماز کے بعد والدین کے لیے دعا کرنے کا معمول بنالیں۔ دو بہت آسان دعائیں، جن کی تعلیم خود اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں دی ہے، ایک ماقبل والی اور دوسری یہ:
’’رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ‘‘
’’اے میرے پروردگار! روزِ حساب تو میری، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی بخشش فرما۔‘‘
حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’من صلی الصلوات الخمس فقد شکر اللہ، ومن دعا للوالدین في أدبار الصلوات الخمس فقد شکر الوالدین۔‘‘
’’جس نے پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کا اہتمام کیا تو گویا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور جس نے پانچ نمازوں کے بعد والدین کے لیے دعائے خیر کی تو گویا اس نے والدین کا شکر ادا کیا۔‘‘
اولاد کی دعا سے والدین کے درجات
اولاد کی دعا سے والدین کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ حضرت عمرو بن میمونؒ سے روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے گئے تو وہاں عرش کے سائے تلے ایک شخص کو دیکھا اور اس کی حالت اتنی اچھی تھی کہ خود موسیٰ علیہ السلام کو اس آدمی پر رشک آیا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا کہ: اے اللہ! تیرا یہ بندہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’کان لا یحسد الناس علی ما آتاہم اللہ من فضلہٖ، وکان لا یعق والدیہ، ولایمشی بالنمیمۃ۔‘‘
’’(یہ شخص تین کام کرتا تھا:) ۱:- جو چیزیں میں نے اپنے فضل وکرم سے لوگوں کو نعمتیں عطا کی ہیں ان پر حسد نہیں کرتا تھا، ۲:- والدین کی نافرمانی نہیں کرتا تھا، ۳:- چغل خوری نہیں کرتا تھا۔‘‘
حسنِ سلوک اور رزق و عمر میں اضافہ
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک رزق و عمر میں اضافہ کا سبب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’من أحب أن یمد اللہ في عمرہٖ ویزید في رزقہٖ فلیبر والدیہ، ولیصل رحمہ۔‘‘
’’جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی عمر دراز کردے اور رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔‘‘
ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بروا آباء کم تبرکم أبناؤکم۔‘‘
’’تم اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کرے گی۔‘‘
والدین کی وفات کے بعد حسنِ سلوک
اگر والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگیا ہو اور زندگی میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک میں کوتاہی ہوئی ہو تو اب اس کی تلافی کس طرح کی جائے؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی تعلیم دی ہے۔
حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور عرض کیا: ماں باپ کی وفات کے بعد بھی کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے ان سے حسنِ سلوک کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’نعم، الصلاۃ علیہما، والاستغفار لہما، وإنفاذ عہدہما من بعدہما، وصلۃ الرحم التي لا توصل إلا بہما، وإکرام صدیقہما۔‘‘
’’ہاں! ان کے لیے رحمت کی دعا کرنا، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، ان کے بعد اُن کی وصیت کو نافذ کرنا، اس صلہ رحمی کو نبھانا جو صرف ماں باپ کے تعلق کی وجہ سے ہو، اور ان کے دوستوں کا اکرام کرنا۔‘‘
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ جب مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملنے کے لیے آئے اور پوچھا: تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو فرمایا: میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے:
’’من أحب أن یصل أباہ في قبرہٖ، فلیصل إخوانَ أبیہ بعدہ۔‘‘
’’جو یہ چاہتا ہے کہ اپنے باپ کے ساتھ قبر میں صلہ رحمی کرے تو اسے چاہیے کہ ان کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ میرے والد عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے والد کے درمیان دوستی تھی، میں نے چاہا کہ میں اُسے نبھاؤں۔ (اس لیے تم سے ملنے آیا ہوں)۔‘‘
والدین کی نافرمانی کی وعید
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، کس کی ناک خاک آلود ہو؟ ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔‘‘
مذکورہ آیتِ مبارکہ اور احادیثِ مبارکہ سے والدین، خصوصاً ماں کی فرمانبرداری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ان آیات و احادیث سے ہمیں عملی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر ہم آیتِ پاک اور حدیثِ پاک کی تعلیمات پر عمل کریں گے تو دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں بھی فلاح نصیب ہوگی۔
اقبال کے ہاں ماں کا مقام
شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ’’اسرارِ خودی‘‘ میں اسلام میں ماں کی عظمت کے حوالے سے اپنی مشہور فارسی نظم ’’در معنیٰ ایں کہ بقائے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ماں کا منصب اور اس کے حفظ و احترام کا ضامن اسلام ہے۔
اقبال کی اس نظم کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے:
’’اگر ٹھیک طور پر دیکھو تو ماں کا وجود رحمت ہے، اس بنا پر کہ اسے نبوت سے نسبت ہے، اس کی شفقت پیغمبرانہ شفقت جیسی ہے، جس سے قوموں کی سیرت سازی ہوتی ہے، ماں کے جذبۂ محبت کی بدولت ہماری تعمیر پختہ تر اور اس کی پیشانی کی سلوٹوں میں ہماری تقدیر پنہاں ہوتی ہے۔
اگر تم الفاظ کے معنی تک رسائی رکھتے ہو تو لفظ اُمت پر غور کرو۔ اس میں بڑے نکات ہیں۔ مقصودِ کائنات پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ’’ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے۔‘‘ ملتِ رحمی رشتے کی تکریم پر قائم ہے۔ اگر یہ نہیں تو زندگی کا ہر کام خام رہ جاتا ہے۔ ’’مامتا‘‘ سے زندگی سرگرم ہے۔ ’’مامتا‘‘ ہی سے زندگی کے اسرار بے نقاب ہوتے ہیں۔
ہماری ملت کی ندی میں ہر پیچ و تاب ماں سے ہے۔ اس ندی میں موجیں، گرداب اور بلبلے اسی وجود کے باعث ہیں۔ ملت کو ماں کی آغوش سے اگر ایک ہی مسلمان حاصل ہوجائے، جو غیرت مند اور حق پرست ہو تو ہمارا وجود ان رنجوں سے محفوظ ہوجائے، اس کی شام کی بدولت ہماری صبحِ دنیا کو روشن کردے۔‘‘
’’ماں‘‘ کی عظمت اور اس کے خلوص و وفا کے متعلق کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
ماں، خلوص و مہر کا پیکر، محبت کا ضمیر
ماں، خدا کا رحم، وہ دنیا میں جنت کی سفیر
ماں، زسرتاپا محبت، ماں، زسر تا پا کرم
ماں، وہ جس کے دم سے قائم وفاؤں کا بھرم
ماں، نشانِ منزلِ آدم، تقدس کا پیام
ماں کے قدموں میں ہے جنّت، ماں کے قدموں کو سلام
ماں کی عظمت: ایک جامع اسلامی تصور
اسلامی تاریخ میں ماں کی خدمت اور اس سے حسنِ سلوک کے حوالے سے ایسے بے شمار نقوش موجود ہیں جو ماں کی عظمت اور اس کے بلند مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کائنات میں انسانیت کی سب سے قیمتی متاع، گنجِ گراں مایہ اور عظیم سرمایہ ہے۔
اسلام میں اولاد کی پوری زندگی ماں کے تقدس، اس کی عظمت کے اظہار اور خدمت و اطاعت کے لیے وقف ہے۔ اس کے لیے کسی ایک دن کو مخصوص کرنا اس کی روح کے منافی ہے۔ اسلام میں ہر سال، ہر مہینہ، ہر دن اور ہر لمحہ ماں کی خدمت، اطاعت اور فرماں برداری کے لیے وقف ہے۔
والدین میں اگرچہ ماں کا مقام حمل، ولادت، رضاعت اور ابتدائی پرورش کی خصوصی مشقتوں کی وجہ سے احادیث میں بار بار نمایاں کیا گیا ہے، تاہم قرآن کریم نے والدین دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب، تواضع، خدمت اور دعا کا عمومی حکم دیا ہے۔ اس لیے اسلامی تعلیمات میں والدین کا حق ایک جامع حق ہے اور ماں کا خصوصی مقام اسی جامع حق کے اندر نمایاں ہوتا ہے۔
والدین کے ساتھ عملی حسنِ سلوک
جن کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہے، انہیں اللہ کی بہت بڑی نعمت سمجھ کر ان کی فرمانبرداری کرنی چاہیے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے، جہاں تک ممکن ہو ان کی خدمت کرنی چاہیے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
اور جن کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، ان کے ساتھ اب حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی وصیت کو نافذ کیا جائے، ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کیا جائے، شرعی حصص کے مطابق میراث تقسیم کی جائے، خود دینی تعلیم حاصل کی جائے اور اس پر عمل کیا جائے، ان کے لیے دعا کی جائے، اللہ سے ان کے لیے رحمت و مغفرت طلب کی جائے، ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے، ان کی طرف سے نفلی حج و عمرہ کیا جائے، کہیں کنواں کھدوایا جائے یا لوگوں کے پینے کے پانی کا انتظام کیا جائے، دینی کتابیں خرید کر وقف کی جائیں، مسجد بنوائی جائے، مدرسہ قائم کیا جائے یا دینی علم حاصل کرنے والے مہمانانِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کیا جائے، والدین کے قریبی رشتہ داروں اور تعلق والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، نفلی اعمال کرکے اُن کے لیے ایصالِ ثواب کیا جائے اور اپنے علاقے، ملک اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی حالتِ زار کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے مال کے ذریعے اُن کی خبرگیری کی جائے۔
اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی توفیق سے نوازے، آمین، ثم آمین۔