مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ تنازع: سابق ہائی کورٹ جج کا نام خارج، ایک بوتھ سے 340 مسلم ووٹرز حذف

دستاویزات جمع ہونے کے باوجود ناموں کی تنسیخ، عوامی احتجاج؛ الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوالات

کولکاتا، نمائندہ خصوصی:

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے دوران سنگین بے ضابطگیوں کے انکشاف نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج، جسٹس شاہد اللہ منشی کا نام بھی ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا، جس پر انہوں نے شدید حیرت اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

سابق جج کے مطابق انہوں نے پاسپورٹ سمیت تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کرائے تھے، اس کے باوجود ان کا نام حذف کر دیا گیا اور انہیں کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے اس عمل کو غیر شفاف اور افسوسناک قرار دیا۔

سابق جج کا نام حذف، سوالات میں اضافہ

جسٹس شاہد اللہ منشی جیسے باوقار اور جانچے پرکھے فرد کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونا خود اس پورے عمل کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ قانونی حلقوں میں بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک ہی بوتھ سے 340 مسلم ووٹرز کے نام حذف

ادھر ضلع بشیرہاٹ کے ایک پولنگ بوتھ سے ایک ساتھ 340 مسلم ووٹرز کے نام بھی حذف کر دیے گئے۔ ان میں اسی بوتھ کے بی ایل او (بوتھ لیول افسر) محمد شفیع الاسلام کا نام بھی شامل ہے، جو خود ووٹر لسٹ کی تیاری کے ذمہ دار تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ تمام ووٹرز پہلے "زیرِ جانچ” کی فہرست میں شامل تھے، تاہم نئی نظرثانی کے بعد ان کے نام مکمل طور پر نکال دیے گئے۔

عوامی غم و غصہ اور احتجاج

اس بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ متعدد افراد سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام ضروری دستاویزات جمع کیے تھے، اس کے باوجود ان کے نام حذف کر دیے گئے اور انہیں کوئی مناسب وضاحت بھی فراہم نہیں کی گئی۔

الیکشن کمیشن پر سوالات

سیاسی مبصرین کے مطابق اس پورے معاملے نے الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے ناموں کی جانچ جاری ہے۔

تنازع کیوں بڑھ رہا ہے؟

  • سابق ہائی کورٹ جج کا نام حذف ہونا
  • ایک ہی بوتھ سے بڑی تعداد میں مسلم ووٹرز کا اخراج
  • دستاویزات جمع ہونے کے باوجود کارروائی
  • شفافیت اور طریقۂ کار پر اٹھتے سوالات

ووٹر لسٹ میں اس نوعیت کی بڑی سطح پر تبدیلیوں نے نہ صرف انتظامی نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے بلکہ آنے والے انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔