واشنگٹن / نئ دہلی
امریکہ نے بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیریف (کسٹم ڈیوٹی) ختم کرنے کا رسمی اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت نافذ ہوگا، جو 7 فروری 2026 کو صبح 12:01 بجے (EST) سے مؤثر ہو گا۔ اس کے بعد بھارت سے آنے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔
یہ اضافی ٹیکس پچھلے سال امریکہ نے بھارت پر عائد کیا تھا، جس کا سبب بھارت کی روس سے تیل خریدنا تھا۔ تاہم نئی تجارتی سمجھوتے کے تحت بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ براہِ راست یا بالواسطہ روسی تیل کی خریداری بند کرے گا۔
اس اقدام کے ساتھ امریکہ اور بھارت کے درمیان بین الوقتی (interim) تجارتی فریم ورک کا اعلان بھی ہوا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اپنے تجارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر متفق ہوئے ہیں۔
نئی ٹیریف کا نظام
• 7 فروری 2026 سے بھارت سے آنے والی اشیاء پر صرف 18٪ عام ٹیریف لاگو رہے گا، جو اضافی 25٪ ٹیکس کے خاتمے کے بعد نیا معمول بنے گا۔
تجارتی اثرات
ماہرین کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے بھارتی برآمدات کو امریکی مارکیٹ میں فائدہ ملے گا اور کاروباری تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا۔ خاص طور پر مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹ سیکٹرز اور MSMEs کو اس سے مثبت اثرات متوقع ہیں۔
بھارت کا ردِ عمل
وزیرِ تجارت و صنعت نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت-امریکہ اقتصادی تعاون کو بڑھانے اور میک ان انڈیا’ مہم کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔