واشنگٹن کا شور، ماسکو کی وضاحت: بھارت نے روسی تیل نہیں چھوڑا

نئی دہلی / واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے روسی خام تیل کی خریداری روکنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بدلے امریکہ نے بھارتی اشیاء پر ٹیرف میں کمی کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم روس اور بھارت دونوں نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔

ٹرمپ کا دعویٰ: تجارتی معاہدے میں توانائی کا وعدہ

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نریندر مودی سے بات چیت کے بعد بھارت نے روسی خام تیل کی خریداری روکنے اور اس کے بدلے میں امریکی اشیا پر ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت مستقبل میں امریکہ اور ممکنہ طور پر وینی زویلا سے تیل** خریدے گا۔

ماسکو کا موقف: کوئی سرکاری اشارہ موصول نہیں ہوا

روس کے کریملن ترجمان نے کہا ہے کہ ماسکو کو نئی دہلی سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ممالک کے توانائی اور تجارت کے تعلقات کو مفید قرار دیا ہے۔

بھارتی حکام کا بیان

بھارتی حکومت نے بھی ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیاکہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت توانائی درآمدات میں استحکام اور صارفین کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے اور کسی بھی تبدیلی کے لیے وقت اور منصوبہ بندی درکار ہو گی۔

ماہرین کا تجزیہ: مکمل بندش ممکن نہیں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت فوری طور پر روسی تیل سے مکمل انحراف نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تاریخی طور پر مختلف ذرائع سے تیل خریدتا رہا ہے اور موجودہ معاہدوں کی تکمیل بھی درکار ہے۔

خلاصہ:

🔹 صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے روسی تیل خریدنا بند کر دیا ہے۔
🔹 روس نے سختی سے اس دعوے کو ردکیا ہے۔
🔹 بھارت نے بھی رسمی طور پر کوئی اعلان نہیں کیا کہ وہ تیل کی خریداری روک دے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔