بی جے پی کے نئے صدر نِتِن نَبِین محض نمائشی عہدہ دار نہیں: وزیر اعظم مودی

نئی دہلی: سیل رواں

ــــــــــــــــــــــــــ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نو منتخب قومی صدر نِتِن نَبِین کو محض رسمی یا نمائشی عہدہ دار سمجھنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی صدر کا عہدہ نہایت طاقت ور اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم نے ایک عوامی تقریب کے دوران نِتِن نَبِین کو “باس” کہہ کر مخاطب کیا، جسے پارٹی کے اندر ان کے مضبوط کردار کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، بی جے پی کے دستور میں پارٹی صدر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف قومی ورکنگ کمیٹی کی قیادت کرتا ہے بلکہ تنظیمی فیصلوں، صوبائی صدور اور اہم عہدے داروں کی تقرری، انتخابی حکمتِ عملی اور پارٹی نظم و نسق میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

نِتِن نَبِین نے صدر بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں پارٹی کارکنوں کو یقین دلایا کہ تنظیم میں ہر کارکن کی آواز اہم ہے اور نچلی سطح تک تنظیم کو مضبوط کرنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی کامیابی کارکنوں کی محنت اور اتحاد سے مشروط ہے۔

خبر کے مطابق نِتِن نَبِین کا سیاسی پس منظر مضبوط رہا ہے۔ وہ بہار میں پانچ مرتبہ انتخاب جیت چکے ہیں اور تنظیمی و انتظامی ذمہ داریوں کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ ان کی سربراہی میں بی جے پی آئندہ انتخابات کے لیے تنظیمی طور پر مزید مستحکم ہوگی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے نِتِن نَبِین کو دی گئی کھلی تائید اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی صدر کا عہدہ محض ربڑ اسٹیمپ نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا ایک اہم مرکز ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔