بھارت کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ بامبے ہائی کورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کی جانچ اور معائنہ کی اجازت دے دی ہے۔ یہ حکم جسٹس سوم شیکھر سندریسن کی جانب سے جاری کیا گیا۔
یہ معاملہ کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر نسیم خان کی درخواست پر سامنے آیا، جنہیں 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں دلیپ لانڈے نے ممبئی کی چاندیولی سیٹ سے شکست دی تھی۔
عدالت کے حکم کے مطابق، جیسے ہی ای وی ایم کی جانچ کی باضابطہ اجازت دی جائے گی، الیکشن کمیشن آف انڈیا دو ماہ کے اندر ان مشینوں کا معائنہ مکمل کرے گا۔
نسیم خان نے اس فیصلے کو “تاریخی اور ضروری عدالتی مداخلت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک بھارت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انتخابات کے بعد امیدواروں اور حکام کی موجودگی میں ای وی ایم کی جانچ کی گئی ہو۔
اطلاعات کے مطابق، ممبئی میں 16 اور 17 اپریل کو ای وی ایم بنانے والی کمپنی بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ کے ذریعے صرف “ڈائگناسٹک چیک” کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کے کئی امیدواروں نے ای وی ایم کی شفافیت اور بھروسے پر سوالات اٹھائے تھے۔ اسی پس منظر میں عدالت کا یہ فیصلہ انتخابی عمل میں شفافیت کے حوالے سے ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔