uniform civil code

نفاذ یکساں سول کوڈ کے امکانات

صاحبو! یکساں سول کوڈ کے حوالے سے سابقہ تجربات اور زمینی حالات صاف چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ اسے دوبارہ زندہ کرنے کے پس پردہ مقاصد واہداف کیا ہیں ؟ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ظاہر کو نہ دیکھیں ، بلکہ مسئلے کی تحت تک پہنچیں اورفرقہ پرست عناصر کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنادیں ۔ یہی تقاضائے وقت بھی ہے ، عمدہ حکمت عملی بھی ہے اور مفاد شریعت اسلامیہ بھی ۔

نفاذ یکساں سول کوڈ کے امکانات Read More »

مسلم دھرم گرو

نام نہاد”مسلم دھرم گرو” اسلام کا دفاع کرتے ہیں یا توہین ؟

اسلام کی اہانت گناہ کبیرہ ہے اس سے تقریباً ہم سب واقف ہیں لیکن کیا کوئی مسلمان ایسا کرتا ہے ؟ ہاں ایسا کرتا ہے اور اسے سمجھنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سمجھنا ضروری ہے:

نام نہاد”مسلم دھرم گرو” اسلام کا دفاع کرتے ہیں یا توہین ؟ Read More »

رد عمل کی پالیسی کیوں

ردعمل کی پالیسی ہی کیوں !

مسلم پرسنل لاء ( نکاح، فسخ، طلاق، خلع اور تقسیم وراثت وغیرہ) کا حق آئین ہند نے مسلمانوں کو اسی طرح دیا ہے جس طرح غیر مسلموں کو ہندو پرسنل لاء کا دستوری حق حاصل ہے ۔ اس کے خلاف قانون سازی سے ہندوستان کے متعدد فرقے اور قبائل کے شخصی قوانین رسم ورواج متاثر ہوں گے ۔ وہ لوگ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے ہیں شاید اس لئے کہ :

ردعمل کی پالیسی ہی کیوں ! Read More »

Uniform civil code

یونیفارم سول کوڈ: سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے

لا کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالات پر اپنے جوابات تیار کرنا اور اعتراضات پیش کرنا نیز متعلق ادارے کے سامنے جاکر اپنا کھلا موقف واضح کرنا یقینا ضروری امر ہے لیکن اس سے زیادہ نا گزیر یہ ہے کہ الگ الگ قبیلوں کے ذمہ داران سے جاکر بامقصد ملاقات ہو اور مشترک موقف تشکیل پائے، اس میں سیاسی چہروں کو قریب کرنے کے بجائے سماجی اثر رکھنے والی شخصیات کو ساتھ لایا جائے اور متحدہ فلیٹ فارم تیار کیا جائے پھر اس میں قیادت کی کرسی غیروں کے حوالہ کر کے پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر مقابلہ کیا جائے تو اس کے مضبوط نتائج اور موجودہ حالات میں مفید اثرات مرتب ہو سکیں گے۔

یونیفارم سول کوڈ: سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے Read More »

Yoga Diwas

یوگا کے شرکیہ اثرات سے امت کو کیسے بچائیں؟

ابھی حال میں کچھ دینی مدارس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں طلبہ کو یوگا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس پر کافی ہنگامہ ہوا۔ سوشل میڈیا میں ان مدارس کے منتظمین اور اساتذہ پر دینی بے غیرتی کی تہمتیں لگائی گئیں۔ ایسے فتوے بھی سامنے آئے جن کی رو سے ’’اگر کوئی مسلمان’ یوگا‘ یا اس جیسے کفریہ ‘ شرکیہ عمل میں شریک ہو یا اس کی تعریف و تحسین کرے یا نماز جیسی عبادت کے مقابلہ میں اس کو روحانی و جسمانی صحت کا ضامن تصور کرے یا اس کی تعظیم میں کوئی فعل کرے تو وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، اس پر تجدید ایمان لازم و ضروری ہوگا اور اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم و ضروری ہوگا۔‘‘

یوگا کے شرکیہ اثرات سے امت کو کیسے بچائیں؟ Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔