ستم یہ ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے !

آج کی مجلس میں اس ملک کی سالمیت کے لیے اور امن و شانتی کے لیے اور لوگوں کو مانوتا اور انسانیت بتانے کے لیے ہم مفکر اسلام حضرت علی میاں ندوی رح کے دل کی آواز اور درد کو ان کی تقریروں سے پیش کریں گے اور ہم اپنے قارئین سے یہ درخواست کریں گے،کہ اس کا ہندی ترجمہ اور انواد کرکے سماج کے مہذب طبقہ اور انسانیت نواز و امن پسند لوگوں تک بھیجیں اور انہیں بتائیں کہ ملک و قوم کی فکر کریں ورنہ کشتی ڈوبے گی تو کشتی کے ہم سارے مسافر غرق ہو جائیں گے ،ہلاک اور برباد ہو جائیں گے۔

ستم یہ ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے ! Read More »

سنبھل میں مسلمانوں کے خلاف پولیس کا ظالمانہ رویہ

وطن عزیز میں مسلمانوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، جان،مال اور آبرو حملوں کی زد میں ہیں،مساجد کی بے حرمتی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔آر ایس ایس اور ہندوتوا کی سوچ پر مبنی مودی حکومت کے زیر سایہ مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔

سنبھل میں مسلمانوں کے خلاف پولیس کا ظالمانہ رویہ Read More »

الیکشن کے نتائج اور مذہبی طبقہ کا رویہ

جب سے شعور کی انکھیں کھولی ہیں تقریبا 30 سالوں سے یہ دیکھتے ہیں آیا ہوں کہ جب بھی کوئی انتخاب ہوتا ہے تو اکثر مذہبی جماعت اپنے درمیان غور و فکر کرنے کے بعد اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حمایت میں ایک بیان جاری کر دیتے ہیں اور اپنی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان امیدواروں کو ووٹ دے کر انہیں جتائیں. اس طرح کی اپیل جاری کرنے کے پیچھے اصل منشا یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح سے فرقہ پرست امیدواروں کو اور فرقہ پرست جماعتوں کو شکست دی جا سکے.

الیکشن کے نتائج اور مذہبی طبقہ کا رویہ Read More »

شبینہ جلسوں کا رواج اور اس کی حقیقت

شبینہ جلسے، یعنی رات بھر جاری رہنے والے اجتماعات، ہندوستان اور نیپال کے چند علاقوں میں مدارس کے چندے کے لئے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان جلسوں کا بنیادی مقصد بظاہر دینی شعور پیدا کرنا اور مدارس کے لئے مالی امداد جمع کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک عام روایت بن چکی ہے، جہاں دینی تقاریر اور نعت خوانی کے ذریعے عوام کو متأثر کیا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ چندہ دیں۔

شبینہ جلسوں کا رواج اور اس کی حقیقت Read More »

وزیراعلی ممتا بنرجی کے نام کھلا مکتوب

با ادب گزارش ہے کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی، شاخ اسلام پور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ادبی و ثقافتی پروگراموں میں ضلع اتر دیناج پور کے مقامی اردو قلم کاروں، مصنفین، محققین اور اردو اساتذہ کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ مقامی اصحابِ زبان و ادب کے لیے نہایت مایوس کن ہے اور اس سے مقامی اہلِ علم کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

وزیراعلی ممتا بنرجی کے نام کھلا مکتوب Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔