از:- محمد عادل ارریاوی
__________________
کسی لڑکی کا رشتہ طے کرتے وقت اکثر یہ الفاظ سننے کو ملتا ہے ۔ کیا سچ میں واقعی صرف دولت ہی خوشیوں کی ضمانت ہے؟ کیا مال و دولت انسان کے کردار اخلاق اور خوفِ خدا کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟ بیٹی کی شادی صرف ایک رسم یا مالی لین دین نہیں ہے بلکہ ایک امانت کو کسی کے سپرد کرنا ہے بیٹیاں نازک دل رکھتی ہیں خواب دیکھتی ہیں عزت اور محبت کی طلبگار ہوتی ہیں وہ کوئی سودا نہیں ہوتیں کہ دولت دیکھ کر ان کا مستقبل طے کر دیا جائے جب ایک لڑکی کو ایسے گھر بھیج دیا جاتا ہے جہاں دین اخلاق اور انسانیت کی قدر نہ ہو تو پھر وہی دولت بے معنی ہو جاتی ہے اگر شوہر کے دل میں رحم نہ ہو زبان میں نرمی نہ ہو اور عمل میں انصاف نہ ہو تو وہ گھر جنت نہیں بلکہ قید خانہ بن جاتا ہے مار پیٹ ظلم و جبر اور تحقیر یہ سب اس وقت جنم لیتے ہیں جب انسان کے دل سے خدا کا خوف نکل جاتا ہے۔
ذرا سوچیں!
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو انسان نہیں بلکہ غلام یا جانور سمجھتا ہے تو کیا صرف اس کی دولت اس ظلم کا مداوا کر سکتی ہے؟ کیا ماں باپ اس دن سکون سے سو پائیں گے جب ان کی بیٹی آنسوؤں میں ڈوبی ہوگی؟
خدارا اپنی بیٹیوں کو صرف اس بنیاد پر کسی کے حوالے نہ کریں کہ وہ مالدار ہے اصل دولت کردار ہے اصل طاقت تقویٰ ہے اصل ضمانت خوفِ خدا ہے۔ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکا دیندار ہے کی نہیں بس پیسا دیکھا گاڑی دیکھا بنگلا دیکھا اور بیٹی کی زندگی کا فیصلہ کردیا ۔
وہ شخص جو خدا سے ڈرتا ہے وہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور جو بندوں پر ظلم کرتا ہے اسے ایک دن اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونا ہی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مصری باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت نہایت محبت اور وقار کے ساتھ نصیحت کر رہا تھا اس نے بیٹی کا ہاتھ تھاما اور بڑے سکون سے کہا
بیٹی ہم نے تمہارا رشتہ ایک انسان کے بیٹے سے طے کیا ہے ہم نے اسے اس یقین کے ساتھ منتخب کیا ہے کہ وہ کردار اخلاق اور انسانیت میں کامل ہوگا لیکن اگر کبھی تمہیں محسوس ہو کہ وہ انسان نہیں بلکہ درندگی پر اتر آیا ہے تمہاری عزت وقار اور جذبات کی قدر نہیں کرتا تو یاد رکھنا یہ گھر آج بھی تمہارا ہے بے جھجھک واپس آ جانا۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ تھا کہ بیٹی کی عزت اور سلامتی ہر رسم و رواج سے بڑھ کر ہے شادی کا مطلب یہ نہیں کہ بیٹی کو ہر حال میں ظلم سہنے پر مجبور کر دیا جائے اگر رشتہ انسانیت سے خالی ہو جائے تو واپسی میں کوئی عار نہیں۔
کیونکہ بیٹی بوجھ نہیں عزت ہوتی ہے اور عزت کو کسی بھی حال میں پامال ہونے کے لیے نہیں چھوڑا جاسکتا یاد رکھیں بیٹی رحمت ہوتی ہے۔
اسے کسی ایسے ہاتھ میں دیجئے جو اسے عزت دے محبت دے تحفظ دے نہ کہ ایسا ہاتھ جو اس کی روح کو زخمی کر دے۔
اللہ ہم سب کو اپنی امانتوں کی صحیح حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قیامت کے دن شرمندگی سے بچائے آمین یارب العالمین