نئی دہلی: سیل رواں ڈیسک
ملک میں ایل پی جی سلنڈروں کی دستیابی کو لے کر عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گیس کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود کئی شہروں میں لوگوں کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے کے بعد بھی سلنڈر نہیں مل پا رہے۔ اس صورتحال کے درمیان دہلی کے مختلف علاقوں میں گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کا چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔
ایک میڈیا ٹیم کی جانب سے کیے گئے اسٹنگ آپریشن میں معلوم ہوا کہ شہر کے کئی مقامات پر بڑی تعداد میں ایل پی جی سلنڈر ذخیرہ کرکے مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ کہیں یہ سلنڈر دکانوں میں رکھے گئے تھے، تو کہیں جھگیوں یا گھروں میں چھپا کر رکھے گئے تھے۔ اس غیر قانونی کاروبار سے نہ صرف عام صارفین کو لوٹا جا رہا ہے بلکہ یہ عمل حفاظتی اعتبار سے بھی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
تحقیقات کے دوران شمالی دہلی کے نریلا علاقے میں واقع ایک مکان میں تقریباً 50 ایل پی جی سلنڈر رکھے ہوئے پائے گئے۔ بظاہر عام نظر آنے والے اس مکان کے اندر دراصل غیر قانونی گیس کاروبار کا اڈہ چل رہا تھا۔ ابتدا میں وہاں موجود شخص نے سلنڈر دینے سے انکار کیا، لیکن بعد میں اس نے اشارہ دیا کہ بغیر بُکنگ سلپ کے بھی سلنڈر فراہم کیا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ ادائیگی صرف نقد لی جاتی ہے تاکہ لین دین کا کوئی ریکارڈ نہ بن سکے۔
اسٹنگ آپریشن کے دوسرے مرحلے میں جنوبی دہلی کے جسولا وہار میں بھی اسی طرح کی سرگرمی سامنے آئی۔ یہاں ایک ایل پی جی ایجنسی کے قریب جھگیوں میں بڑی تعداد میں سلنڈر جمع کرکے رکھے گئے تھے۔ پوچھ گچھ کے دوران ایک ڈیلیوری ملازم نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات ہر سلنڈر سے آدھا کلو سے لے کر تین چوتھائی کلو تک گیس نکال لی جاتی ہے، جس کی وجہ سے خریداروں کو مہنگے داموں پر بھی کم گیس ملتی ہے۔
اسی طرح سنگم وہار میں بھی بلیک مارکیٹنگ کا منظم نیٹ ورک سامنے آیا۔ یہاں دکانوں میں سلنڈر خفیہ طور پر فروخت کیے جا رہے تھے اور پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے دکانوں کے شٹر بند رکھے جاتے تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ چھوٹے سلنڈروں میں غیر قانونی طریقے سے گیس بھری جا رہی ہے اور بعض دکاندار 150 روپے فی کلو کے حساب سے گیس بھرنے کی پیشکش کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ ملک میں ایل پی جی کی طلب بڑھنے اور سپلائی کے حوالے سے خدشات کے باعث حکومت نے حال ہی میں گھریلو سلنڈر کی کم از کم ڈلیوری مدت 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کر دی ہے، جبکہ ایک خاندان کو سالانہ 15 سلنڈر تک کی حد برقرار رکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی صورتحال اور گھبراہٹ میں کی جانے والی خریداری نے بھی گیس کی دستیابی پر اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر بلیک مارکیٹنگ کو فروغ ملا ہے۔ م