دو روزہ جلسۂ دستاربندی کامیابی سے اختتام پذیر

علمائے کرام کے ہاتھوں 31 حفاظ کی دستاربندی، قرب و جوار کے علما، دانشوروں اور عوام کی کثیر تعداد میں شرکت، حاضر مقررین کے مؤثر اور بصیرت افروز خطابات

رپورٹ: نمائندہ سیل رواں

مدرسہ سراج العلوم، انور گنج نندنیاں (ضلع پورنیہ، بہار) کی جانب سے فارغینِ حفاظ کرام کے اعزاز میں منعقد دو روزہ جلسۂ دستاربندی بحمد اللہ نہایت کامیابی، عمدہ نظم و ضبط اور روح پرور ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ باوقار دینی اجتماع 14 اور 15 جنوری 2026ء (بروز بدھ و جمعرات) کو مدرسہ کے قریب وسیع و عریض میدان میں منعقد ہوا، جہاں دینی سنجیدگی اور روحانی تاثیر کا ماحول قائم تھا۔

جلسہ کی صدارت مدرسہ کے مہتمم اور معروف عالمِ دین مفتی توقیر عالم قاسمی نے فرمائی۔ اس موقع پر ملک بھر سے ممتاز علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی، جن میں بالخصوص نائب امیر شریعت مفتی سید محمد سلمان منصورپوری (استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند)، مفتی محمد سہراب عالم ندوی(امارتِ شرعیہ، پٹنہ)، مولانا محمد ناظم قاسمی(جنرل سیکریٹری، جمعیۃ علماء بہار)، مفتی مطیع الرحمن قاسمی (مدرسہ رحمانیہ کھپڑا) مفتی محمد اطہر جاوید (رکن ضلع پریشد، کشن گنج) اور مفتی اسرار الحق قاسمی (ناظم دارالعلوم امامیہ، ست بھٹہ) قابلِ ذکر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قرآن پاک کا تاریخی اعجاز

31 حفاظِ کرام کی دستاربندی اور اس کی دینی اہمیت

اس دو روزہ پروگرام میں 31 حفاظِ کرام کی دستاربندی نہایت وقار اور پُراثر انداز میں علمائے کرام کے مبارک ہاتھوں انجام پائی۔ مقررین نے واضح کیا کہ دستاربندی محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ یہ قرآن کے حاملین کے اعزاز، ذمہ داری اور اعتماد کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حافظِ قرآن اب معاشرے میں قرآن کا نمائندہ اور اس کے عملی پیغام کا امین ہے، جس پر کردار، اخلاق اور عمل کے حوالے سے مزید ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

مقررین میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مفتی دانشور انور قاسمی (مقام گسترہ)، مفتی معز الدین قاسمی (امام جامع مسجد باڑا عیدگاہ)، مفتی اسرار الحق قاسمی (ست بہٹہ) اور مفتی جنید احمد قاسمی (شہریا) بھی شامل تھے، جن کے بصیرت افروز اور فکر انگیز خطابات نے حاضرین کو دینی ذوق اور احساسِ ذمہ داری سے سرشار کر دیا۔

قلیل مدت میں مدرسہ کی نمایاں پیش رفت اور انتظامی حسن

علمائے کرام نے اپنی تقاریر میں اس حقیقت پر خصوصی روشنی ڈالی کہ مدرسہ سراج العلوم، انور گنج نندنیاں نے قلیل عرصے میں جو تعلیمی اور ادارہ جاتی ترقی کی ہے وہ غیر معمولی ہے۔ محدود وسائل اور مختصر مدت کے باوجود ادارے کا نظم، تعلیمی معیار اور دینی ماحول اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں کام محض جذبات پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی، محنت اور اخلاص کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اسی تناظر میں مقررین نے مہتممِ مدرسہ مفتی توقیر عالم قاسمی کی انتظامی بصیرت، قیادت اور عوامی رابطوں کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی صاحب نہ صرف ایک سنجیدہ عالمِ دین ہیں بلکہ ایک فعال منتظم بھی ہیں، جو ادارے کے داخلی نظم و نسق کے ساتھ ساتھ اہلِ علاقہ، سرپرستوں اور اربابِ خیر سے مضبوط تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ کو عوامی اعتماد حاصل ہے اور تعاون کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ جلسۂ دستاربندی کی شاندار ترتیب، مہمانوں کی باوقار میزبانی، پروگرام کا تسلسل اور ہر مرحلے کی خوش اسلوب انجام دہی دراصل ان کی براہِ راست نگرانی اور مؤثر قیادت کا عملی مظہر تھی۔

علمائے کرام نے مزید کہا کہ مفتی توقیر عالم قاسمی صاحب کی محنت اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مدرسہ کی تعمیرِ نو، توسیع اور جدید تقاضوں کے مطابق انتظامات ممکن ہوئے، جس کے نتیجے میں یہ ادارہ آج پورنیہ اور اطراف کے علاقوں میں ایک معتبر دینی مرکز کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ یہاں کے فارغینِ حفاظ مختلف علاقوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ادارے کی تربیتی کامیابی کا روشن ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: العاملین علیہا زکوٰۃ کا ایک مصرف

اختتام، دعا اور اظہار تشکر:

جلسہ کا آخری خطاب اور رقت آمیز دعا نائب امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد سلمان منصورپوری صاحب استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے فرمائی، جس کے دوران پورا مجمع خشوع و خضوع کے ساتھ دعا میں شریک رہا۔

جلسہ کی نظامت کے فرائض مولانا محمد نعمان صادق مظاہری (روٹا ہائی اسکول، پورنیہ) اور مولانا محمد اشفاق عالم قاسمی (مقام سلتا، پورنیہ) نے نہایت حسنِ ترتیب، وقار اور خوش بیانی کے ساتھ انجام دیے، جسے حاضرین نے دل کھول کر سراہا۔

آخر میں مہتممِ مدرسہ مفتی توقیر عالم قاسمی نے تمام مہمانانِ گرامی، علمائے کرام، حفاظِ کرام، ان کے سرپرستوں، اہلِ علاقہ اور تعاون کنندگان کا شکریہ ادا کیا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی، قبولیت اور دینِ اسلام کی خدمت کا مضبوط مرکز بنائے رکھے۔

مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ "مدرسہ سراج العلوم آج پورنیہ اور بہار میں دینی تعلیم کا ایک ابھرتا ہوا روشن مینار ہے” اور اس کی پشت پر سنجیدہ قیادت، منظم محنت اور عوامی اعتماد کار فرما ہے۔

اللہ تعالیٰ اس ادارے اور اس سے وابستہ تمام افراد کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔