✍️: محمد عادل معاذ ندوی
کشف الظنون میں حاجی خلیفہ نے ایک فقہی متن کا ذکر کیا ہے، جس کا نام ہے ”تحفة الفقهاء“، امام علاء الدین سمرقندی کی تصنیف ہے، فقہ حنفی میں بہت مقبول اور متداول متن ہے، اور مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اس کتاب کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ، کبھی کسی کتاب کے بارے میں یہ بات سننے میں نہیں آئی ہوگی کہ کسی فقیہ نے اپنے استاذ فقیہ کی فقیہہ بیٹی سے شادی کرنے کے لئے استاذ کی تصنیف کردہ کتاب کی شرح لکھی ہو، یا کسی کتاب کی شرح لکھے جانے کے بعد ”صاحب متن“ نے خوش ہو کر شارح کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کردی ہو، اور اس شرح کے لکھنے کو بیٹی کے نکاح کا مہر بنادیا ہو، لیکن ایک ایسا واقعہ جس کتاب کے مصنف کے ساتھ منسوب ہے اس کتاب کا نام ہے ”تحفۃ الفقهاء“ اور مصنف کا نام علاء الدین سمرقندی ہے، اس واقعہ کو سمجھنے سے پہلے مصنف کی شخصیت اور کتاب کی اہمیت جان لینا زیادہ مفید ہوگا۔(کشف الظنون ٤١١/٢)
”تحفة الفقهاء“ کے مصنف کا نام محمد بن أحمد بن أبي أحمد، کنیت أبو بكر اور لقب علاء الدين ہے، اور سمرقندی نسبت ماوراء النہر کے ایک علاقہ سمرقند کی طرف ہے ، اپنے وقت زبردست عالم فقیہ اور اصولی تھے، آپ کی زندگی علم و فضل اور زہد و تقویٰ سے عبارت تھی، تاریخ و طبقات کی کتابوں میں آپ کی سن ولادت کے بارے میں کوئی ایسی روایت نہیں ملتی جس سے سن پیدائش کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا جاسکے، لیکن سن وفات تذکرہ نگاروں نے ٥٤٠ لکھا ہے ۔ علامہ سمرقندی نے فقہ حنفی میں گہری بصیرت حاصل کی تھی ، فقہ کی تعلیم ميمون المكحولى، على صدر الإسلام البزدوى اور ابو یعقوب نیشاپوری سے حاصل کی تھی، ”تحفۃ الفقہاء“ آپ کی مشہور و معروف کتاب ہے، اور اسی کتاب کے ذریعہ آپ کو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی، اس کتاب کی بنیاد ”مختصر القدوری“ پر رکھی گئی ہے، لیکن یہ کتاب ”مختصر القدوری “ کی باقاعدہ شرح نہیں ہے، بلکہ ایک مستقل تصنیف ہے، اس کے ذریعے علامہ سمرقندی نے فقہی مسائل کے بیان میں جہاں ضرورت محسوس ہوئی اضافہ کیا ہے، قدوری میں رہ جانے والے پہلوؤں کو مکمل کیا ہے اور مشکل مقامات کی وضاحت دلائل کے ساتھ کی ہے۔(کشف الظنون ٤١١/٢)
یہ کتاب اگرچہ بظاہر ایک مبسوط متن ہے، لیکن اس کی عبارت نہایت سادہ، واضح اور سہل ہے، جس کی وجہ سے قاری کو نہ الفاظ میں الجھن پیش آتی ہے اور نہ معانی تک رسائی حاصل کرنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے۔ اس کتاب کی نمایاں خصوصیت علامہ سمرقندی کا منفرد اسلوب اور حسن ترتیب ہے۔ جس تعریف ان کے شاگرد امام کاسانی نے بھی کی ہے اور ان کے اس اسلوب کو سراہا ہے اور اس کتاب کو اپنی مشہور تصنیف ”بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع“ میں متن کی حیثیت اختیار کیا ہے۔(کشف الظنون ٤١١/٢)
علامہ کاسانی لکھتے ہیں ”اس فن (علم فقہ) کی ترغیب و تحریص میں وارد ہونے والی احادیث و آثار اس قدر کثیر ہیں کہ شمار سے باہر ہیں۔ ہمارے اسلاف نے قدیم و جدید ہر دور میں اس علم پر بے شمار کتابیں تصنیف کیں، اور سب نے اپنے اپنے طور پر گراں قدر خدمات انجام دیں اور عمدہ کاوشیں پیش کیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگوں نے اس فن کی ترتیب و تنظیم پر خاص توجہ دی۔ یہ امتیاز میرے استادِ گرامی، سنت کے سچے وارث اور اس کے امین، زاہد و امام، علامہ سمرقندی کو حاصل ہے، جنہوں نے اس علم کو نہ صرف مرتب کیا بلکہ اسے ایک باقاعدہ اور مربوط صورت عطا کی۔ چنانچہ میں نے بھی انہی کے نقشِ قدم کی پیروی کی، اور اسی اقتدا میں اپنی راہ پائی اور منزل تک رسائی حاصل کی“۔( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ١ /٢)
علامہ علاء الدین سمرقندی خود بھی جلیل القدر فقیہ تھے اور انکی ایک صاحبزادی ”فاطمہ بنت علاء الدین “ بھی فقیہہ تھیں، تعلیم انہوں نے اپنے والد علامہ سمرقندی سے حاصل کی تھی اور فقہ کے میدان میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کرلی تھی، والد کی لکھی ہوئی کتاب ”تحفۃ الفقہاء“ پوری زبانی یاد تھی، علامہ سمرقندی جب کوئی فتویٰ لکھتے تھے تو فتوی پر بیٹی کی بھی دستخط لیتے تھے، نیک صالح اور پاکباز خاتون تو تھیں ہی ، حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھی، یہاں تک کہ ان سے شادی کے لیے روم کے حکمرانوں نے رشتہ کی درخواست کی تھی، لیکن علامہ سمرقندی کا ایک لائق شاگرد جن کا نام ابوبکر بن مسعود تھا، اور جو بعد میں علامہ کاسانی کے نام سے مشہور ہوئے، اس شاگرد نے فقہ حنفی کی تعلیم اپنے استاد علامہ سمرقندی سے حاصل تھی اور اتنی گہری مہارت پیدا کرلی تھی کہ استاذ کی کتاب ”تحفۃ الفقهاء “ کی مبسوط شرح لکھ ڈالی، اور ایسی شرح جو آج تک فقہ حنفی میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، اس شرح کا نام ”بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع“ ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے، شرح مکمل کرنے کے بعد اپنے استاذ کے سامنے پیش کیا، علامہ سمرقندی اس شرح سے اتنا خوش ہوئے کہ انہوں نے اپنی ”فقیہہ“ بیٹی کا ہاتھ شاگرد کے ہاتھ میں دے دیا، اور اسی شرح کو مہر بنادیا، تقریباً سبھی تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ ان کے عہد میں مشہور تھا”شرح تحفته وتزوج ابنته“ استاذ کی کتاب کی شرح لکھی اور بیٹی سے شادی کرلی۔ (الفوائد البهية للإمام اللكنوي ص ٥٣)
علامہ سمرقندی کی صاحبزادی فاطمہ کی علمی بصیرت کا درجہ اتنا بلند تھا کہ بسا اوقات امام کاسانی کی علمی غلطیوں کی اصلاح کردیا کرتی تھیں، اب تک فتووں پر صرف علامہ سمرقندی اور انکی صاحبزادی فاطمہ کے دستخط ہوتے تھے، لیکن امام کاسانی کی شادی کے بعد تین لوگوں کے دستخط ہونے لگے، ایک دستخط امام کاسانی کا بھی شامل ہوگیا، اس سے جہاں ایک طرف امام کاسانی کا علمی مقام ظاہر ہوتا ہے وہیں علامہ سمرقندی کی جوہر شناسی، علم کی قدردانی اور ان کے غیر معمولی تواضع کی بھی دلیل ہے.(الفوائد البهية للإمام اللكنوي ص ٥٣)
امام سمرقندی کا زیادہ وقت اپنے وطن میں گذرا جبکہ امام کاسانی حلب میں جاکر مقیم ہوگئے تھے، سلطان نور الدین محمود نے مدرسہ ”حلاویہ“ کی ذمہداری بھی آپ کو سونپ دی تھی ، وہاں آپ کو اتنی مقبولیت حاصل ہوگئی تھی کہ جب بیوی نے آپ سے ”حلب “ کو چھوڑ کر وطن چلنے کی درخواست کی، اور بیوی کی عزت و احترام کے پیش نظر آپ نے سفر کا ارادہ کرلیا تو نور الدین محمود نے ”حلب“ میں ہی قیام کرنے پر اصرار کیا، لیکن امام کاسانی شیخ کی فقیہہ بیٹی کی خواہش کے احترام میں بادشاہ کے لئے بیوی کی مخالفت پر دل کو آمادہ نہ کرسکے، بادشاہ سے عرض کیا کہ آپ کسی خادم کے ذریعہ میری اہلیہ”حضرت فاطمہ“ سے بات کرکے ان کو رکنے پر راضی کرلیں تو ہم رک جائیں گے، بادشاہ نے ایک خادمہ کے ذریعے ”حضرت فاطمہ “ سے بات کی اور بالآخر وہ حلب میں قیام کرنے پر راضی ہوگئیں، چنانچہ امام کاسانی بیوی کے ساتھ تاحیات حلب میں مقیم رہے اور وہیں مدفون ہوئے، وفات کے بعد ان دونوں کی درگاہ زائرین کے لئے ایک بابرکت مقام اور زیارت گاہ میں تبدیل ہوگئی، اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں ۔(کتائب أعلام الأخيار للكفوي ــ ج٢ ــ٣٦٥)