اجلاس مجلس عاملہ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا فیصلہ؛ متاثرین کے حقوق کے لیے تمام آئینی و قانونی فورم سے رجوع کیا جائے گا۔
دہلی، 23 ستمبر 2026: جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس آج محمودیہ لائبریری، مرکزی دفتر جمعیۃ علماءہند، نئی دہلی میں منعقد ہوا جس کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کی۔ اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سمیت ملک کے مختلف حصوں سے مجلس عاملہ کے ارکان نے شرکت کی۔
ارکانِ عاملہ نے ملک کی موجودہ صورتِ حال، دستورِ ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، شریعت میں مداخلت کی کوششوں، عبادت گاہوں، مساجد اور مدارسِ اسلامیہ کو درپیش مسائل سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اس سے قبل سابقہ کارروائی کی خواندگی ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی جس کی صدرِ اجلاس نے توثیق فرمائی۔
مجلس عاملہ نے مختلف ریاستوں میں انتظامیہ کے اقدامات، بالخصوص شہری و مذہبی حقوق سے متعلق پیدا ہونے والی صورتِ حال، ماب لنچنگ، بلڈوزر کارروائیوں اور مساجد و مدارس کے انہدام کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا اور طے کیا کہ ان معاملات کو اعلیٰ آئینی سطح پر اٹھایا جائے گا اور صدرِ جمہوریہ ہند سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا جائے گا، تاکہ ان کے سامنے متاثرین کے احساسات اور شکایات تفصیل کے ساتھ پیش کی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ آئینی اور قانونی فورمز سے بھی رجوع کیا جائے گا، تاکہ متاثرین کی آواز، انصاف اور دستورِ ہند کے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کے فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرکار کی جانب سے یک طرفہ کارروائیوں اور متعدد معاملات میں انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کے باعث متاثرین کے لیے عدالتی ذرائع سے مؤثر قانونی چارہ جوئی کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر کسی ایک کمیونٹی کے خلاف یک طرفہ کارروائیاں ہوں اور انہیں انتظامی سطح پر سرپرستی حاصل ہو تو یہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک مقام یا کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے اس نوعیت کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ تمام دستیاب آئینی اور قانونی ذرائع سے رجوع کیا جائے گا۔مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم ملک کے مسلمانوں اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مایوس ہونے، خوف زدہ ہونے یا ہمت ہارنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمیں عزم، حوصلے اور آئینی طریقے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ کرنا ہمارا بنیادی حق ہے۔ ان حقوق کے حصول اور تحفظ کے لیے دستورِ ہند نے جو بھی راستے اور ذرائع فراہم کیے ہیں، جمعیۃ علماء ہند ان تمام آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع کو اختیار کرے گی اور اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اس کے علاوہ مجلس عاملہ میں دیگر تنظیمی فیصلے بھی ہوئے ۔
اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی، ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری شوکت علی، صدر مجلسِ قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ میر کشمیری، نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری، استاذ دارالعلوم دیوبند، مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی، مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیۃ علماء مغربی بنگال، مولانا عبدالقوی صدر دینی تعلیمی بورڈ صوبہ تلنگانہ و آندھرا پردیش، مفتی جاوید اقبال قاسمی صدر جمعیۃ علماء بہار، مولانا راشد اعظمی استاذ دارالعلوم دیوبند، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و ناظمِ اعلیٰ مفتی شمس الدین قاسمی بجلی، مولانا کلیم اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت صدر جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی، مولانا محمد ناظم قاسمی ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء بہار، مولانا حبیب الرحمن مئو ائمہ صدر جمعیۃ علماء الہ آباد، مولانا محمد یحییٰ کریمی ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش، مولانا سعید احمد حبیب پونچھ، مولانا عبدالقادر آسام نائب صدر جمعیۃ علماء آسام، مولانا ابراہیم صدر جمعیۃ علماء کیرلا، مولانا عبداللہ معروفی استاذ دارالعلوم دیوبند، مفتی عبدالرزاق دارالعلوم دیوبند اور مولانا محمد عمر بنگلوری ناظمِ تنظیم جمعیۃ علماء ہند (جنوب) نے شرکت کی۔