قاری احمداللہ قاسمی: تری عظمتوں سے روشن یہ تمام انجمن ہے

✍️ سرفرازاحمد قاسمی،حیدرآباد

_____________________

تیری عظمتوں سے روشن یہ تمام انجمن ہے۔
توچراغ بزم دل ہے توہی رونق چمن ہے۔
ترا فیض ہرطرف ہے تو نمونہ سلف ہے۔
توامام زہدو تقوی تری ذات ذوالمنن ہے۔
ترے میکدے میں ساقی نہ سبو نہ جام و مینا
جو تری نظر سے پی لے وہی وقت کا حسن ہے۔

       اشک بار آنکھیں، بجھے ہوئے دل، غمزدہ چہرے،درد و کرب میں ڈوبے ہوئے احساسات،آہیں،سسکیاں،تعزیتی جلسے،منظوم و منثور خراج تحسین، مدارس دینیہ کا اضطراب،اکابرعلماء اوراساتذہ کے تعزیتی پیغامات،جذبات سے لبریز تحریریں، طلبہ کی آہ و زاریاں اور ماحول کی اداسیاں اگر سامنے نہ ہو تو پھر یہ یقین کرنا مشکل ہوگا کہ ایک باغ و بہار اور نستعلیق شخصیت ہم سے ہمیشہ کےلئے جدا ہو گئی ہے ایک ایسی شخصیت جن پرصرف بھاگلپور اور بہار ہی نہیں بلکہ ہندوستان کو بھی  افتخارحاصل ہے،ہزاروں علماء کو انکی شاگردی اورانکے خوشہ چینوں کو اپنے مایہ ناز استاذ پر فخرہے اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے قرآن کریم سے لوگوں کا رابطہ اور تعلق مضبوط کیا،لوگوں کو قرآن کریم کی دعوت دی،قرآن کریم سے قریب کرنے کےلئے برسوں یعنی نصف صدی سے زائد عرصے تک مسلسل تگ ودو اور جدوجہد کی،لوگوں کو ترغیب اور توجہ دلائی کہ یہ قرآن جوام الکتاب ہے اسے مخارج وتجوید کی رعایت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کیاجائے،صحت قرآن کے معاملے میں انکے یہاں کوئی رعایت نہیں کی جاتی تھی،انھوں نےاس فکر کواپنا مشن اور اوڑھنا، بچھونا بنالیا تھا،انکی زندگی کا مقصد صرف یہ تھاکہ قرآن حکیم جس طرح نازل ہوا اسی طرح اہتمام کےساتھ اسے پڑھاجایے اورگاؤں گاؤں تک پھیلایاجائے،وہ اس مہم پر اخیر وقت تک گامزن رہے،اپنے حلقوں میں،دوستوں کی مجالس میں،شاگردوں کی نجی محفلوں میں اورجہاں تک وہ اپنی آواز پہونچاسکتے تھے وہاں تک انھوں نے اپنی آواز اور اپنا پیغام پہونچایا،پوری زندگی قرآن کی تبلیغ،ترویج اوراسکی اشاعت میں مصروف رہے اوراس کام کےلئے انھوں نے پوری قوت صرف کردی وہ قرآن  کریم کی اس آیت کے سچے مصداق تھے کہ قل لااسئلکم علیہ اجرا الخ
یعنی اس کام کےلئے میں تم سے کوئی بدلہ بالکل طلب نہیں کرتا اسکا بہتر بدلہ تو میرا رب عطاکرنے والا ہے۔
کوئی بھی وقت ہو،عنوان کچھ بھی ہو،ماحول کیسا بھی ہو جگہ وشہر کے مختلف ہونے کے باوجود وہ اپنے مشن سے کبھی غافل نہیں رہے،برابراسکی تبلیغ کرتے رہے،اسکی ترغیب ضرور دیتے، فن تجوید میں انھیں اختصاص حاصل تھا،عصرحاضر میں انھیں امام الفن کہناچاہئے اس فن کو بڑی محبوبیت کی نگاہ سے دیکھتے تھے،ایسی شخصیات یقینا صدیوں میں پیدا ہوتی ہے،اپنی بات مدلل انداز میں پیش کرتے،اسکےلئے وہ قرآنی آیات،احادیث مبارکہ،فقہاء و محدثین کے اقوال کا سہارا لیتے اور اسے مدلل فرماتے،انکے پاس پختہ علم تھا،کوئی تحریر لکھتے تو پہلے اس موضوع کا اچھی طرح مطالعہ کرتے پھر لکھتے جو لکھنا ہوتا،پچاس سال سے زائد انھوں نے قرآن کی خدمت کی لیکن اس نصف صدی میں آدھی عمر یعنی تقریبا پچیس سال سے مدرسے کی تنخواہ لینا بھی بند کردیا تھا،جامعہ ڈابھیل میں ایک عرصے تک اپنی جانب سے فری خدمات انجام دی، دنیا و مافیھا سے بے نیاز اور بالا ترہوکر وہ بلامعاوضہ اور بغیر تنخواہ کے خدمت انجام دیتے رہے،آج کے اس مادیت پرستی کے دورمیں ایسی مثال بہت کم ملتی ہیں، سرسے لیکر پاؤں تک نفاست کی اعلی مثال،خوش پوشاک،فکروخیالات کی ہم آہنگی وپاکیزگی، ہرہر ادا میں نزاکت، کمال معرفت سے بھراہوا مجسم پیکر، اکابر اور بزرگوں سے حد درجہ عشق ومحبت،مدنی خاندان کے دلدادہ وگرویدہ اپنے چھوٹوں کے بہتر مستقبل کےلئے، فکرمند، ناصح،خیرخواہ،دعاگو اور رہبر و رہنما،خورد نوازی میں ممتاز،قرآن وسنت کی ہدایات وتعلیمات پرگہری نظر رکھنے والا مرد مجاہد اور اپنے موقف پرمضبوطی سے ڈٹے رہنے والا منفرد شخص،سنت وشریعت کا پابند، قرآن کا ایک عظیم اوربے مثال خادم،طلباء واساتذہ کا یکساں محبوب،اسلاف دیوبند کا پاکیزہ ترجمان،خادم قرآن، عاشق قرآن اورتالی قرآن حضرت مولانا قاری احمداللہ قاسمی،بھاگلپوری،رب انکی مغفرت فرمائے درجات کوبلند فرمائے اورانکی قبر کو نور سے منور فرمائے۔
جی ہاں گذشتہ 10 فروری 2024 ہفتے کے دن صبح 8/9 بجے جب یہ افسوسناک خبر سوشل میڈیا اور موبائل کے اسکرین پر اکثر حلقوں میں انتہائی برق رفتاری کے ساتھ باربار گشت کرنے لگی کہ”نہایت ہی غم ناک خبر ابھی موصول ہوئی ہے کہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل گجرات،انڈیا کے قدیم و مؤقر استاذ،استاذ الاساتذہ قاری ومقری حضرت مولانا احمد اللہ صاحب قاسمی بھاگلپوری جوار رحمت الہی میں پہونچ گئے ہیں تمام ہی بھائیوں سے گذارش ہے کہ دعاء وایصال ثواب کا اہتمام فرمائیں،اناللہ وانا الیہ راجعون!!”
اس خبر کے ساتھ ایک آڈیو بھی زیر گشت تھی، جس میں غالبا حضرت قاری صاحب کے کسی خادم کی آواز تھی، اس میں یہ کہاجارہا تھا کہ "حضرت قاری صاحب کی طبیعت ابھی الحمدللہ بہتر ہے،ابھی حضرت باحیات ہیں اورآئی سی یو میں ہیں احباب  صحت یابی کی دعاء فرمائیں اور ہاسپٹل تک آنے کی زحمت نہ کریں” تو ظاہر ہے جب یہ دو الگ الگ خبریں گشت کر رہی تھیں توایسے میں کسی ایک خبر پر بغیر تصدیق کے کیسے یقین کیا جاسکتا تھا؟ اوریہ یقین کرنا کتنامشکل تھا؟ لہذا لوگ پس و پیش اور تجسس میں مبتلا ہوگئے،خبرکی تحقیق وتصدیق کرنے لگے،بہت سارے احباب پرسنل یہ میسج کرکے مجھ سے بھی اس کی تصدیق چاہنے لگے کہ کیا یہ خبر درست ہے؟ لگاتار کئی لوگوں کے فون بھی آنے شروع ہوگئے کہ اس خبر کی کیا حقیقت ہے؟ یہ خبر عام ہوتے ہی دماغ پر ایک زورکا جھٹکا لگا،اول وہلے میں میرے لئے بھی یقین کرنا خود مشکل تھا،میں نے تصدیق کےلئے حضرت کے چھوٹے فرزند قاری سعداللہ صاحب کو مسلسل کئی بارکال کیا،جو قاری صاحب کے تعلق سے ہمیشہ اپڈیٹ دیتے رہتے تھے انتقال سے ایک دو روز قبل بھی انھوں نے بذریعہ واٹس ایپ یہ اطلاع دی تھی کہ حضرت کے پیرکے انگوٹھے کا آپریشن کامیاب ہوگیاہے الحمدللہ مزید دعائے صحت کی درخواست ہے،اس خبرسے کچھ حدتک اطمینان ہوچلا تھا لیکن اچانک جب یہ خبرعام ہوئی ،تو درست صورت حال معلوم کرنے کےلئے میں نے انھیں فون کیا،لیکن فون رسیو نہیں ہوا،پھرحضرت کے خادمین قاری اسحاق صاحب اور قاری عبدالرحمان صاحب ان دونوں حضرات کو فون لگایا تو وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں آیا،ایسی حالت میں کون کیا جواب دیتا جبکہ سب کے سب پریشان ہوں اور ایک ہی حالت سے دوچارہوں،کوئی جواب ملا نہ کچھ معلوم ہوسکا،فیسبک اوپن کیا توحلقہ یاراں میں شامل محترم قاری "رضوان نسیم” صاحب کی اس پوسٹ پر نظر پڑی جس میں حضرت کے انتقال کی خبر دی گئی تھی،میں نے ان سے تصدیق چاہی اوریہ پوچھا کہ کیا یہ خبر مصدقہ ہے؟انھوں نے جواب دیا ‘جی بالکل ہم متوسلین حضرت ہیں’اس جواب کے بعد بے ساختہ زبان پر اناللہ الخ جاری ہوگیا،11 جنوری کو اگلے دن دارالعلوم حیدرآباد میں ختم بخاری کا پرو گرام تھا،اس پروگرام میں شرکت کےلئے میں وہاں حاضر ہوا تو پروگرام کے اختتام کے بعد دارالعلوم حیدرآباد کے شیخ الحدیث حضرت مولانا انصارصاحب کی خدمت میں ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا تو وہ بھی حضرت قاری صاحب کے انتقال پر غمگین تھے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پایا،مجھ سے فرمانے لگے کہ قاری صاحب کے ساتھ ڈابھیل میں اور کون کون مقیم تھے؟ میں نے کہا کہ اہلیہ اور چھوٹے بیٹے قاری سعداللہ صاحب وہیں ہیں،فرمایا فون لگاؤ تعزیت کروں گا،میں نے حکم کی تعمیل میں قاری سعداللہ صاحب،قاری اسحاق صاحب اور قاری عبدالرحمن  کو کئی کئی بار فون کیا لیکن کسی کا فون رسیو نہیں ہوا،پھر کئی گھنٹے کی ملاقات کے بعد جب میں مولانا انصارصاحب کے پاس سے اجازت لیکر چلنے لگا تو حضرت مولانا نے فرمایا کہ قاری صاحب کے لڑکے کا نمبر کسی کاغذ پر لکھ کر دے دیجئے میں کسی وقت فون کرکے تعزیت کرلوں گا،میں نے قاری سعداللہ کے علاوہ قاری اسحاق اور قاری عبدالرحمان صاحبان کا نمبر لکھکر دے دیا اور دارالعلوم حیدرآباد سے واپس ہوگیا،معلوم نہیں حضرت کی بات ہوئی یا نہیں۔
موجودہ وقت میں سوشل میڈیا کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا،ترسیل اور ذرائع ابلاغ کا ایک بہت بڑا ذریعہ سوشل میڈیابھی ہے،دنیا بھر کی چھوٹی بڑی اور جھوٹی سچی تمام طرح کی خبریں چند منٹوں میں دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل جاتی ہیں اورلوگوں تک آسانی سے پہونچ جایاکرتی ہیں۔
یہ جواب سنکر طبیعت سست اور بوجھل ہوگئی، ایک عجیب طرح کی بے چینی محسوس ہونے لگی، دل بالکل اچاٹ ہوگیا اورپھر بادل ناخواستہ یہ یقین کرنا پڑا کہ ہو نہ ہو یہ خبرسچ ہے، اب قاری صاحب ہم سے ہمیشہ کےلئے رخصت ہوچکے ہیں، اس دارفانی میں اب کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوسکتی، حضرت قاری صاحب کی معیت میں گذرے ہوئے لمحات اور بہت ساری یادیں،فون پرہونے  والی لمبی لمبی گفتگو جواکثر وبیشتر کسی اہم مسئلے پر ہوتی تھی،ذہن کے پردے پر نمودار ہونے لگے اور یادوں کے دریچے کھلنے لگے، ابھی دوسال قبل ہی یعنی اواخر مئی 2022 میں حضرت قاری صاحب سے کئی گھنٹے تک ایک طویل،خوشگوار اور یادگار ملاقات انکے قائم کردہ ادارہ "جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور” میں ہوئی تھی،اس ملاقات میں بہت کچھ سننے، سیکھنے،استفادہ کرنے،انکی شخصیات کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کا باضابطہ موقع ملاتھا،خیال تھاکہ اس گفتگو اور ہونی والی ملاقات کے اہم گوشے و یادگارلمحوں کو محفوظ کروں گا،قلم اٹھاؤں گا،کچھ لکھوں گا اورکئی بارقلم اٹھایا بھی،لیکن پھر یہ سوچ کر رکھ دیاکہ ابھی توحضرت باحیات ہیں،پھر کبھی لکھوں گا،امید تھی کہ دیدار و ملاقات کا شرف پھرحاصل ہوگا اور بہت جلد پھرحضرت سے ملاقات ہوگی تو استفادہ کروں گا،لیکن
اے بساآرزو کہ خاک شد،
حضرت سے میرا استاذ وشاگرد والا رسمی تعلق کبھی نہیں رہا،میری بدقسمتی ہے کہ میں ان سے شرف تلمذ حاصل نہیں کرسکا، اس خوش بختی اور سعادت مندی سے میں یقینا محروم ہوں،لیکن ادھر کئی سالوں سے حضرت سے میرے اچھے روابط قائم ہوگئے تھے اور بڑی قربت ہوگئی تھی،مہینہ پندرہ دن میں عموما ایک بار فون سے گفتگو ہوجاتی،کئی بار ایسا بھی ہواکہ دو دو تین تین گھنٹے تک پوری بشاشت کے ساتھ بات ہوتی رہی،اس  طویل گفتگو کے دوران مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ حضرت کومیری گفتگوسے کسی طرح کی کوئی اکتاہٹ ہوئی ہو،کئی بارمیں نے ہی درخواست کی کہ،حضرت آپ سے گفتگو بڑی طویل ہوجاتی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسکی وجہ سے آپ کے معمولات اورمصروفیات میں خلل واقع ہو؟اسلئے کوئی ایسا وقت جب آپ خالی ہوں اوراس وقت کوئی مصروفیت نہ ہو،نشاندہی فرمادیں،میں اپنی مصروفیت کے حساب سے اسی وقت رابطہ کرلیا کروں گا،فرمایا کہ میں نے اپنا کوئی وقت خالی نہیں رکھاہے،آپ سے بات ہورہی ہے تب بھی میں اپنا کام کررہاہوں،اورآپ سے گفتگو کرکے میرا وقت ضائع نہیں ہورہاہے، اسلئے آپ جب چاہیں بات کرلیا کریں،جب آپ، مجھ سے گفتگو کی ضرورت محسوس کریں بات کرلیں ان شاءاللہ بات ہوجائےگی،کئی بارتو مجھے گجرات اور ڈابھیل آنے کی دعوت بھی دی اورفرمایاکہ یہاں آکر میرا کام اور میری خدمت دیکھو،میں نے وعدہ کیا تھا کہ ان شاءاللہ ضرور حاضرہوں گا،حیات میں تو یہ ممکن نہ ہوسکا لیکن اب قبر پر فاتحہ خوانی اورایصال ثواب کےلئے ضرور مجھے حاضری دینی پڑے گی۔
بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میں نے اپنی مصروفیت کی وجہ سے کئی ماہ تک حضرت کو کوئی فون نہیں کرسکا تو ادھر سے قاری اسحاق صاحب کا فون آیا کہ حضرت آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں لیجئے بات کیجئے!!،سلام دعاء اورخیر خیریت کے بعد فرمانے لگے”آپ خیریت سے تو ہیں؟کافی دنوں سے آپ کا فون نہیں آیا،اسلئے آج میں نے قاری اسحاق سے کہا کہ مولانا سرفراز کو فون لگاؤ ان سے بات کرنی ہے”میں یہ سنکر انتہائی شرمندہ ہوگیا،ایک مرتبہ کافی دنوں کے وقفے کے بعد فون کیا تو فرمانے لگے کہ کتنے دنوں کے بعد آج آپ نے فون کیاہے؟ ظاہرہے اسطرح کے سوال کا جواب میرےلئے آسان نہ ہوتا، مگر میں یہ ضرورسوچنے لگتا کہ اتنی بڑی شخصیت کا مجھ جیسے طالبعلم کی خبرگیری اور انکا قلبی لگاؤ یہ یقینا بڑی بات ہے اور یہ بڑے لوگوں کا ہی کام ہوسکتاہے،بقول شخصے
یہ الگ بات ہے کہ چپ چاپ کھڑے رہتے ہیں
پھر بھی جولوگ بڑے ہیں وہ بڑے رہتے ہیں۔
سوچتاہوں کہ اب ان نقوش و تاثرات کے اس ہجوم کو بیک وقت یکجا وقلمبند کیسے کروں؟ کسی مختصر تحریر میں ان یادوں کو سمیٹنا اتنا آسان کہاں ہے؟اصل سوانح حیات تو انکے شاگر حضرات ہی لکھیں گے میں تو کچھ منتشر یادیں اور احوال و واقعات ہی جمع کرسکتاہوں۔
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ چھیڑوں داستاں کیسے؟
کہاں سے شروع کیاجائے؟اور کہاں ختم کیاجائے؟ کیا لکھاجائے اور کیا چھوڑ دیاجائے؟یہ فیصلہ میرے لئے دشوار ہورہاہے،لیکن کہیں نہ کہیں سے تو شروع کرنی ہی پڑے گی،اسے چھیڑے بغیر بھی تو کوئی چارہ نہیں ہے،کیونکہ میرے بعض کرم فرما جو مجھے ہمیشہ پڑھتے ہیں،میری الٹی سیدھی تحریر نما جملوں کی عزت افزائی اور انھیں وقار و اعزاز عطا کرتے ہیں،مجھے حوصلہ دیتے ہیں،ان دوستوں کا شکریہ انکا مسلسل اصرار اور مطالبہ بھی ہے کہ اب تک حضرت قاری صاحب سے متعلق تمہاری کوئی تحریر منظر عام پر نہیں آئی،بات دراصل یہ ہے کہ حضرت کے انتقال کو آج ایک ماہ پورے ہوگئے لیکن میری طبیعت ابھی تک مکمل بحال نہیں ہوسکی ہے طبیعت میں اضمحلال اب بھی برقرار ہے،کچھ مصروفیات میں بھی گذشتہ دنوں الجھ گیا جسکی وجہ سے قلم اٹھانے میں اچھی خاصی تاخیر ہوگئی،
اپنے حافظے کی مدد سے کوشش کروں گا کہ کچھ بے ترتیب جملے جو میرے دل کے ترجمان ہونگے آپ کی نظرکرسکوں،حال آں کہ حضرت قاری صاحب کی حیات میں اورانتقال  کےبعد بھی ان پر بہت کچھ لکھاجارہاہے اور آگے بھی یہ سلسلہ جاری رہےگا،ان شاءاللہ۔
  دوستوں  کی اسی فرمائش کی تکمیل کےلئے قلم اٹھاتو لیا ہے مگر کچھ معلوم نہیں کہ حافظے اور یادداشت کی بنیاد پر قلم کا یہ سفر کہاں تک ساتھ چلےگا، شاید اسی بہانے کچھ دل کا غم بھی ہلکاہو۔
موت تو بہ ہرحال حقیقت ہے اس سے کسی کو رستگاری نہیں،دنیا میں آنے والا ہر شخص جانے کےلئے آتاہے لہذا وہ اسکا شکار ہوکر رہے گا،موت سے انھیں ضرور سابقہ پڑےگا،قرآن میں جگہ جگہ مختلف الفاظ کے ساتھ  اسکی وضاحت کی گئی ہے،کہیں فرمایا گیا کہ”ہرجاندار کو موت کا مزہ چکھناہے” تو کہیں ان الفاظ سے مخاطب کیا گیا کہ” تم جہاں کہیں بھی رہوگے،مضبوط قلعے کے اندر بھی اگر بند ہوجاؤ تو موت تمہیں ضرور پالے گی،کہیں فرمایا گیا کل شیء ہالک الا وجہ کہ دنیا کی ہر چیزفنا ہونے والی ہے باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ یذھب الصالحون الاول فالاول ویبقی حفالتہ کحفالتہ الشعیر اوالتمر لا یبالیھم اللہ بالتہ۔
(یعنی نیک لوگ یکے بعد دیگرے اٹھتے چلے جائیں گے اور جو یا کھجور کے کباڑ کی طرح بیکار لوگ باقی رہ جائیں گے،جنکی اللہ تعالی کوئی پرواہ نہیں کرےگا”)
حضرت قاری صاحب مرحوم کا نام  میں نے پہلی بار کب سنا یہ تو یاد نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ جب 90 کی دہائی میں،میں شعور کی دہلیز پرقدم رکھنےلگا تھا کہ اسی درمیان گاؤں کے ایک مدرسے میں،بغرض تعلیم داخل کرادیا گیا،جس گاؤں میں میری پیدائش ہوئی، میں نے آنکھیں کھولی،اپنا بچپن گذارا، بہت سے نشیب وفراز کو دیکھا،یہ میرا آبائی گاؤں”ہرنتھ”ہے،بھاگل پور شہر سے کافی فاصلے پر پچھم کی جانب، کثیر مسلم آبادی والا کئی سوسالہ یہ قدیم بستی آباد ہے،یہی میرا آبائی وطن ہے”جامعہ حسینیہ ہرنتھ” کے نام سے موسوم یہ سترسالہ قدیم ادارہ بھی اسی گاؤں میں واقع ہے۔
مجاہد جنگ آزادی، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح متوفی 1957ء اورشیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب رح متوفی 1955ءکے شاگرد،حضرت الحاج مولانا عبدالرحمن قاسمی صاحب رح اسوقت مدرسے کے مہتمم تھے اور پورے علاقے میں،”مولاناصاحب” یا”بڑے مولانا”کے نام سے معروف تھے،یہیں تعلیم کے دوران ہی حضرت”قاری احمداللہ” صاحب کے نام سے شناسائی ہوئی اور پھر ہوتی چلی گئی،حضرت قاری صاحب چونکہ اس مدرسے کے رکن شوری تھے اور جب کبھی ڈابھیل سے بھاگلپورآنا ہوتا تو مدرسہ حسینیہ ہرنتھ ضرور تشریف لاتے،کئی وجوہات کی بناء پر قاری صاحب مدرسہ تشریف لاتے تھے۔
ایک تو اس وجہ سے کہ حضرت قاری صاحب نے خود اس مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی،حافظ محمد اسلم سمستی پوری مدرس شعبہ حفظ مدرسہ ہرنتھ اور مولانا حافظ عبدالرزاق قاسمی صاحب سنہولی، مدرس شعبہ فارسی،عربی مدرسہ حسینیہ ہرنتھ سے آپ نے تعلیم حاصل کی،اسکےعلاوہ اپنے برادرکبیر حضرت مولانا رفیع اللہ صاحب قاسمی مدرس شعبہ عربی سے شرح جامی،کنزالدقائق،اصول الشاسی اورشرح تہذیب وغیرہ پڑھی، دیکھئے(جامعہ ڈابھیل اورفن تجوید وقرات)
  کچھ مہینوں تک آپ نے یہاں پڑھایا بھی،حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب، قاری صاحب کے رشتے دار اوربعد میں سمدھی بھی ہوگئے تھے،اسکے علاوہ اس مدرسے کی بنیاد اور تعمیر وترقی میں انکے والد گرامی جناب حاجی معارف حسین صاحب مرحوم متوفی 1977ء بھی پیش پیش رہے تھے اورغالبا مدرسے کے خزانچی بھی تھے،ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کئی سال تک قاری صاحب کے منجھلے بھائی حضرت مولانا رفیع اللہ صاحب قاسمی بھی یہاں کئی برس مدرس رہے تھے،بہ ہرحال  حضرت قاری صاحب کا مدرسہ آناجانا ہوتا رہتا تھا،بعد میں مفتی ہلال صاحب جب وہاں کے مہتمم بنے تب بھی انکا آنا ہوتا رہا،سال میں ایک دوبار ضرور تشریف لاتے،اکثرو بیشتر شوری کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے تشریف لاتے،کرنپور سے ہرنتھ بہت زیادہ فاصلے پر نہیں ہے، مشکل سے چار،پانچ کیلو میٹر کا فاصلہ ہوگا،قریب ہونے کی وجہ سے حضرت قاری صاحب کی مدرسے آمد ہوتی رہتی تھی، اسوقت بولیرو کار حضرت کے پاس تھی اسی کے ذریعے انکا علاقےمیں سفر ہوتا تھا اورگاہے بگاہے مدرسے میں آمد ہوتی تھی، سفید کلر کی بولیرو کار مدرسے میں داخل ہوتی، اس کار پر چاروں جانب نمایاں طورپر”جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور،بھاگلپور،بہار”
اردو میں کسی ماہرخطاط سے جلی حروف میں نمایاں طورپر غالباطارق بن ثاقب پورنوی سے لکھوایا گیا تھا، ڈرائیورکے برابر میں سامنے کی سیٹ پر حضرت قاری صاحب ہوتے اور پیچھے کی سیٹ پر دیگر کئی لوگ ساتھ میں ہوتے گویا  کئی لوگوں  پرمشتمل ایک پورا قافلہ  قاری صاحب کے ساتھ ہوتا تھا،ایک چھوٹےسے قافلے کے ساتھ علاقے میں تقریبا ہرجگہ تشریف لے جاتے،اب بھی یہی معمول تھا،لیکن اب بولیرو کار کی جگہ سفید کلر کی جپسی نے لے لی ہے اور اسی کے ذریعے سفر ہوتا تھا،
مدرسہ حسینیہ کے برآمدے میں گول گھرکے پاس شوری کا اجلاس ہوتا،مدرسے کے کسی طالب علم سے تلاوت کروائی جاتی،کئی بار مجھے بھی موقع ملا اورمیری تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا یہ ریکارڈ آج بھی مدرسے کے رجسٹر میں موجودہے،مجلس شروع ہوتی،ایجنڈے کے مطابق غور وفکر کیا جاتا،بحث و مباحثہ ہوتا،تجاویز پاس کی جاتیں اور شوری کی منظوری کے بعد پھردعاء پرمجلس اختتام پذیر ہوجاتی،اس مجلس میں حضرت علامہ شیخ اکرام علی بھاگلپوری صاحب،سابق شیخ الحدیث جامعہ ڈابھیل متوفی 2008،حضرت الاستاذ مولانا حافظ قمرالحسن صاحب قاسمی،مدرسہ عربیہ شاہ جنگی، متوفی 2012 ،حضرت مولانا مطیع الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم اورحضرت الحاج ماسٹر محمد عباس صاحب دامت برکاتہم  کے علاوہ علاقے کی دیگر اہم اورمؤقر شخصیات بھی شریک ہوتیں،عموما یہ مجلس ظہر کے بعد تک چلتی اورعصرسے پہلے ختم ہوجاتی،مجلس کے اختتام پر اذان ہوتی اورمختصر وقفے کے بعد ظہر کی نماز اداکی جاتی، امامت کا شرف اکثرحضرت قاری صاحب کو ہی حاصل ہوتا،نماز کے بعد دسترخوان لگتا اور آنے والے تمام مہمان کھانا تناول فرماتے،کھانے سے فراغت کے بعد سارےمہمان مدرسے سے واپس ہوجاتے،ہم طلبہ آنے والے مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہتے،مدرسے میں اسطرح کا پروگرام ہوتا تو چہل پہل بڑھ جاتی،صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کیاجاتا، طلبہ واساتذہ آنے والے مہمانوں کا استقبال اور حتی المقدور انکی خدمت کرتے،یہیں سے حضرت قاری صاحب کا نام میرے کانوں میں باربار گونجتارہا، دسمبر 1995 میں جمعرات کےدن اچانک مدرسے کے مہتمم حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کا انتقال ہوگیا تواس موقع پر علاقے میں کافی گہما گہمی شروع ہوگئی،جنازے میں فرزندان توحید کا سیلاب امڈ پڑا،لوگوں کا ہجوم دیکھکر بڑے بوڑھوں کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں اتنا بڑا جنازہ اب تک نہیں دیکھا گیا،بہ ہرحال انکے انتقال کے بعد اب مسئلہ تھا مولانا کی جانشینی اوراسکے انتخاب کا،چنانچہ کئی لوگ اسکے دعویدار ہوگئے، عوام کا ایک طبقہ یہ چاہتا تھا کہ حضرت قاری صاحب کو اس مدرسے کی ذمہ داری سپرد کردی جائے تاکہ مدرسے کی تعمیرو ترقی ہوسکے،لیکن ایسا نہیں ہوسکا،مہتمم کے انتخاب کے لئے شوال میں شوری بلائی گئیکیونکہ مولانا عبدالرحمن صاحب کا انتقال رجب کے مہینے میں ہواتھا، لیکن شوری کی آڑ میں ایک پلان کے تحت عوام کے جم غفیر کو جمع کرلیا گیا،نتیجہ یہ ہوا کہ شوری جو فیصلہ لیناچاہتی تھی وہ نہ لے سکی، فضاء کو اتنا مکدر بنادیا گیا اورحالات ایسے بنائے گئے کہ کچھ لوگوں نے طاقت کے بل بوتے پر ہڑبونگ مچاتے ہوئے زبردستی مدرسے کے مہتمم اور مولانا کے جانشین کے طور پر مفتی ہلال احمد صاحب قاسمی مرحوم متوفی 2021ء کانام پیش کردیا،اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اس اجلاس کی کارروائی تک رجسٹر میں درج نہیں ہوسکی اورکئی اراکین لاحول پڑھتے ہوئے اجلاس سے باہر نکل گئے تھے، اس رجسٹرمیں آج بھی وہ صفحہ خالی ہے،صرف ایک لائن میں 1995 کی وہ تاریخ درج ہے جس دن شوری کا اجلاس ہوا تھا،ایسا محسوس ہوتاہے کہ کارروائی لکھی جارہی تھی درمیان میں حالات خراب ہوگئے شاید اسی لئے کوئی تحریر درج رجسٹر نہیں کی جاسکی اور اسے ادھورا ہی چھوڑدیا گیا،اسکے علاوہ اس صفحے پر اور کچھ نہیں ہے،کئی ماہ قبل میں نے حضرت قاری صاحب سے اس مدرسے کے متعلق سوال کیا تھا کہ حضرت ایک قدیم ادارہ ہونے کے باوجود یہ مدرسہ آخر زوال پذیر کیوں ہے؟ یہاں جو ترقی ہونی چاہئے وہ کیوں نہیں ہوسکی؟ اسکے وجوہات کیا ہوسکتے ہیں؟حضرت قاری صاحب تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، میرا یہ سوال سنتے ہی سیدھے ہوکربیٹھ گئے اورجلالی انداز میں فرمایا کہ”اس مدرسے میں علماء کی بددعاء شامل ہے،اس مدرسے کو سیاست کا اڈہ بنادیا گیا، اسی لئے یہ ادارہ ترقی نہیں کرسکا”میرے ایک دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ”میں مفتی ہلال(چھوٹےداماد) کو مہتمم بنانے کے حق میں بالکل نہیں تھا،لیکن میری بات نہیں سنی گئی،پھر ایک واقعہ سنایا کہ”مولانا عبدالرحمن صاحب کے انتقال کے بعد میرے پیر و مرشد حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعدمدنی صاحب متوفی2006ء تعزیت کےلئے بھاگلپور تشریف لائے،بھاگلپور اسٹیشن میں انکو اپنی گاڑی سے لانے گیا اورکرنپور لیکرآیا،فدائے ملت کا قیام میرے ہی گھرپرتھا،مولاناقمرالحسن صاحب بھی ساتھ تھے کوئی گفتگوچل رہی تھی کہ اسی درمیان مولاناعبدالرحمن صاحب کے بڑے صاحب زادے حافظ شکیل متوفی2021ء ہاتھ میں کچھ لئے ہوئے میرے دروازے میں داخل ہوئے اور سلام کیا،حضرت فدائے ملت نے سلام کا جواب دیا اور انکی جانب دیھکرفرمایا”شکیل! تمہارے ہاتھ میں کیاہے؟حافظ شکیل نے جواب دیاکہ یہ مدرسہ حسینیہ کے دفتر کی چابی ہے،ابا نے کہاتھا کہ اب مدرسے کے ذمہ دارآپ ہی ہیں،یہ سنکر حضرت فدائے ملت نے ان سے کہا کہ قاری صاحب دیکھ ریکھ کردیں گے یہ چابی تم اپنے پاس ہی رکھو،بات ختم ہوگئی پھرفدائے ملت جب جانے لگے تو میں بھاگلپور اسثیشن اپنی گاڑی میں حضرت کو لیکر چھوڑنے گیا،مولاناقمرالحسن صاحب بھی ساتھ تھے راستے میں حضرت فدائے ملت نے اس جملے کو پھر سے دہرایا اور میری طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ شکیل کو میں نے کہہ دیاہے آپ مدرسے کی دیکھ ریکھ کردیجئے گا،حضرت فدائے ملت بھاگلپورسے رخصت ہوگئے تو بعد میں مولانا قمرالحسن صاحب نے اس بات کو ایک اخبارمیں شائع بھی کرایا کہ حضرت فدائےملت نے مدرسہ حسینیہ ہرنتھ کے بارے میں یہ فیصلہ کیاہے،میں نے پھر سوال کیاکہ حضرت وہ کونسا اخبارتھا اورکیا وہ مل سکتاہے؟ تو فرمایا کہ غالبا دیش بدیش نام تھااس اخبارکا جو بھاگلپورسے ہی شائع ہوتا تھا،بہت دنوں تک اخبارکی یہ کٹنگ میرے پاس رہی اب تلاش کرنا پڑےگا شاید کہیں محفوظ ہو،حضرت فدائے ملت مدرسے کےسرپرست تھے، شوری کے اجلاس سے قبل مولانا عبدالرحمان صاحب کے صاحبزادگان حافظ شکیل اور حافظ ارشد(دونوں بھائی مرحوم ہوچکے ہیں،رب کریم مغفرت فرمائے) یہ دونوں برابر مولاناقمرالحسن صاحب کے پاس باربار چکرلگاتے رہے اوران سے یہ کہتے رہے کہ قاری صاحب مدرسے میں نہیں آنا چاہئے، ہمارے گھرکا کوئی آدمی ہی مدرسے کا مہتمم ہوگا،پھرجب مدرسے میں شوری کی میٹنگ ہوئی تو مولانا قمرالحسن صاحب نے عوام اورشوری کےسامنےحضرت فدائے ملت کا  یہ فیصلہ پڑھکر سنایا لیکن لوگوں نے ماننے سے انکارکردیا،میں اس معاملے میں خاموش تھا کیونکہ یہ معاملہ مجھ سے متعلق تھا،پھرجوکچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے مدرسے کی حالت بھی آپ دیکھ ہی رہے ہیں،میں حضرت فدائے ملت کو وقت کا بہت بڑا ولی سمجھتاہوں ان سے بڑا میری نظرمیں کوئی ولی نہیں ہے،میں سمجھتاہوں کہ علماء کے فیصلے اورانکے مشورے کو ٹھکرانے کا نتیجہ ہے کہ آج یہ مدرسہ زوال پذیرہے”یہ واقعہ حضرت قاری صاحب نے مجھ سے کئی بار نقل فرمایا۔
لاک ڈاؤن کے ایام چل رہے تھے کہ میں نے اسی درمیان ایک دن حضرت قاری صاحب کو فون کیا،یہ میرا پہلا رابطہ تھا،علیک سلیک کے بعد حضرت نے فرمایاکون ؟ میں نے اپنا مختصر تعارف کرایا اورفون کرنےکا مقصد بھی بتایا کہ حضرت اپنے علاقے کی کچھ اہم شخصیات کے احوال وخدمات پر کام چل رہا ہے جس میں آپ کے تعاون اور رہنمائی کی ضرورت ہے،میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی حضرت نے فرمایا "بہت اچھا یہ سنکر مجھے بہت خوشی ہوئی،آپ ضروریہ کام کیجئے میں ہراعتبارسے آپ کا تعاون کروں گا،میں تو چاہتاہوں کہ اسطرح کا کام اپنے یہاں اور اپنے علاقے میں ہو”یہ میرا پہلا رابطہ اور باضابطہ پہلافون تھا،تاریخ اور مہینہ کونسا تھا یہ یاد نہیں رہا البتہ پہلے لاک ڈاؤن کا زمانہ تھا،اسکے بعد سے وقت جیسے جیسے گذرتا رہا حضرت سے میرے تعلقات مزید استوار ہوتے چلےگئے فون پر طویل گفتگو ہونے لگی،جب بھی میں نے پوچھاکہ حضرت آپ کی طبیعت کیسی ہے؟تو ہمیشہ فرماتے الحمدللہ طبیعت بالکل ٹھیک ہے،میں اچھاہوں،پھرآگے باتوں کا سلسلہ چل نکلتا اور گفتگو طویل ہوجاتی۔
         مئی 2022 میں،مجھے پٹنہ اور بھاگلپور کا ایک سفر درپیش تھا،چنانچہ اس سفرکےلئے میں پابہ رکاب ہوگیا،بچے ساتھ میں تھے،12 مئی کو ہمارا یہ سفر  بہ ذریعہ ٹرین فلک نماء ایکسپریس سے شروع ہوا اور 14 مئی کو ہم لوگ بھاگلپور اپنے گاؤں پہونچ گئے،وہاں  ہم لوگوں کو تقریبا ایک ہفتہ گذراہوگا کہ جمعہ کے دن  ہم لوگ گاؤں کی مسجد سے نمازجمعہ پڑھکر نکل رہے تھے کہ اسی دوران کسی نے یہ اطلاع دی کہ قاری صاحب گجرات سے کرنپورآئے ہوئے ہیں،یہ خبرسنکر مجھے بڑی خوشی ہوئی گھرآیا اور کھانا وغیرہ سے فراغت کے بعد حضرت قاری صاحب کو فون کیا کہ حضرت یہ معلوم ہواہے کہ آپ ڈابھیل سے کرنپور تشریف لائے ہوئے ہیں اگر حکم ہوتو بندہ شرف زیارت وملاقات کے لئے حاضرخدمت ہوجائے؟حضرت نے فرمایا اسوقت آپ کہاں ہیں ؟میں نے عرض کیا ابھی ہرنتھ میں ہوں، ایک ہفتہ قبل حیدرآباد سے آیاہوں،فرمانے لگے کہ آپ نے پہلے بتایا نہیں کہ میرا بھاگلپور کا سفر ہے،میں نے کہا حضرت پہلے سے ارادہ نہیں تھا یہ پروگرام اچانک بن گیا، فرمانے لگے کہ ٹھیک ہے،کل صبح 9 بجے کے بعد آپ کرنپور آجائیں میں مدرسے میں رہوں گا،ملاقات ہوجائے گی، ان شاءاللہ
میں نے ملاقات کا وعدہ کرلیا اور علیک سلیک کے بعد فون رکھ دیا،صبح کرنپور جانے کا عزم کرلیا تھا کہ رات دیرگئے قاری ارشد صاحب مرحوم، استاذ مدرسہ ہرنتھ کے انتقال کی خبر آگئی،اسکے کچھ دیر بعد ہی حضرت مولانا رفیع اللہ صاحب کی اہلیہ کے انتقال کی خبر بھی گشت کرنے لگی،جیسے تیسے صبح ہوئی یہ 28 مئی ہفتے کا دن تھا،نماز فجراداکی گئی،لوگوں کو دونوں جنازے کی خبر موصول ہوچکی تھی،اور دونوں جنازے کرنپور میں ہی تھے،میں وقت مقررہ پربائیک لیکر کرنپور کی جانب نکل پڑا،اوپر لکھ چکاہوں کہ ہرنتھ سے کرنپور بہت زیادہ فاصلے پرنہیں ہے،صبح ساڑھے نو دس بجے کے قریب میں جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرن پور پہونچ چکاتھا،جیسے ہی مدرسے میں داخل ہوا مدرسے کے مشرقی حصے میں جو کمان نما گیٹ ہے وہاں حضرت  قاری صاحب کرسی پر تشریف فرما تھے،مدرسے کے شمالی حصے میں،گاڑی پارک کر ہی رہا تھا کہ قاری صاحب نے مجھے دیکھ لیا اور وہاں سے اٹھ کر آفس کی جانب چلےآئے،راستے ہی میں سلام مصافہ ہوا اورخیر،خیریت کے بعد گفتگو کا سلسلہ چل نکلا،آفس میں آنے کے بعد بھی مختلف عنوانات پر ہماری گفتگو جاری رہی،میری جانب سے کچھ سوالات تھے جسے میں نے نوٹ کرلیاتھا،وہ سوالات میں حضرت قاری صاحب سے کرتا رہا اور وہ اس کا جواب دیتے رہے،جنازے کی وجہ سے رشتہ داروں اوردیگر لوگوں کے آنے،جانے کا سلسلہ بھی جاری تھا، لوگ آتے اور سلام دعا کرکے کچھ لوگ ہماری مجلس میں شریک ہوجاتے اور کچھ لوگ حضرت کو مصروف دیکھ کر اپنی راہ لیتے،چونکہ حضرت مولانا رفیع اللہ صاحب کی اہلیہ کی تدفین اورنماز جنازہ مدرسے ہی کےقبرستان میں ہونی تھی اسلئے اسکی تیاری بھی چل رہی تھی، میری گفتگو چلتی رہی یہاں تک  کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا، مدرسے کے ایک استاذ مفتی نثارصاحب سے حضرت نے فرمایاکہ مولانا کو لے جاؤ،کھانا کھلاؤ اورلائبریری وغیرہ بھی دکھاؤ،میں نے کئی بار انکار کیا کہ کھانا گھر میں کھا لوں گا  اورجہاں تک بات لائبریری کی ہے تواسے ضرور دیکھوں گا،یہاں کھانا کوئی ضروری نہیں ہے گھر بھی تو قریب ہی ہے، فرمانے لگے کہ کھانا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے،اگر آپ آج یہاں کھانا کھالیں تواس میں کیاحرج ہے؟ آپ کھانے سے فارغ ہو جائیں، اس کے بعد ظہر کی نماز ہوگی اور پھر نماز کے بعد جنازہ ہوگا جب تک میں بھی اپنی ضروریات سے فارغ ہو جاتا ہوں پھر اس کے بعد ملاقات ہوگی انشاءاللہ۔
حضرت کے اصرار پر بالآخر میں کھانا کھانے کے لیے چلا گیا، کھانے سے فراغت کے بعد اوپر کے حصے میں موجود مدرسے کی لائبریری کو دیکھا بڑی خوشی ہوئی ماشاءاللہ جہاں مختلف موضوعات سے متعلق 6/7 سات ہزار کتابیں ہونگی اکثر کتابیں فن تجوید سے متعلق تھیں،بہار کے اکثر اداروں میں پتہ نہیں لائبریری کا اہتمام کیوں نہیں کیاجاتا؟کتابیں کیوں جمع نہیں کی جاتی؟ یہ کمی میں نے شدت سے محسوس کی،خود بھاگل پور کے چند ادارے ایسے ہیں جہاں آپ کو لائبریری ملے گی،اس پر مدارس کے ذمہ داران کوسنجیدگی سے سوچنے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے،اسکے بعد ظہر کی نماز میں تھوڑی تاخیر تھی تو میں قاری ارشد صاحب کے آخری دیدار کےلئے کرنپور بستی انکے گھر چلاگیا،وہاں سے واپس لوٹا تو ظہر کی نماز کا وقت ہو چلا تھا وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر نماز ظہر مدرسے کی عالیشان مسجد ہی میں اداکی گئی،نماز کے فوری بعد جنازے کا انتظام تھا اس میں شرکت کی گئی اور قاری صاحب نے ہی جنازے کی نماز پڑھائی، تدفین بھی مدرسے کے قبرستان میں عمل میں آئی جو مدرسے کی باؤنڈری سے باہر مشرق کی جانب واقع ہے غالبا مولانا رفیع اللہ صاحب  کے علاوہ  حضرت قاری صاحب کے دیگر کئی رشتے داربھی یہاں مدفون ہیں،یہاں سے فراغت کے بعد سب لوگ گاؤں کے قبرستان کی جانب چلے، جہاں قاری ارشدصاحب کا جنازہ پہلے سے تیارتھا، وہاں پہنچ کرصف بندی کی گئی اور اس جنازے کی امامت بھی غالبا حضرت قاری صاحب نے ہی فرمائی،نمازجنازہ کے بعد تدفین ہوگئی،اسکے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے،کچھ لوگ دعاء کے لئے رک گئے،مختصر دعاء قاری صاحب نے ہی کرائی، اس سے فراغت کے جب لوگ واپس ہونے لگے تو حضرت قاری صاحب نے ایک آوازلگائی”مولانا سرفراز صاحب آپ ابھی رکیں گے یا جائیں گے؟یہاں آپ کب تک ہیں؟”میں کچھ فاصلے پر ہی کسی سے بات کررہا تھا،یہ آواز سنتے ہی میں حضرت کے قریب ہوا اور عرض کیا کہ حضرت میں شام تک یہاں ہوں،فرمایا ٹھیک ہے پھر میرے ساتھ مدرسہ چلئے،میں نے کہا حضرت آپ تشریف لےچلیں،میں پیچھے سے اپنی گاڑی سے آرہاہوں فرمایا ٹھیک ہے جلدی آئیے، کچھ اورلوگوں سے وہیں میری ملاقات ہوگئی،جسکی وجہ سے مدرسہ پہونچنے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی،جب مدرسہ پہونچا تو دیکھا کہ حضرت آفس میں میرا انتظار کررہے ہیں،مجھے دیھکر فرمایا آپ کہاں رہ گئے تھے؟ میں تو آپ کا انتظار کررہاہوں،بہرحال ہماری گفتگو پھر شروع ہوگئی،یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوگیا،فرمایاکہ نماز کا وقت ہوگیاہے آپ مسجد چلیں،وضوکرکے میں بھی آرہا ہوں،نماز عصر سے فراغت کے بعد ہماری گفتگو کا سلسلہ پھر شروع ہوا درمیان میں چائے اورناشتے کا دور بھی چلا پھر مغرب کا وقت ہوگیا،مغرب کی نماز وہیں آفس کے اندرونی حصے میں حضرت کے ساتھ ادا کی گئی نماز سےفراغت کے بعد پھر ہماری گفتگو جاری ہوگئی،رات کے تقریباً 9 بج چکے تھے گھرسے بچوں کا فون بھی آنا شروع ہوگیا تھا،گفتگو کا سلسلہ جاری ہی تھا،کہ میں نے یہ کہتے ہوئے حضرت سے اجازت چاہی کہ اب اجازت دیں وقت بہت ہوچکاہے گھرجاناہے،پھر کسی دن حاضرخدمت ہوجاؤں گا فرمانے لگے کہ رات اگر یہاں قیام کرناچاہیں تو قیام کرلیں،ابھی تو تشنگی باقی ہے بات پوری نہیں ہوئی،صبح گھر چلے جائیں،میں نے کہا نہیں حضرت! دراصل کل ہی گھر میں ایک شادی ہے،اور میں مختصر وقت کےلئے گھر کے لوگوں کو بتاکر نکلا تھا،لیکن آپ سے ملاقات طویل ہوگئی اور چونکہ آپ سے ملاقات کا وقت لے چکاتھا اسلئے آج حاضر ہوگیا،فرمایا ٹھیک ہے آپ کھانا میرے ساتھ کھا کرجائیں،تاخیر ہونے کی وجہ سے میں نے کھانا کھانے سے انکار کیا توفرمایا ٹھیک ہے کوئی بات نہیں ابھی آپ یہاں یعنی ہرنتھ میں کب تک ہیں؟حیدرآباد واپسی کب ہے؟میں نے کہا ایک ہفتہ اور یہاں قیام ہے،پھر واپسی ہوجائےگی،فرمایا پھر کسی دن تشریف لائیے،میں نے حامی بھری، مصافحہ کیا اور دعائیں لیتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوگیا،چلتے وقت میری طلب پر حضرت قاری صاحب نے اپنی تمام تصانیف کے ایک ایک نسخے جو اسوقت دستیاب تھے،تمام کتابوں پراپنے ہاتھ سے میرا نام لکھ کر اور اپنی دستخط کے ساتھ مجھے ہدیتا عنایت فرمائی،اس میں بارہ کتابیں شامل ہیں، میں وہ کتابیں اور یادگار لمحے اپنے ساتھ لیکر گھر آگیا،اس طویل ملاقات میں،بہت سارے سوالات میں نے ان سے کئے،کچھ سوالات تو علاقے سے متعلق اور علاقائی مسائل پر مبنی تھے اور کچھ سوالات حضرت سے متعلق تھے تقریباً تمام سوالات کا انھوں نے کھلے ذہن اور خندہ پیشانی سے جواب عنایت فرمایا،ایک سوال کے جواب میں فرمانے لگے کہ”بہت سے دارالعلوم(دیوبند) کے فاضل قرآن تک صحیح نہیں پڑھ سکتے”
جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور کے نصاب اور تعلیم کے بارے میں، بھی ان سے سیرحاصل گفتگو ہوئی، میں نے ایک سوال کیا کہ حضرت آپ کے یہاں کیا پڑھایاجاتاہے؟ اورکونسا نصاب یہاں داخل ہے؟فرمایا کہ شروع سے میں بچوں کو عربی قواعد اورگرامر سکھانے پر توجہ دیتا ہوں،تاکہ ابتدا سے ہی بچوں اور بچیوں میں انسیت اور عربی سے لگاؤ پیداہو،قرآن واحادیث کاذخیرہ عربی میں ہے،اسکولوں میں چھوٹے چھوٹے بچے اگرانگلش سیکھ سکتے ہیں،لکھ اور بول سکتے ہیں تو پھر انھیں عربی کیوں نہیں سکھایا جاسکتا؟،اسکے لئے میں نے اپنا ایک نصاب تیار کررکھاہے،میں نے پھر سوال کیا کہ اس میں آپ کو کتنی کامیابی ملی اور کیا یہ نصاب سیکسس ہے؟ فرمایا ہاں بالکل سیکسس ہے بچوں سے زیادہ بچیاں کامیاب ہیں اسی لئے میں نے بچیوں پرزیادہ توجہ شروع کردی ہے،میرے مطالبے پر کہ جو نصاب آپ نے مرتب کیاہے مجھے دکھا ئیں،چونکہ رات کافی ہوچکی تھی اسی لئے فرمایاکہ آپ کسی دن پھر تشریف لائیں تو دکھاؤں گا،ایک سوال کے جواب میں،شکایتی انداز میں فرمایا کہ یہ ادارہ جہاں آپ بیٹھے ہیں، میں نے قوم کے پیسوں سے بنایا ہے میرا اپنا کچھ نہیں ہے،قوم کے پیسوں سے زمین خریدی اور یہ کروڑوں کی عمارت تعمیر کی،لیکن ہماری قوم اپنے بچوں کو یہاں نہیں بھیجتی،وہ اپنے بچوں کو یوپی، گجرات،حیدرآباد اور دور دراز ریاستوں میں بھیجتی ہے، لیکن بہار کے مدرسوں میں وہ اپنے پچوں کو نہیں پڑھاتے، کیا یہ عمارت میں نے اپنے بچوں کےلئے تعمیر کی ہے؟ ان باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ حضرت قاری صاحب قوم کے بہتر مستقبل کےلئے کتنا فکرمند تھے؟ اور ساتھ ہی مدارس اور علماء سے مسلمانوں کی دوری پر بھی افسوس کا اظہار فرمایا،میں نے کہا حضرت آپ نے یہ ادارہ تعمیر تو ضرور کیا لیکن آبادی سے دور یہاں جنگل میں چاروں جانب دور تک کوئی مسلم آبادی نہیں ہے،اگریہ ادارہ مسلم آبادی کے درمیان ہوتا تو آج آپکو شاید یہ شکایت نہ ہوتی، فرمانے لگے اکابرین نے اس جگہ کی نشاندہی فرمائی اسی لئے یہاں قائم کیا،ایک سوال میں نے کیا کہ حضرت ادارہ توآپ نے قائم کیا لیکن مجھے لگتاہے کہ اس ادارے سے لوگوں کو جوڑنے کی طرف آپ کی توجہ کم رہی ہے کیا اس میں کمی رہی ہے؟ فرمایا ہاں یہ ممکن ہے،کیونکہ میں ایک مدرس آدمی ہوں اور یہاں میں رہتا بھی نہیں،کچھ دنوں کےلئے سال میں دوتین بار آتاہوں تو یہ وقت بھی کم پڑجاتاہے،میں نے کہا حضرت کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور کو ایک مرکز بنادیا جائے اور اس مرکز کے تحت گاؤں گاؤں لوگوں کو بیدار کیا جائے،توجہ دلائی جائے اورمنظم طریقے سے مکتب کا جال بچھادیا جائے اس میں کامیابی ضرور ملے گی، اورآپ کو بچوں کی شکایت بھی نہیں ہوگی، فرمانے لگے آپ کی یہ رائے قابل عمل ہے اور اس پر ضرور عمل ہوناچاہئے،خداکرے کہ وہاں کے موجودہ ذمہ دارن اورحضرت کے جانشین اس پر توجہ دیں اور اس کام کو کریں۔
مدرسہ حسینیہ ہرنتھ کے بارے میں بھی کافی دیر تک ان سے میں نے گفتگو کی اور اس جانب توجہ دلاتے ہوئے میں نے  ان سے کہا کہ یہ علاقے کا ایک قدیم ادارہ ہے،اب وہ تیزی سے رو بہ زوال ہے، ممکن ہے کچھ دنوں میں یہ بند ہوجائے،مولانا عبدالرحمن صاحب مرحوم کےخاندان میں اب ایسا کوئی فرد ہے بھی نہیں جو اس ادارے کو سنبھال سکے،اگر یہ ادارہ خدانخواستہ بند ہوجاتاہے تو کیا کل قیامت کے دن آپ سے اسکے بارے میں سوال نہیں ہوگا؟اگرآپ کی کوششوں سے یہ ادارہ باقی رہتاہے یہاں تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری رہتاہے تو کیا یہ آپ کےلئے صدقہ جاریہ نہیں ہوگا؟ حال آنکہ آپ وہاں کے رکن شوری بھی ہیں۔ اسکے جواب سے پہلے حضرت نے ایک لمبی سانس لی اسکے بعد فرمایا کہ میں تو اس مدرسے کا کچھ نہیں ہوں اور تقریبا پندہ بیس سال سے وہاں گیا پھی نہیں،اسکی وجہ یہ ہے کہ مفتی ہلال مرحوم نے شوری اور شورائی نظام کو بالکل ختم کردیا، برسوں سے ہم لوگوں کو بلایا بھی نہیں تو پھر ہم وہاں کیوں جاتے؟جس وقت میری کام کرنے کی عمرتھی،میرے پاس طاقت وقوت تھی اسوقت تو لوگوں نے مجھے کام کرنے نہیں دیا،اب تو میں بوڑھا ہوچکاہوں اور بیمار رہتاہوں،میرے پاس طاقت بھی نہیں اب میں کیا کرسکتاہوں؟ مدرسہ فرقانیہ کے ایک استاذ جو ہماری اس گفتگو میں شامل تھے،انھوں نے مجھے بعد میں بتایا کہ مدرسہ حسینیہ سے متعلق رات آپ نے جو حضرت کی ذہن سازی کی اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اسی دن رات میں آپ کے جانے کے بعد حضرت نے مدرسے کے سارے اسٹاف کو بلایا اور ان سے مشاورت کی کہ آپ لوگ مجھے مشورہ دیں،ہرنتھ مدرسے کے بارے میں مجھے کیاکرناچاہئے؟ اسوقت وہاں کوئی مہتمم ہے،کوئی کمیٹی ہے اور نہ کوئی ذمہ دار؟ نہ ہی وہاں بچے ہیں،پھرمجھے اس معاملے میں دلچسپی لینی چاہئے یا نہیں؟تمام اسٹاف نے بیک زبان ہوکر حضرت سے کہا آپ ضرور دلچسپی لیں آگے بڑھیں اورمدرسے کو بچائیں،حضرت نے حامی بھرلی، ایک دو روز بعد مجھے حضرت نے فون کیا کہ کل صبح فجر کی نماز کے بعد میں مدرسہ ہرنتھ آؤں گا،مولاناعبدالرحمن صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کےلئے،میں نے کہا بہترہے،تشریف لائیں اور فون رکھدیا،پروگرام کے مطابق حضرت صبح صبح جپسی کار سے مدرسہ تشریف لائے،ہم لوگ پہلے سے وہاں موجود تھے،قاری صاحب نے اولا مدرسے کے احاطے میں موجود مولانا عبدالرحمن صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کی،اسکے بعد مدرسے کی شکستہ حالت کا ایک سرسری جائزہ لیا اورآنکھ ملتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار فرمایا،اسوقت گاؤں کے کچھ اور لوگ بھی مدرسے میں جمع ہوگئے تھے،وہاں موجود لوگوں اور مدرسے کے اسٹاف سے حضرت نے فرمایا کہ مدرسے کی حالت تو بہت بری اور انتہائی بدتر ہوچکی ہے، آج تقریباً پندرہ بیس سال بعد میں یہاں آیاہوں،جبکہ ایک زمانے میں سال میں دو تین بارضرور آنا ہوتا تھا،بہرحال کچھ دیر گفت وشنید کے بعد حضرت کرنپور واپس ہونے لگے تو مجھ سے فرمایا کہ مولانا عبدالطیف صاحب سے ملاقات کرتے چلیں،انکی عیادت بھی ہوجائے گی،میں نے کہاچلئے،پھر حضرت، مولانا عبدالطیف صاحب کے گھر تشریف لائے انکی عیادت کی اور کرنپور کےلئے روانہ ہوگئے،اسکے بعد کیاہوا؟ اسے میں سال گذشتہ یعنی ستمبر 2022 میں اپنی ایک طویل تحریر بعنوان”جامعہ حسینیہ ہرنتھ،بربادی کے دہانے پر!”میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں،یہاں اسکے اعادے کا کوئی فائدہ نہیں،وہ تحریر نیٹ پر بھی موجود ہے،سینکڑوں لوگوں نے اسے پڑھا،ملک بھرکے اخبارات میں قسط وار شائع ہوئی اور لوگوں نے حوصلہ افزائی کی،خواہش مند احباب گوگل پر مدرسے کا نام سرچ کرکے وہاں پڑھ سکتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں حضرت قاری صاحب نے فرمایا کہ” آپ جیسے باصلاحیت،متحرک اورفعال علماء کو اپنے علاقے میں رہ کر کام کرناچاہئے تو آپ حضرات ہزاروں کیلو میٹر دور خدمت کررہے ہیں، جبکہ یہاں اوراس علاقے میں آپ حضرات کی وہاں سے زیادہ ضرورت ہے،ہم نے اسی ضرورت کی بنیاد پر علاقے میں ادارہ قائم کیاہے” ایک سوال میں نے یہ کیا کہ آپ کی سب سے پہلی تصنیف کونسی ہے؟ اوراسے آپ نے کب لکھا؟فرمایا مرقات التجوید میری سب سے پہلے کتاب ہے اور اسے میں نے 1996 میں لکھا،یہ کتاب میری امید سے زیادہ مقبول ہوئی،اب تک اسکے دسیوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور ملک کے کئی بڑے اداروں میں پڑھائی جارہی ہے الحمدللہ۔
خوشگوار ماحول میں میری گفتگو جاری تھی کہ اسی درمیان میں نے ایک سوال یہ کردیا کہ حضرت اسوقت پورے ملک میں اور ہندوستان میں سب سے بڑا قاری آپ کی نظر میں کون ہے؟ کچھ دیر خاموش رہے اسکے بعد فرمایا کوئی نہیں،کچھ لوگ تو مجھے ہی کہتے ہیں،حال آنکہ حضرت قاری صدیق احمد باندوی صاحب رح وہ ملک کے سب سے بڑے اور جید قاری تھے اب کوئی نہیں ہے،کسی سوال کے جواب میں فرمانے لگے کہ”آپ کی تحریریں جو ملک بھر کے اخبارات میں شائع ہوتی ہیں اسکو محفوظ رکھئے،بعد میں تلاش کرنے کے بعد بھی بہت ساری چیزیں نہیں ملتی ہیں،اسلئے ریکارڈ رکھنے کا اہتمام کیجئے،ایک اور سوال کے جواب میں فرمانے لگے کہ”دنیا کے پانچ براعظم میں میرے شاگرد پھیلے ہوئے اور موجود ہیں الحمدللہ۔
اپنی تحریر کو مختصر کرنے اور سمیٹنے کی کوشش کررہاہوں لیکن  بات سے بات نکلتی اورتحریر لمبی ہوتی جارہی ہے،اسوقت جب یہ تحریر لکھ رہاہوں زبان پر ڈاکٹر کلیم عاجز مرحوم کا یہ شعر گشت کررہا ہےکہ
باتیں ہماری یاد رہیں،پھر باتیں نہ ایسی سنئے گا
کہتے کسی کو سنئے گا تو دیر تلک سر دھنئے گا
میں جانتاہوں کہ جوکچھ میں لکھ رہاہوں یہ تاریخ کا حصہ ضرور بنے گا اسلئے ایسے موقع پر جو کچھ لکھا جائے وہ پوری ذمہ داری اور غور وفکر کے ساتھ کوئی بھی بات لکھی جانی چاہئے۔
حضرت قاری صاحب کی پیدائش جس گاؤں میں ہوئی وہ شہر بھاگلپور سے دور علاقے میں واقع ہے،”کرنپور” نامی ایک چھوٹا سا گاؤں جو شاہ کنڈ اور امرپور کی شاہ راہ پر واقع ہے،لب سڑک یہ گاؤں آباد ہے جو بھاگلپور کا ہی حصہ ہے،یہاں مسلمان آبادی کے اعتبار سے 20/25 گھر بھی مشکل سے ہونگے،لیکن علاقے میں اس گاؤں کا امتیاز رہا ہے،چھوٹی سی مسلم آبادی ہونے کے باوجود  علماء ومشائخ کی آمد یہاں وقفے وقفے سے ہوتی رہی ہے،قاری صاحب کے آباء واجداد میں برسوں قبل تین بھائیوں نے لکھنپور نامی گاؤں ضلع مونگیر سے ہجرت کی،ایک بھائی نے کرنپور کو اپنا مسکن بنایا،دوسرے نے موضع عمادپور،ہرنتھ میں رہائش اختیارکی اور تیسرے نے پدھ گھاگھر نامی جگہ کو اپنا ٹھکانہ بنایا،کرنپور میں علماء وحفاظ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اور وہاں تقریبا ہرگھر میں حافظ عالم مل جائیں گے، عصری تعلیم یافتہ حضرات کی بھی قابل لحاظ تعداد ہے، حضرت مولانا قاری احمداللہ قاسمی صاحب 12 ربیع الآخر 1363ھ مطابق 5 اپریل 1944ء کو چہار شنبہ کے دن کرنپور میں پیدا ہوئے،والد ماجد حاجی معارف حسین صاحب انتہائی دین دار اور بزرگان دین کے صحبت یافتہ تھے، دینی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، وہ پیشے کے اعتبار سے کاشتکار تھے اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے،حاجی معارف صاحب کے تین لڑکے،مولاناسیف اللہ قاسمی،مولانا رفیع اللہ قاسمی اور چھوٹے لڑکے حضرت قاری احمداللہ قاسمی تھے،انھوں نے اپنی تینوں اولاد کی اچھی پرورش کی اور تینوں کو حافظ،عالم بنایا،حضرت قاری صاحب کرنپور کے اولین حافظ تھے ان کی ابتدائی تعلیم کرنپور کے مکتب میں ہی ہوئی،قائدہ بغدادی سے لیکر ناظرہ قرآن تک کی تعلیم بالترتیب مولوی اختر صاحب لکھنپوری،حافظ سلیم صاحب چکدریا اور حافظ ابوالحسن صاحب گرہوتیہ سے حاصل کی،اسکے بعد حفظ کی تعلیم کےلئے مدرسہ حسینیہ ہرنتھ،مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر،جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر اور جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں داخل کرائے گئے اور پھر مرادآباد میں ہی حفظ مکمل  ہوا،حفظ کے اساتذہ میں قاری عبدالرشید مظاہری صاحب،مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر،حافظ اسلم سمستی پوری مدرسہ حسینیہ ہرنتھ،حافظ عبدالرزاق صاحب سنولی،مدرسہ ہرنتھ، قاری عبدالطیف صاحب شاہی مرادآباد اور قاری ابراہیم ٹانڈوی مدرسہ شاہی مرادآباد قابل ذکر ہیں، اور تجوید کے اساتذہ میں شیخ القراء حضرت مولانا کامل صاحب شاہی مرادآباد،قاری عبدالرشیدصاحب چمپانگر بھاگلپور،حضرت مولانا قاری عبداللہ سلیم صاحب دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا قاری حفظ الرحمن صاحب دارالعلوم دیوبند، قاری عتیق الرحمن صاحب دارالعلوم دیوبند اور قاری سیدامیرعلی صاحب حیات العلوم مرادآباد وغیرہ  شامل ہیں،
اسی طرح عربی درجات کی کتابیں، آپ نے برادراکبرحضرت مولانا سیف اللہ صاحب قاسمی،برادرکبیرمولانارفیع اللہ قاسمی،مولاناحامد میاں صاحب،مولانا محمد سعید صاحب نواسہ حضرت گنگوہی،حضرت مولانا وحیدالزماں کیرانوی صاحب،شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا نصیراحمد خان صاحب بلند شہری،حضرت مولاناخورشیدصاحب دیوبندی،حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب اور بخاری ومسلم شریف شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالجبار صاحب اعظمی سے جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں پڑھی،1973ء میں آپ نے مدرسہ شاہی سے فراغت حاصل کی، آپ دورہ میں ہی تھے کہ اسی سال جامعہ ڈابھیل کو ایک اچھے قاری کی تلاش تھی،پھر آپ کے اساتذہ کے واسطے سے بات آپ تک پہونچی اور 1974ء میں آپ کا تقرر جامعہ ڈابھیل میں ہوگیا،یہاں سے باضابطہ آپ کی تدریسی زندگی کا باضابطہ آغاز ہوگیا،اور جامعہ ڈابھیل کو آپ نے مسلسل نصف صدی جدوجہد سے بھر پور ایک لمبا عرصہ فراہم کیا اور پھر ہمیشہ کےلئے یہیں کے ہوکر رہ گئے،درمیان میں آپ کو یعنی 1983ء میں دارالعلوم دیوبند نے بھی طلب کیا اور ایک سال کےلئے آپ دارالعلوم گئے پھر واپس ڈابھیل چلے گئے،دارالعلوم دیوبند کے علاوہ مدرسہ شاہی مرادآباد،دارالعلوم آزادول جنوبی افریقہ اور جامعہ فلاح دارین ترکیسر گجرات وغیرہ کئی دیگر اداروں نے آپ کو پیشکش کی لیکن آپ نے سب کو ٹھکرادیا اور ڈابھیل کو تمام اداروں پر ترجیح دی،جامعہ ڈابھیل کی وسیع وعریض اور شاندار مسجد میں ایک عرصے تک آپ امامت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے،جامعہ ڈابھیل میں رہتے ہوئے آپ نے صرف درس وتدریس کا کام نہیں کیا بلکہ تصنیف و تالیف اور افراد سازی کے علاوہ سب سے اہم کام آپ نے انجام دیا وہ ہے افراد سازی کے مرکز کا قیام،یہ آپ کا انقلابی کارنامہ ہے،9 جنوری 1987ء میں آپ نے جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور کی بنیاد رکھی،یہ ادارہ علاقے کا ایک مرکزی ادارہ ہے،اس ادارے کو حضرت قاری صاحب نے کیوں قائم کیا؟اسکا مقصد کیا ہے؟انھیں کی زبانی سنئے قاری صاحب رقم طراز ہیں کہ”
(الف)مسلم طلباء و طالبات کےلئے قرآن مجید اور تجوید و قرأت کی مکمل و معیاری تعلیم کا نظم کرنا،حتی المقدور اسکی اشاعت و ترویج کےلئے مختلف جگہوں پر مکاتب و مدارس قائم کرنا اور قائم شدہ مکاتب و مدارس کا الحاق کرنا اور انکے فروغ کےلئے دلچسپی لینا۔
(ب) بضرورت دیگر اسلامی علوم مثلاً تفسیر وحدیث،فقہ،عقائد کلام نیز مذکورہ علوم و فنون کے علاوہ وہ علوم و فنون جو عربی زبان کی تحصیل یا مذہبی اغراض کی تکمیل کےلئے ضروری اور مفید ہوں،تعلیم دینا۔
(ج) حفاظت اسلام اور اسکی اشاعت کےلئے بہ ذریعہ تقریر و تحریر خدمت انجام دینا۔
(د) مسلمانوں کی دینی ضروریات کےلئے صحیح العقیدہ ائمہ،مدرسین،مبلغین،مصلحین اور مفتیین تیارکرنا۔
(ھ) عوامی سطح پر دعوت و تبلیغ کے ذریعے خیرالقرون اورسلف صالحین جیسے اسلامی اخلاق و اعمال اور جذبات پیدا کرنا۔” دیکھئے(سالانہ رسالہ سبیل الفرقان)
ادارے کے قیام کے تعلق سے حضرت قاری صاحب کا بیان ہے کہ "میرے دل میں بہت دنوں سے یہ داعیہ پیدا ہورہاتھا کہ ایک ایسا مدرسہ قائم کیا جائے،جس میں درس نظامی کے ساتھ تجوید و قرأت کی تعلیم کا مضبوط اور مکمل نظام قائم کیا جاسکے،اسکےلئے بہت غور و فکر کے بعد میں نے اپنے وطن کرنپور،بہار میں اس مدرسے کے قیام کو بہتر سمجھا اور اسکےلئے بڑی دعائیں کیں کہ اللہ تعالی ایسا مدرسہ قائم کرائیں،جس میں کام کرنے میں میرا کوئی ہاتھ نہ پکڑ سکے،الحمدللہ یہ مدرسہ 9 جنوری 1987ء بروز جمعہ وجود میں آگیا اور اس مدرسہ کا نام جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور تجویز ہوا،اس مدرسے کے قیام سے ہمارا اصل مقصد یہ تھا کہ درسیات کے ساتھ ساتھ تجوید کی معیاری تعلیم اور معیاری افراد پیدا کئے جائیں،الحمدللہ یہ سلسلہ جاری ہے”(جامعہ ڈابھیل اور فن تجوید)
اسکے علاوہ بھی آپ نے کئی ادارے قائم فرمائے،جامعتہ القرات کفلیتہ یہ آپ ہی کے مشورے سے قائم ہوا اور آپ کی راست نگرانی میں یہاں کا نظام چلتارہا،کئی اور ادارے بھی آپ کے مشورے اور تحریک پر قائم ہوئے، کئ اداروں کے آپ رکن رکین بھی رہے،مدرسہ عربیہ شاہ کنڈ بھاگلپور،مدرسہ حسینیہ ہرنتھ وغیرہ کے آپ رکن شوری تھے،اور بھی درجنوں ادارے آپ کی سرپرستی ونگرانی میں کام کررہے تھے۔
ادارے کا جب ذکر آگیا ہے تو ایک بات عرض کرنے کو دل چاہتاہے وہ یہ کہ جامعہ فرقانیہ میں اتنے قوانیں وضوابط ہیں اور اتنے زیادہ شرائط رکھے گئے ہیں کہ طلباء کی ایک بڑی تعداد صرف اسی وجہ سے وہاں نہیں پہونچتی،اوپرآپ نے پڑھا کہ انٹرویو کے دوران حضرت قاری صاحب نے شکایتی لہجے میں فرمایا تھا کہ طلباء یہاں نہیں پڑھتے اور والدین اپنے بچوں کو یہاں نہیں بھیجتے آخر اس شکایت کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟میرے خیال میں یہی کہ طلباء کے ساتھ بے جا سختی کی جائے اور قانون کے نام پر انھیں جکڑ دیاجائے،میرے طالب علمی کے زمانے میں بھی جامعہ فرقانیہ کے تعلق سے یہ عام تاثر علاقے میں پایا جاتا تھا اور طلباء کی ایک بڑی تعداد شاید اسی لئے یہاں داخلہ نہیں لیتی ہے یا اگر داخلہ لے بھی لیتے ہیں توسال کے اخیر تک رہنا اور تعلیم پوری کرنا انکے لئے مشکل اورصبر آزما ہوتاہے،ایک بڑی تعداد درمیان سال میں ہی مدرسہ چھوڑدیتی ہے اور بہت کم بچے سال کے اخیر تک رہ پاتے ہیں،اسلئے قوانین کو تھوڑا نرم کرنے کی ضرورت ہے موجودہ منتظمین اس پر توجہ دیں تو طلباء کی اچھی خاصی تعداد وہاں پہونچ سکتی ہے اور وہاں ٹک سکتی ہے،ہم جب مفتاح العلوم مئو میں زیر تعلیم تھے تو ہمارے ایک استاذ نے ایک واقعہ سنایا،افادہ عام کےلئے یہاں نقل کررہاہوں کہ حضرت قاری صدیق احمد صاحب باندوی رح اور حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب رح کہیں ایک ساتھ بیٹھے تھے کہ اسی دوران حضرت شاہ ابرارالحق صاحب نے حضرت باندوی سے فرمایا کہ یار قاری صاحب! مجھے ایک چیز آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ میرا مدرسہ دعوت الحق شہر ہردوئی میں اور مین روڈ پر واقع ہے اور آپ کا مدرسہ شہر سے بالکل دور جنگل میں ہے لیکن اسکے باوجود طلباء کا بڑی تعداد میں آپ کی طرف جھکاؤ اور آپ کے یہاں طلبہ کا ہجوم آخر آپ کے یہاں ایسا کیا قانون ہے جو ملک بھر سے طلبہ آپ کے یہاں جوق درجوق پہونچتے ہیں اسکے مقابلے میں میرے یہاں یہ تعداد کم ہوتی ہے جبکہ میرا ادارہ شہر میں ہے،حضرت باندوی نے جواب دیا کہ میرے یہاں ایسا کوئی قانون نہیں ہے بس اتنا ہے کہ جب آنا چاہو آجاؤ اور جب جانا چاہو چلے جاؤ،آج کل مدرسوں سے اخلاص رخصت،للہیت ختم،محنت لگن اور شوق و جستجو سب رخصت ہوچکاہے،اب ہم نے مدرسہ اسلئے کھولاہے کہ یہاں آنے والا بچہ اگر کچھ نہ بھی پڑھے تو کم ازکم اس چہار دیواری میں رہ کر یہ تو سمجھے گا کہ میں ایک مسلمان کا بچہ ہوں،مسلم گھر میں پیدا ہوا،بس اسی لئے ہم نے مدرسہ کھول رکھاہے،حضرت شاہ صاحب ہردوئی رح نے یہ سنکر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اچھا یہی قانون ہے آپ کے یہاں جسکی وجہ سے طلبہ کا جم غفیر آپ کے یہاں پہونچتا ہے،جامعہ فرقانیہ اور دیگر مدارس کے منتظمین کو اس واقعے پر توجہ دینا چاہئے،میرا خیال ہے کہ تین چیزوں کا اصل نام مدرسہ ہے،طلباء کو معیاری سہولیات کی فراہمی،جیداور قابل اساتذہ کا انتظام ،اساتذہ کو معیاری اور وقت پر مشاہرہ دینے کا اہتمام ان تین چیزوں پر اگر عمل کرلیاجائے تو طلباء خود بہ خود بڑی تعداد میں آپ کے یہاں پہونچنے لگیں گے۔ان شاءاللہ
حضرت قاری صاحب نے تصنیف و تالیف کا فریضہ بھی انجام دیا اور فن تجوید قرأت کے علاوہ آپ نے نحو وصرف سے متعلق درجنوں کتابیں تصنیف فرمائی،حضرت قاری صاحب کا خیال تھا کہ عرب میں پیدا ہونے والا بچہ عربی لب و لہجہ اختیار کرسکتاہے،عربی بول سکتاہے، عربی میں بات کرسکتاہے،قواعد کی رعایت کے ساتھ قرآن پڑھ سکتاہے،نحو وصرف کے قواعد ذہن میں بٹھا سکتاہے تو ہمارے گھروں میں پیدا ہونے والا بچہ یہ کام کیوں نہیں کرسکتا؟اگر ابتداء سے ان پر بھی محنت کی جائے،ان کے ذہن میں عربی گرامر سے انسیت پیدا کی جائے جس طرح ہمارے یہاں اسکولوں میں انگلش پر محنت کی جاتی ہے،ٹھیک اسی طرح اگر عربی سکھانے پر محنت کی جائے،انکےلئے ایسی کتاب تیار کی جائے اورکوئی ایسا نصاب مرتب کیا جائے جو عربی قواعد کے مطابق ہو،انھیں پہلے حروف مفردات کو صحت و مخارج کے ساتھ پڑھایا جائے اسکے بعد اردو کی گنتی کے ساتھ عربی گنتی خالص عربی لہجے میں صحت ومخارج کو دھیان میں رکھتے ہوئے زمانے کے تقاضے کے تحت انگریزی گنتی کے ساتھ سکھا اور پڑھادیاجائے،پھر اسکے بعد مرکبات کو متن کے طور پر پڑھادیاجائے تو اس سے بہت حد تک طلبہ صحت کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے پر بھی قادر ہونگے اور ساتھ ساتھ عربی قواعد صرف و نحو سے بھی بہت حد تک انسیت ہوجائے گی،شاید اسی لئے حضرت قاری صاحب نے الدروس الاساسیتہ فی تعلیم اللغتہ العربیہ کے نام سے ایک جامع نصاب تیار فرمایا،اس کتاب کو کئی حصوں میں انھوں نے جمع فرمایاہے،جسکے غالبا دو حصے اب تک شائع ہوچکے ہیں،حضرت کے چند کتابوں کی فہرست یہاں دی جارہی ہے،ملاحظہ فرمائیں۔
1 مرقات التجوید۔
2 کتاب التلخیص فی قواعدالتجوید۔
3 معلم الصبیان مع قواعد الصبیان دوجلد۔
4 الفوائد الکاملیہ۔
5 جامع المعانی الموسوم بتسہیل المعانی دو جلد۔
6 توضیح المعانی فی القرأت السبع۔
7 التحفتہ المکیہ فی القرات الثلاث۔
8 تمرین التجوید والقرات۔
9 مبادیات قرات۔
10 تحفتہ الصبیان فی قواعد تجویدالقرآن۔
11 اسلام میں قرآن مجید کا مقام۔
12 کتاب الرجال والاسانید۔
13 کتاب المستفید فی تعلیم تجوید القرآن المجید۔
14 کتاب قرآت السبع والثلاث۔
15 قراءت امام نافع۔
16 قرات امام عبداللہ بن کثیر۔
17 کتاب التکبیر۔
18 تلخیص المعانی فی القرات السبع۔
19 مراءت التجوید۔
20 معلم الصبیان فی قواعد تجویدالقرآن دوجلد۔
21 التحفتہ المکیہ۔
22 تحفتہ النظر فی القرأت العشر۔
23 کتاب الکبیر۔
24 المعانی الجلیلہ فی شرح العقیلہ۔
25 شرح افضل الدرر۔
فن نحو و صرف سے متعلق آپ کی تالیف
26 تلخیص النحو۔
27 القواعد النحویہ تین جلدیں۔
28 قواعد النحو عربی بہ ترتیب نحومیر۔
29 قواعد الصرف دو جلد۔
30 کتاب المفصل فی قواعدالصرف ۔
31 الدروس الاساسیہ فی تعلیم اللغتہ العربیہ۔
یہ حضرت قاری صاحب کی تالیفات کی فہرست ہے ان میں سے کچھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور بعض غیرمطبوعہ ہیں۔ یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ علم صرف و نحو کا فن تجوید وقرآت سے ایک گہرا ربط ہے شاید اسی لئے قاری صاحب نے فن تجوید کے علاوہ نحو وصرف کی کتابیں بھی ترتیب دیں،حضرت امام مالک رح فرماتے ہیں کہ” صحیح یہ ہے کہ ہر بات کو اس کے اہل سے پوچھنا چاہئے اور بزرگوں سے دعائیں ضرور کرانی چاہئیں،ان سے مشورے لینے چاہیئں،لیکن کتاب تو جو جس فن کا شہسوار ہے اس سے پڑھو،حدیث پڑھانے کے سلسلے میں تم مجھ سے مشورہ لینے آتے ہو تو یہ بے وقوفی کی بات ہے،جنکی زندگی حدیث شریف پڑھانے میں گذر رہی ہے ان سے پوچھو،فقہ پڑھانے میں ان سے پوچھو،جنھوں نے اپنی زندگی فقہ میں وقف کررکھی ہے،ہاں صرف و نحو کی بات ہو تو قاریوں سے پوچھو،صرف و نحو قاریوں کا فن ہے،صرف ونحو کا قرات سے بہت مضبوط ربط ہے”(جامعہ ڈابھیل اور فن تجوید صفہ 119)
تصنیف و تالیف کے بعد اب آئیے ایک نظر انکے شاگردوں پر ڈالتے ہیں،”بعض دفعہ آدمی اپنی جگہ جلیل القدر عالم یازبردست ادیب،فطری شاعر،زوردار مقرر،باکمال انشاء پرداز،عظیم ترین مدبر ومنتظم اور ہوشیار سیاست داں ہوتاہے،لیکن وہ ہرگز یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ دوسروں تک اپنی صلاحیت کو کسی درجے میں منتقل کردے اور اپنے چراغ سے دوسرے کا چراغ روشن کردے،ایسا آدمی چاہے کتنا بڑاہو اور کتنا قابل تعریف ہو مگر اسکا نفع محدود ہوتاہے،ایک بڑا آدمی اگر رجال سازی کی بھی صلاحیت رکھتاہے اور دوسروں کو بھی بڑا بناسکتا ہے تو واقعی وہ بہت بڑاہے”(وہ کوہ کن کی بات ص78)حضرت قاری صاحب کا ایک اہم وصف افراد سازی اور مردم سازی بھی ہے،ایک کامیاب عالم اور کامیاب استاذ وہ ہے جو اپنا علم اور اپنی سوچ وفکر دوسروں میں منتقل کرنے کا ہنر جانتے ہوں،اور یہ ہنر ان میں  بدرجہ اتم موجودتھا،کہتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے یہ پھل کس درخت کا ہے اسکے کھانے کے بعد اس درخت کا پتہ لگانا کوئی مشکل نہیں،دنیا بھر میں پھیلے انکے تمام شاگردوں کی فہرست تو میرے پاس نہیں ہے۔
چند کے نام یہ ہیں۔
قاری شفیق الرحمن صاحب بلندشہری
مولانا قاری عبدالرؤف صاحب بلند شہری۔
مولانا خورشید انور صاحب گیاوی۔
مولانا منیرالدین صاحب گڈاوی۔
مولوی کاتب عبدالجبارصاحب گڈاوی۔(اساتذہ دارالعلوم دیوبند)
مولانا محموداسعد مدنی صاحب(رکن شوری دارالعلوم)
مولاناسید ازہد مدنی(فرزند حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب)
قاری اسماعیل بسم اللہ صاحب مہتمم جامعتہ القرات کفلیتہ۔
قاری حنیف صاحب نرولوی۔ مقیم برطانیہ۔
قاری اسماعیل صاحب متالا سملکی۔ مقیم ساؤتھ افریقہ۔
قاری الیاس صاحب لوہاروی۔مقیم ساؤتھ افریقہ۔
قاری سلیمان صاحب بھروچی مقیم ری یونین۔
قاری محمداعظم صاحب مدرسہ شاہی مرادآباد۔
قاری اخلاق حسین صاحب مدرسہ شاہی مرادآباد۔
قاری ولی اللہ صاحب جامعہ فرقانیہ سبیل السلام کرنپور۔
قاری ثناء اللہ صاحب جامعتہ القرات کفلیتہ۔
قاری عارف صاحب جامعہ اکل کوا۔
قاری نثار احمد ثاقب صاحب اکل کوا۔
قاری جابر احمد صاحب اکل کوا۔
قاری الیاس صاحب گلبرگہ۔
قاری سعدالدین صاحب کھگڑیا بہار۔ وغیرہ
حضرت قاری صاحب نے اپنی اصلاح و تربیت کےلئے خانقاہ کا رخ بھی فرمایا اور اسکےلئے شیخ کا دامن بھی تھاما،فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب رح سے بیعت و تعلق کا سلسلہ قائم فرمایا اور غالبا 1976/77 میں فدائے ملت کے دامن سے آپ کیسے وابستہ ہوئے؟ انھیں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں کہ” جمعیت علماء صوبہ مغربی بنگال آسنسول میں اجلاس منعقد ہواتھا،اس موقع پر حضرت فدائے ملت ایک گاؤں تشریف لے گئے،وہاں حضرت کے ساتھ میرا بھی جانا ہوا،حضرت سے بیعت کےلئے وہاں بہت سارے لوگ موجود تھے،جب سارے لوگ بیعت کےلئے جمع ہوئے تو میں انکے ساتھ موقع غنیمت سمجھ کر شریک ہوگیا،حضرت نے سارے لوگوں کے ساتھ مجھے بھی بیعت فرمایا”(جامعہ ڈابھیل اور فن تجویدص125) تادم حیات حضرت فدائے ملت کے بتائے ہوئے وظائف،معمولات اور تسبیحات پر پابندی سے عمل کرتے رہے،اور فرماتے تھے کہ فدائے ملت کے وصال کے بعد اب کسی سے رجوع نہیں کیا اور کسی سے جی بھرتا بھی نہیں ہے،ان سے بڑا کوئی شیخ مجھے نظر نہیں آتا،میں انھیں اپنے دور کا سب سے بڑا ولی سمجھتا ہوں،الحمدللہ آخری منزل تک انھوں نے مجھے پہونچادیا۔
اکاسی سالہ ایک بظاہر بوڑھا شخص جنکے ہمت و حوصلے ابھی انتہائ جواں تھے،جام وحدت لٹاتے لٹاتے اچانک گذشتہ ماہ دس فروری کی صبح ہزاروں مداحوں،شاگردوں،رشتے داروں اور محبین کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دنیا سے ہمیشہ کےلئے روپوش ہوگیا،آنے والی نسلیں انکے نقش قدم پر چل کر اپنے منزل کا پتہ ڈھونڈے گی،ایک ایسا ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخص جو یقینا برسوں میں پیدا ہوتاہے ہم نے بڑی آسانی سے اسے کھو دیا،رب انکی مغفرت فرمائے،درجات کو بلند فرمائے،اورپسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے،آج ضرورت ہے کہ انکے پیغام اور انکی فکروں کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے،اسکے لئے انکے نام پر ادارے، لائبریریاں اور اکیڈمیاں قائم کی جائیں انکے فکرو خیالات پر ریسرچ کیاجائے،وہ تو چلے گئے لیکن انکا نام زندہ رہے گا، علمی حلقوں میں انکا تذکرہ ہوتا رہے گا،انکے شاگردان انکے فکر و خیالات کو آگے بڑھاتے رہیں گے،دنیا بھرکے مختلف ممالک میں جو شخص اپنے علم کا سکہ جماتارہا،اپنے فن اور علم کا ڈنکا بجاتا رہا،اپنی ایک منفرد شناخت بناتارہا،جب دنیا سے گیا تو انکے علاقے میں جہاں سے انکا تعلق تھا وہاں چراغ تلے اندھیرا کیوں؟ کوئی زیادہ ہلچل نہیں دیکھی گئی،کتنی افسوس کی بات ہے کہ جس ادارے کو انھوں نے قائم کیا،اپنے خون جگر سے اسے سینچا،سنوارا اور ایک شجر سایہ دار بنایا آج اس ادارے میں انکے لئے ایک تعزیتی پرو گرام تک کا اہتمام نہیں ہوسکا،کیا امید کی جاسکتی ہے کہ یہ ادارہ اپنے بانی مبانی کے فکروخیالات اور منصوبہ بندی کو پروان چڑھائے گا؟ ملک و بیرون ملک مختلف پروگرام اور تعزیتی اجلاس ہوتے رہے لیکن خود انکا ادارہ اس سے خالی رہا پتہ نہیں اسکے پیچھے کیا مصلحت ہے،کیا یہ سرزمین بہار کی خاصیت کا اثر ہے یا پھر کچھ اور خدا بہتر جانے،بہار کی مردم خیزی کے ساتھ مردم خوری کا لاحقہ بالکل حقیقت ہے،کسی کہنے والے نے شاید درست کہا ہے بہار میں سب لوگ نہیں چمک پاتے،اور اپنی صلاحیت کا لوہا نہیں منوا پاتے،بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو وہاں نمایاں ہوپاتے ہیں،ورنہ اکثر لوگ یوپی،گجرات،حیدرآباد اور ملک کی دیگر ریاستوں میں جاکر اپنے علم اور اپنی صلاحیت کا ڈنکا بجاتے ہیں،بہار کی سرزمین افراد تو پیدا کرتی ہے لیکن اسی تیزی کے ساتھ اسے نگل بھی جاتی ہے،ممکن ہے ابھی حضرت کے جانے کا غم منایا جارہاہو،جانے والے تو چلے گئے،جامعہ ڈابھیل کے منتظمین قابل مبارکبار ہیں اور یہ معلوم کرکے بڑی مسرت ہوئی کہ وہاں کی مجلس علمی نے حضرت کی سوانح حیات پر کام شروع کرادیاہے،خداکرے کہ یہ مرحلہ جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہونچے اللہ تعالی آسانیاں پیدا فرمائے،جانا تو سب کو ہے،کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
مؤرخ یوں جگہ دیتا نہیں تاریخ عالم میں
بڑی قربانیوں کے بعد پیدا نام ہوتاہے۔

(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: