زکاۃ سب سے پہلے اپنے غریب رشتہ دار کو دیجیے!

✍ عبدالغفار صدیقی

________________

زکاۃ کے استعمال پر بھارتی مسلمان افراتفری کا شکار ہیں۔علماء مدارس اپنے خطابات میں ا س موضوع پر گفتگو کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔زکاۃ کے تعلق سے ایک بات یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کس مال پر کتنی زکاۃ ہے؟دوسری بات یہ جاننے کی ہے کہ زکاۃ کا مستحق کون ہے؟زکاہ چونکہ مال پر فرض ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ زکاۃ کا تعلق اسلامی معاشیات سے ہے۔اللہ نے زکاۃ اس لیے فرض کی تھی کہ مسلمانوں میں غربت نہ رہے۔مگر برصغیر کے مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ سینکڑوں برس سے زکاۃ نکالنے اور دینے کے باوجود ہر سال غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
زکاۃ سونا،چاندی،اموال تجارت اور نقدی پر فرض ہے،ان سب کی قیمت لگاکر ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا ہے۔اس کے علاوہ جانوروں کی زکاۃ الگ ہے اور کھیتی پر عشر ہے،ان سب کی تفصیلات آپ کسی بھی فقہ کی کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں،یہ کتابیں اردو میں بھی دستیاب ہیں اور گوگل پر بھی سرچ کی جاسکتی ہیں۔
مصارف زکاۃ کے تعلق سے احادیث میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس بستی کے مالداروں سے وصول کی جائے اسی بستی کے غریبوں پر خرچ کی جائے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔”اللہ نے ان کے اموال میں زکاہ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔“(متفق علیہ)یہ ہدایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل ؓ  کو اس وقت فرمائی تھی جب انھیں آپ یمن کا گورنر بناکر رخصت کررہے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی بستی یا اپنے شہر کے ضرورت مندوں پر زکاۃ خرچ کی جائے گی،وہاں سے بچ رہنے کی صورت میں دوسری جگہ منتقل کی جائے گی۔
احادیث میں دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ زکاۃ اپنے قریب ترین اعزہ (اگر وہ مستحق ہوں)کو دینا زیادہ باعث اجر ہے۔آپؐ نے فرمایا۔”کسی حاجت مند کو صدقہ دینا (صرف) ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو صدقات (کے برابر) ہیں، ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔“(ترمذی)اس حدیث کے مطابق اپنے مستحق زکاۃ رشتہ داروں کو زکاۃ و صدقات دینے پر دوہرے اجر کی بشارت دی گئی ہے ایک تو زکاہ و صدقات دینے کا اجر اور دوسرا اپنے رشتہ دار کو دینے کا اجر۔
جہاں تک مستحقین زکاۃکا تعلق ہے وہ قرآن مجید میں صاف صاف بیان کردیے گئے ہیں۔سورہ توبہ کی آیت  60   میں ارشاد باری ہے۔”یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔“
اس آیت کی روشنی میں زکاۃ آٹھ مستحقین کو دی جاسکتی ہے۔(1) فقیرکو(2)مسکین کو(3)محصلین زکاۃ کو(4)برائے تالیف قلب غیر مسلموں کو(5) آزاد ی حاصل کرنے کے لیے  غلاموں کو(6) قرض ادا کرنے کے لیے مقرض کو(7) اللہ کی راہ میں (8) اور مسافر کو
اس فہرست میں کہیں بھی مدرسہ کا ذکر نہیں ہے،نہ تعلیم کا ہے۔اس کے باوجود نوے فیصدزکاۃ مدارس میں خرچ کی جاتی ہے۔اس کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ مدارس میں یتیم اور مسکین طلبہ پڑھتے ہیں اور یتیم و مسکین کا ذکر اس فہرست میں موجود ہے اس لیے زکاۃ کا مال ان پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔بلا شبہ کیا جاسکتا ہے۔لیکن کس حد تک؟کیا کسی مدرسہ میں دس بارہ بچے رکھ لینے پر دس بارہ لاکھ وصول کیے جاسکتے ہیں،کیا ان یتیموں کی آڑ میں اپنی خواہشیں پوری کی جاسکتی ہیں؟چار چھ یتیم رکھ کر کروڑوں کی جائداد اکٹھی کی جاسکتی ہے؟مدرسہ کی تعمیرات پر جو پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اس کا جواز کیا ہے؟
جب ایک مسلمان اپنے بچے کو عصری تعلیم کے لیے سرکاری یا پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتا ہے تو اس کی فیس کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے،پھر وہ اپنے بچے کو حافظ اورعالم بنانے پر پیسہ خرچ کیوں نہیں کرتا؟کیوں مدارس نے اپنے یہاں فیس کا نظام قائم نہیں کیا،اس کے پیچھے یہ وجہ تو نہیں کہ فیس لیں گے تو چندہ نہیں ملے گا؟فیس کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی غریب بچے مدارس کا رخ کرتے ہیں،فیس نہ دینے کی وجہ سے والدین بھی کوئی توجہ نہیں دیتے اس لیے کہ ان کی جیب سے کچھ خرچ نہیں ہوتا؟فیس نہ ہونے کی وجہ سے خوش حال گھرانوں کے بچے اپنی عزت نفس کی خاطر مدارس کا رخ نہیں کرتے۔اگر مدارس میں فیس کا نظم قائم کردیا جائے تو دینی تعلیم کی اہمیت اور قدر میں اضافہ ہوجائے گا۔کسی بھی قوم میں سو فیصد مستحق زکاۃ نہیں ہوتے،جب والدین اپنے بچے کی شادی اور مکان پر لاکھوں روپے خرچ کرسکتے ہیں تو تعلیم پر چند ہزارکیوں نہیں خرچ کرسکتے؟ہر مدرسہ میں فیس کا نظام قائم کیا جائے اور نادار طلبہ کے لیے میرٹ کی بنیاد پر تعلیمی وظائف دیے جائیں۔اس سے دینی تعلیم کی قدرو منزلت میں اضافہ ہوگا۔مدرسہ کے موجودہ نظام میں مستفدین کی اکثریت انتہائی پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہے،آگے چل کر یہی افراد ہماری مذہبی قیادت فرماتے ہیں۔اب آپ خود ہی اندازہ لگالیجیے کہ اس طبقہ کی قیادت میں ملت کا کارواں کہاں پہنچے گا؟
معاف کیجیے برصغیر ہند وپاک میں بڑے پیمانے پر زکاۃ گھوٹالہ ہوتا ہے، اگر اس کی جانچ کی جائے تو اچھے اچھے جبہ و دستار والے بے نقاب ہوجائیں۔زکاۃوصول کرنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کا مدرسہ صرف رسید بک اور کاغذپر ہی ہوتا ہے،کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ایک کمرے پر بھی جامعہ (یونیورسٹی) کا بورڈ لگا رکھا ہے۔سفراء کی اکثریت کو پچاس فیصد رقم کمیشن کے نام پر دے دی جاتی ہے۔کچھ مدارس کے ذمہ داران رسید بک کا یکمشت سودا تک کرلیتے ہیں۔زکاۃ کے اسی کرپشن کی وجہ سے مدارس کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ہر وہ عالم جو چندہ کرنے کے فن سے واقف ہے اپنا مدرسہ قائم کرلیتا ہے۔کچھ علماء اپنے ظاہری تقویٰ سے سیدھے سادے مسلمانوں کا بے وقوف بنا کر مدرسہ قائم کرلیتے ہیں۔بیرونی طلبہ کے نام پر اپنی فیملی کے بچوں کو یتیم کہہ کر داخل کردیتے ہیں۔بعض قراء و حفاظ بچوں کو اپنا یرغمال بناکر رکھتے ہیں وہ جہاں جاتے ہیں مدرسہ کے طلبہ انھیں کے ساتھ ہجرت کرجاتے ہیں۔جس کے ساتھ جتنے زیادہ بچے ہوں گے اس کی تنخواہ بھی اچھی ہوگی۔گاؤں کے ایک بچے کو مفت پڑھانے کے نام پر پورے گاؤں سے چندہ کرتے ہیں۔مثال کے طور پر آپ کا بچہ کسی مدرسہ میں مفت تعلیم حاصل کررہا ہے تو رمضان میں اس مدرسہ کا سفیر آپ کے پاس آئے گا اور آپ کے ساتھ گاؤں کے متمول افراد سے ملاقات کرکے زکاۃ وصول کرے گا۔زکاۃ گھوٹالوں میں ایک گھوٹالہ تملیک کے نام پر کیا جاتا ہے۔اس کے تحت زکاۃ کی ساری رقم ایک مستحق زکاۃ  طالب علم کو دے دی جاتی ہے اور پھر پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وہ بچہ رقم مدرسہ کو واپس کردیتا ہے۔علماء کے نزدیک اس طرح وہ زکاۃ  امداد بن جاتی ہے،اور پھر ہر کام میں خرچ کی جاسکتی ہے۔یہ حلالہ کی وہ قسم ہے جس پر احادیث میں لعنت کی گئی ہے۔
میری گزارش ہے کہ اگر آپ اپنے محلہ،بستی یا برادری یا جماعت کے تحت زکاۃ کا اجتماعی نظم قائم کرلیں تو اس کے ثمرات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔اگر یہ ممکن نہیں ہے تو اپنی زکاۃ پہلے اپنے غریب اعزہ کو دیں،چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں،پھر اپنے محلہ اور بستی کے ضرورت مندوں کو دیں،اس کے بعد قریبی گاؤں یا شہر میں خرچ کریں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ زکاۃ نکالنے کے بعد ساری زکاۃ ایک ماہ میں خرچ کرنا ضروری نہیں ہے،آپ چاہیں تو اسے ایک سال تک تھوڑا تھوڑا کرکے بھی خرچ کرسکتے ہیں،دوسری بات یہ ہے کہ زکاۃ لینے والے کو یہ بتانا قطعاً ضروری نہیں کہ آپ اسے زکاۃ دے رہے ہیں،اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ بتانے سے اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے گی تو آپ اسے نہ بتائیں،بس آپ کی نیت کافی ہے۔مدارس میں بھی اگر آپ زکاۃ دیں تو اپنی بستی کے مدرسہ میں دیں۔ہر ایرا غیرا مدرسہ کی رسید نہ بنوائیں۔
جہاں جہاں زکاۃ کا اجتماعی نظم قائم ہے اس نظم کا تعاون کیجیے،جہاں نہیں ہے اسے قائم کیجیے،اگر پوری بستی کے افراد بھی شامل نہ ہوں تو کم از کم اپنے ہم خیال افراد کو ہی یکجا کرلیجیے اور زکاۃ کو معاشی استحکام کا وسیلہ بنائیے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: