محبت پر مبنی ادب کو فروغ دینے کی ضرورت

✍️ ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی

__________________

کسی بھی دور کا لکھا ہوا ادب و لٹریچر یا تحریر  وہی متوازن اور صالح فکر کی عکاس کہی جا سکتی ہے  جس میں اس وقت کے حالات کا  درست تجزیہ و تنقید کی گئی ہو ، خواہ ان کا تعلق شعبہ حیات کے کسی بھی پہلو سے ہو ۔  سماج و معاشرے میں موجود تحریکات و نظریات کی ترجمانی بلا تفریق مذہب و ملت کی گئی ہو۔ سیاسی معاملات و مسائل اور اس کے خدو خال پر سنجیدہ  بحث کی گئی ہو ۔ اس تناظر میں  یہ بات پورے اعتماد سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ  حال کا مثبت اور متوازن تجزیہ پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے ماضی میں اس کو درست انداز میں پیش کیا گیا ہو، نیز مستقبل کے حالات سے معاشرے کو روشناس کرانے کے لیے حال کا درست تجزیہ کیا جانا شرط ہے ۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری تاریخ اور جملہ معاشرتی و سماجی مسائل کو دیکھا جاسکتا ہے۔ لہذا اب یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی تاریخ کی ایسی بہت ساری گتھیاں ہیں جو الجھی ہوئیں ہیں، جس کی بناء پر سماج میں تفریق پیدا ہوتی ہے ۔ کبھی کبھی اس نوع کے اختلاف محض علمی اور تحقیقی بنیادوں پر نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ اختلافات معاشرے میں بد امنی اور سوچ و فکر کو محدود بناتے ہیں ۔ یہاں سے تعصب اور عدم برداشت کا رویہ پروان چڑھتا ہے ۔ اس  لیے اگر ہم معاشرے کو کوئی مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہمیں اس واقعہ یا خبر کی پوری طرح سے تحقیق کرنی ہوگی، اگر وہ ماضی سے وابستہ ہو تو ان نظریات و افکار کا مطالعہ کرنا ہوگا جو افکار و خیالات اس حوالے سے ارباب بصیرت نے پیش کیے ہیں ۔ اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی اس پر کوئی رائے ، تنقید ، تجزیہ یا معروضی مطالعہ سماج کے رو برو کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح کے تجزیے اور تبصرے سماج میں امن و امان نیز فکر و نظر میں کشادگی کا سامان پیدا کرتے ہیں ۔
دنیا کی مہذب قومیں اور ارباب فکر و فن زیادہ تر ایسی ہوتی جو اپنے علمی اسباب و وسائل کو منظم و مربوط کرتی ہیں ۔اپنی تالیفات و تصنیفات اور تحقیقات و تجزیوں میں  حقائق ، شواہد اور منطقی انداز کو اختیار کرتی ہیں ۔ ہم اس بات سے  بخوبی واقف ہیں کہ جو تجزیے اور تبصرے یا تصورات ونظریات ، شکوک وشبہات سماج میں پیدا کرتے ہیں معاشرے میں ان سے کوئی مثبت پیغام نہیں  جاتا ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ آج زیادہ تر ایسے تجزیے کیے جارہے ہیں جو حقائق پر مبنی نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان میں جذبات، نفرت یا عقیدت کا غلبہ ہوتا ہے۔ جب کہ ضروری یہ ہے کہ تجزیہ خواہ کسی بھی پہلو یا شعبہ حیات سے وابستہ ہو، اس کے اندر ، طرفداری ، عقیدت ، نفرت عدم تحقیق کا شائبہ تک نہ ہو ۔ سماج ایک زندہ حقیقت ہے اور اس میں پائے جانے والے تغیر بھی سماج کا حصہ ہوتے ہیں، سماج میں جو بھی تبدیلیاں آتی ہیں ان کا درست تجزیہ اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ ہم ان حالات سے پوری طرح واقف ہوں ۔ عدم واقفیت یا کسی نظریہ کو پہلے سے متعین کرکے کوئی تجزیہ کیا جاتاہے تو اس کے نتائج ہمیشہ مایوس کن اور متنفرانہ ہی ہوتے ہیں۔ برعکس جو تجزیے شعور و آگہی اور ادراک و احساس کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں وہ  سماج میں مثبت سوچ اور نظریاتی استحکام بخشتے ہیں ۔ ان سے سماج کو علمی و تحقیقی روح ملتی ہے،  فکرو نظر میں توسع پیدا ہوتا ہے ۔ امن و امان اور اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ جہالت یا نادانی کی وجہ سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے تو بآسانی اس  کا اِزالہ ہو جاتا ہے۔
علم و تحقیق کا میدان جس طرح دیانت اور امانت چاہتا ہے اور جو اس کے تقاضے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا آج ہمارے معاشرے میں علم و تحقیق کے میدان میں اس طرح کے رویے اختیار کیے جا رہے ہیں ؟ عہد حاضر میں آنے والی تحقیقات خواہ ان کا تعلق مذہبیات ، سماجیات ، اخلاقیات یا سیاسیات سے ہو،ان تمام میں ایک قدر مشترک ہے وہ یہ کہ اب اس معیار اور تحقیقی  قدروں کی رعایت نہیں رکھی جارہی ہے جس طرح سے رکھی جانی چاہیے ۔ دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ اب اصل مصدر کی طرف رجوع نہیں کیا جاتاہے بلکہ ثانوی مراجع سے استفادہ کرکے کام چلانے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف محققین کے لیے ٹھیک ہے اور نہ ہی اس کردار سے معاشرے کو صحیح پیغام پہنچ پائے گا ۔ اگر ہم واقعی علم و تحقیق اور فضل و کمال کی روحانیت اور اس سے پھوٹنے والی کرنوں سے سماج میں فکری ، عملی اور نظریاتی اصلاح کے خواہش مند ہیں تو پھر ہمیں ان رویوں اور کرداروں پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی جو روایتی و رسمی طریقے ہمارے  یہاں پائے جاتے ہیں ۔
محققین ، تجزیہ نگاروں ، کالم نویسوں اور مصنفین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی معاملہ میں صحیح تحقیق اور مثبت سوچ کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کی روحانی لذت سے سماج  پوری طرح محظوظ ہوتا ہے وہیں اگرتعصب ، تنگ نظری یا منفی سوچ و فکر کے ساتھ کسی تحقیق کی تخلیق کی گئی ہو تو پھر اس کے جو اثرات سماج میں یکساں مرتب ہوں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آج بھی وہ مصنفین اور ان کی فکر زندہ ہے جن کے تجزیوں میں اعتدال و توازن ہوتا ہے ۔
تجزیہ کتاب پر ہو ، سماج میں رائج کسی تحریک و نظریہ پر ہو اگر شعور و احساس یا دینات داری سے نہ کیا جائے تو پھر وہ تجزیہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کسی کتاب پر تبصرہ کررہے ہیں اور مصنف کتاب سے پہلے سے آپ کو عقیدت یا نفرت ہے تو اس صورت میں جو تبصرہ کتاب پر کیا جائے گا وہ متوازن نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح آج ہندوستان میں رواں حکومت اور مسلمانوں کی بابت جو تجزیے کیے جارہے ہیں ان میں بھی کہیں نہ کہیں جھول اور غیر سنجیدگی ہے کیوںکہ پہلے سے ایک رائے بنی ہوئی ہے اسی رائے کو آگے بڑھانا جاتاہے ہے البتہ فرق یہ ہے کہ انداز بیاں الگ ہوتا ہے ۔
جس طرح سے دنیا ایجادات اور انکشافات میں آگے بڑھ رہی ہے اسی تیزی کے ساتھ ریسرچ و تحقیق کے بھی آلات و اسباب کی کثرت ہے ۔ مواد کو تلاش کرنا آسان ہوگیا ہے اس کے باوجود دیانت داری سے کام نہیں لیا جارہاہے جو نہایت ہی افسوسناک امر ہے ۔ اس بدلتی دنیا میں اگر کوئی چیز راہ راست پر لا سکتی ہے تو وہ ہے ہمارا متوازن فکری کردار اور وہ تجزیے جو معاشرے کو تدبر و تفکر کی راہ ہموار کریں ۔ صالح ادب کی جو ضرورت ہے وہ بھی ناقابل تردید ہے ۔ اس لیے معاشرے میں ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے ہمیں ایسا ادب تدوین و ترتیب دینا ہوگا جس میں انسانی رشتوں کا خیال رکھا جائے اور معاشرے کو فکری و نظریاتی طور پر بھی مستحکم کرے ۔ سماجی اور معاشرتی رشتوں کو آج جس تیزی سے پامال کیا جارہاہے اور اس کی جگہ نفرت و عداوت اور تعصب و تنگ نظری پر مبنی ادب کی ترویج کی جارہی ہے وہ نہایت خطرناک عمل ہے اس رویے سے بچنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ محبت پر مبنی ادب کو فروغ دینا ہوگا تاکہ مل جل کر رہ سکیں ۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: