دین اور مسلمان

دین اور مسلمان 

محمد عمر فراہی

رمضان کا مہینہ آتے ہی اکثر دوست احباب پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ بھائی یہ زکواۃ کا کیا معاملہ ہے ۔ مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے کہ بھائی کب تک یہ معاملہ پوچھتے رہیں گے ؟ ۔جواب ملتا ہے کہ یہ تو معلوم ہے کہ ڈھائی فیصد نکالنا ہے لیکن ہمارے پاس نقد تو رہتا نہیں ہے اور جو تجارت میں ہے آپ تو جانتے ہی ہیں کہ وہ کب ملے گا اور ملے گا بھی یا نہیں اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ جہاں تک زیورات کی بات ہے اس کی زکواۃ تو ہم نکالتے ہی ہیں لیکن اپنی عورتوں سے کہتے ہیں کہ زیوارات اتنا ہی رکھیں جتنی ضرورت ہے کیوں کہ زیادہ زیورات رکھ کر اس کی زکواۃ ادا کرکے کیا فائدہ جب ضرورت ہوگی زیور خرید لیں گے ۔

میں نے کہا آپ نماز پڑھتے ہیں ؟۔انہوں نے کہا ہاں ۔پھر میں نے کہا کچھ نفل اور تراویح وغیرہ کا بھی اہتمام کرتے ہیں ؟ ۔انہوں نے کہا ہاں ۔میں نے کہا کیا فائدہ ۔

اچانک چونکے اور کہنے لگے یار آپ تو عجیب بات کرتے ہیں ۔میں نے کہا عجیب بات میں نہیں آپ نے کی ہے ۔میں نے کہا جب آپ زکواۃ کی ادائیگی سے بچنا چاہتے ہیں تو نماز اور روزے سے بچنے کا بھی حل ڈھونڈھتے ہوں گے ۔

بات مزاق کی نہیں یہ حقیقت بھی ہے ۔ مسلمانوں پر نماز فرض ہے لیکن مسلمانوں کی اکثریت ہفتے کی جمعہ کی نماز کے علاوہ فرض نماز نہیں پڑھتی ۔پچھلے مضمون "بر صغیر کے مسلمانوں کی نماز "میں ہم نے کچھ ایسی ہی تصویر دکھائی ہے ۔ہم اس وقت جس مادہ پرستانہ دور سے گزر رہے ہیں نماز کے علاوہ دوسری عبادات کو بھی دنیاوی فائدے اور نقصان کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان سے غفلت برتنے کا رویہ صاف نظر بھی آتا ہے ۔مثلا نماز کے بعد جو دو سب سے اہم دین کے ارکان ہیں جیسے کہ زکواۃ اور روزہ اس کا حشر بھی ہم نے بہت اچھا نہیں کیا ہے ۔جیسا کہ اوپر ہم لکھ چکے ہیں کہ لوگ کیسے زکواۃ سے بچنے کا بہانہ ڈھونڈھتے ہیں اس پر آگے اور بھی خلاصہ ہو گا ابھی دیکھتے ہیں کہ کیسے سال میں رمضان کا صرف ایک مہینہ ہوتا ہے جس میں اللہ نے جسمانی عبادت کے ذریعے اپنے بندوں کی مغفرت کا بھر پور موقع دیا ہے لیکن اس کے ساتھ بھی کتر بیونت والا معاملہ زور شور سے جاری ہے ۔

کہتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ وہ انہیں معاف کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔روایتوں میں آتا ہے کہ بدقسمت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور وہ اللہ سے اپنی مغفرت کروانے میں ناکام رہا ۔یعنی اگر کسی شخص کو یہ مہینہ ملا اور اس نے صدق دل سے توبہ کر لی کہ اب وہ ماضی میں ہونے والے خرافات اور برائیوں کو مستقبل میں نہیں دہرائے گا تو اللہ اس کی ساری گناہیں معاف کر دیتا ہے ۔لیکن دیکھا جارہا ہے کہ اچھے خاصے صحت مند لوگوں میں بیماری کا جواز پیدا کر کے روزہ چھوڑنے کی روایت عام ہو رہی ہے یا جو پیسے والے ہیں وہ تیس دن کے کھانے کی رقم کسی مدرسے وغیرہ کو دے دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ رمضان میں جو عبادتوں کی فضیلت ہے اسے کتنی بھی کر لی جاۓ کم ہے لیکن کچھ لوگ تو زمانے سے بیس اور آٹھ رکعت کی تراویح کی بحث میں اٹکے ہوۓ ہیں جبکہ یہ نفل عبادت ہے جسے چھوڑنے کا کوئی گناہ نہیں لیکن چھوڑنے والے کو بدقسمت تو ضرور کہا جاۓ گا کیوں کہ رمضان کی انہیں تیس راتوں میں لیلتہ القدر بھی آتی ہے اور یہ رات انہیں کے نصیب میں آ سکتی ہے جس کی عبادت میں اخلاصِ ہو ۔یہاں تو معاملہ یہ ہو رہا کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنے تجارتی مفاد کیلئے تین دن اور دس دن میں قرآن ختم کر کے عام دنوں کی طرح کاروبار میں مصروف ہو جاتا ہے ۔یعنی اللہ نے جن بندوں کو بخشنے کیلئے تیس دن دئے تھے اسے اس نے گھٹا کر تین دن میں سمیٹ دیا ۔مولوی کو بھی نذرانے مل جاتے ہیں وہ اس بدعت کے خلاف کبھی سختی سے آواز نہیں اٹھاتے جبکہ ان میں بھی ایک طبقہ جو چندے کیلئے نکلتا ہے وہ اکثر تراویح کا اہتمام نہیں کرتا ۔ غور کیجئے کہ عام مسلمانوں کو کلمے کی نعمت تو بے ہوشی کے عالم میں اس کے ماں باپ سے بغیر محنت اور علمی جدوجہد کے ورثے کے طور پر مل جاتی ہے ۔نماز کا حشر وہ اپنے ہوش و حواس میں جو کرتا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔روزے اور رمضان کی عبادات کا معاملہ بھی ہم نے کچھ بیان کر ہی دیا ہے ۔

——————-(جاری)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: