’’نیتی آیوگ‘‘ کی میٹنگ ، کئی اہم لیڈران کا شرکت سے انکار

’’نیتی آیوگ‘‘ کی میٹنگ ، کئی اہم لیڈران کا شرکت سے انکار

نیتی آیوگ میٹنگ:  نئی پارلیمنٹ کی عمارت کی افتتاحی تقریب کو لے کر اپوزیشن اور مرکزی حکومت کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے اثرات’’ نیتی آیوگ ‘‘ کی نئی دہلی میں ہونے والی  میٹنگ میں بھی نظر آئے گا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

میٹنگ کی صدارت: ان رہنماؤں نے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے 28 مئی کو نئی پارلیمنٹ کی افتتاحی تقریب سے خود کو دور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کی آٹھویں میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف منسٹر کو کمیشن کی گورننگ کونسل میں شرکت کرنا ہے۔ ایسے وقت میں نیتی آیوگ کی میٹنگ میں ان رہنماؤں کی عدم شرکت کے فیصلے کو افتتاحی تقریب کے بائیکاٹ کے نظرییے سے دیکھا جارہا ہے۔

Community-verified icon
 

اروند کیجریوال نے کیا کہا؟:وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جمعہ (26 مئی) کو پی ایم مودی کو ایک خط لکھا کہ وہ دہلی میں بیوروکریٹس کے تبادلے پر مرکز کے آرڈیننس کی وجہ سے میٹنگ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔انھوں نے الزام لگایا کہ ملک میں کوآپریٹو فیڈرلزم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک ‘مذاق’ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی لیڈر اور پنجاب کے  وزیر اعلی بھگونت مان نے بھی نیتی آیوگ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممتا بنرجی بھی شریک نہیں ہوں گی:نیتی آیوگ کی میٹنگ میں ممتا بنرجی کی بھی شرکت نہیں ہوگی۔ ان کی شرکت نہ کرنے کی وجہ کام میں مصروفیت کو بتایا گیا ہے۔ یہ اطلاع وزیر خزانہ چندریما بھٹا چاریہ نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر مرکزی حکومت نے مجھے اور چیف سکریٹری کو بھیجنے کی درخواست کو ٹھکرا دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے سی آرنے کہا: ’’ نیتی آیوگ‘‘ کی ساتویں گورننگ کونسل کی میٹنگ آج پی ایم مودی کی صدارت میں ہونے جا رہی ہے، لیکن تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر نے بھی میٹنگ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا، ’’میں نیتی آیوگ کی ساتویں گورننگ کونسل کی میٹنگ میں حصہ لینا ضروری نہیں سمجھتا ہوں۔ میں مرکزی حکومت کی مخالفت کا ایک مضبوط ستون ہوں۔مرکز ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اور بھارت کو ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنانے کی اجتماعی کوششوں میں حصہ نہیں لیتا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: