صبر کامیابی اور ظفر مندی کی کلید ہے !

محمد قمرالزماں ندوی/استاد  مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

   مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے اور اس کی تلقین کی گئی ہے،کہ وہ تقویٰ اور صبر و استقامت کو اپنا شعار بنائیں اور صبر و ثابت قدمی کا دامن کبھی نہ چھوڑیں، مکی زندگی میں بعض صحابہ کرام،، تنگ آمد بجنگ آمد،، کےمصداق کفار سے سیدھے مقابلہ کی اجازت طلب کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر صبر کی تلقین فرماتے کہ جہاں تک ممکن ہو، تشدد مزاحمت اور ٹکراؤ سے بچا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل مکہ سے یہی مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کو سکون اورامن کیساتھ اپنے دین اور شریعت پر چلنے کی اجازت دی جائے، اگر مکہ والوں کو اپنے دین پراصرار ہو تو وہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کریں ، لیکن دوسروں کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ،، لکم دینکم ولی دین،، ہجرت کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقائے باہم اور امن و امان کی فضا باقی رکھنا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے اہل مکہ کی شرطوں کو مانتے ہوئے،صلح حدیبیہ فرمائی، اس درمیان یہود و نصاریٰ اور دیگر لوگوں سے ایک معاہدہ اور فرمایا ، جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۱/ سال صبر و انتظار کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام اور مسلمان فتح مکہ کی منزل تک پہنچے۔ (مستفاد از کتاب مشعلِ راہ ۱۹۸/۱۹۷) 

حضرات! 

      جس ملک میں ہم لوگ رہ رہے ہیں، یہ نہ دار الحرب ہے اور نہ ہی دار الاسلام بلکہ فقہاء کی اصطلاح میں یہ دار الامن ہے، جس امن کو ختم کرنے کے لیے آج کل یہاں ایک لابی سرگرم ہے، جس کی تعداد تو بہت کم ہے ، لیکن وہ مسلسل اپنے مکر و فریب اور سازشوں سے اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں، اور زعفرانی رنگ میں اس کو رنگ دینا چاہتے ہیں ،اس طبقہ کی سازشوں اور ناپاک عزائم کو حکمت عملی اور صبر و استقامت اور حسن تدبیر سے ناکام بنانا ہوگا، اس کے لیے طویل محنت، جہد و جہد، حکمت و دانائی، مصلحت اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ ہمیں یہاں مکی زندگی جیسے ماحول کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے اس ماحول میں عجلت، جلد بازی اور بے صبری کے ذریعہ ہم اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس ملک میں اگر بردارن وطن تشدد اور لا قانونیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں، کریں،ہم تو اس راستہ کو اختیار نہیں کریں گے، بلکہ قانونی اور جمہوری راستے سے ان کو اس اقدام سے روکیں گے۔ یاد رکھیں کہ جب کسی قوم میں صبر و انتظار کی صلاحیت ہوتی ہے، اور وہ پر امن انقلاب کے ذریعہ تبدیلی لاتی ہے تو وہ دشمنوں کی سازشوں ، ان کے مکروفریب اور ان کے استحصالی منصوبوں اور پروگراموں سے محفوظ رہتی ہے۔ ارشاد خدا وندی ہے:” وان تصبکم سیئة یفرحوا بھا، و ان تصبروا و تتقوا لا یضرکم کیدھم شئیا،، ( آل عمران۔۔)

    اور جب قومیں لا قانونیت پر اتر آتی ہیں ،تشدد پر اتر آتی ہیں تو قومیں اپنے دشمنوں کا آلہ کار بن جاتی ہیں۔ 

   دوستو، بزرگو! 

     آخرت کا نظام یہ ہوگا کہ وہاں انسان جو خواہش کرے گا وہ چیز فورا مل جائے گی، صبر و انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی ہوگی، لیکن دنیا کا نظام اللہ نے یوں بنایا ہے کہ یہاں انتظار کی زحمت سے دو چار ہونا پڑتا ہے، صبر کرنا پڑتا ہے، مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہے، حالات کو چھیلنا پڑتا ہے ،برسہا برس انتظار کے بعد ہی اس کی آرزو پوری ہوتی ہے۔ زندگی کے تمام شعبے میں اور تمام امور میں جہد مسلسل ،سعی پیہم کے بعد اور صبر آزما لمحات گذرنے کے بعد ہی انسان کا خواب پورا ہوتا ہے۔ اس لیے ماحول کی تبدیلی میں بھی بے صبری جلد بازی اور عجلت سے کام لینا مناسب نہیں ہوتا، اس سے فائدہ کم نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ 

  حالیہ دنوں میں یقینا مسلمانوں نے صبر سے کام لیا اور امن و قانون کی بالادستی قائم رکھنا چاہا تو غیب سے مدد آئی، ان کے مکر و فریب ناکام ہوگئے اور مکروا و مکر اللہ واللہ خیر الماکرین کا نتیجہ کھلے عام دیکھا گیا اور دیکھا جارہا ہے۔ 

     ضرورت ہے کہ ہم اپنے حصہ کا کام کریں، وہ یہ ہے کہ اپنے ایمان و یقین کو مضبوط کریں، صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں، دعوتی فریضہ کو انجام دیں، انسانیت اور مانوتا کے پیغام کو عام کریں، اپنی نافعیت علمی،سیاسی،سماجی اور اخلاقی ہر میدان میں ثابت کریں، نبیﷺ کے اخلاق و اوصاف کو اپنا کر غیروں کو اپنا اسیر بنا لیں، اپنے وجود کو ایسا بنائیں کہ غیر میرے بغیر اپنے کو ادھورا اور ناقص سمجھیں، سماجی خدمت کے شعبہ میں اپنا لوہا منوائیں اور خدمت خلق کے ذریعہ ان کو اپنا قائل کرا لیں ۔ اور سب سے ضروری بات یہ کہ موجودہ حالات میں صبر و استقامت اور ثابت قدمی کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں اور یاد رکھیں کہ اس کے بغیر اس ماحول سے ہم نہیں نکل سکتے۔ صبر کیا ہے، اس کا فائدہ کیا ہے؟ آیئے اس کو ہم ایک واقعہ سے سمجھاتے ہیں۔ 

      امام یزید بن ہارون واسطی رح (متوفی ۲۰۶ھج) تبع تابعین میں بڑے مقام و مرتبہ کے  مالک ہیں، وہ اپنی طالب علمی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں طلب علم میں کئ سال اپنے اہل و عیال سے دور رہا بغداد پہنچا تو معلوم ہوا کہ مقام عسکر میں ایک تابعی عالم ہیں، میں ان کی خدمت میں گیا اور حدیث بیان کرنے کی گزارش کی تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی ۔ 

تـــرجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالٰی کسی مصیبت میں مبتلا کرے تو اس کو صبر کرنا چاہیے، پھر صبر کرنا چاہیے پھر صبر کرنا چاہیے ۔

      شیخ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کے علاوہ اور کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد میں اپنے وطن واپس چلا آیا ،رات گئے گھر پہنچا اور گھر والوں کی نیند کے خلل کی وجہ سے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا اور کسی طرح کھول کر اندر چلا گیا، میری بیوی چھت پر سوئی ہوئی تھی ،میں نے اوپر آکر دیکھا کہ بیوی سوئی ہوئی ہے اور ایک نواجون لڑکا بھی اس کے قریب میں سویا ہوا ہے، میں نے پتھر اٹھا کر اس کو مارنا چاہا مگر عسکر کے شیخ کی (روایت کردہ) حدیث یاد آگئ اور رک گیا اسی طرح دو تین بار پتھر اٹھایا اور رک گیا اسی دوران میری بیوی کی آنکھ کھل گئی مجھے دیکھ کر اس نے جوان کو جگایا کہ اٹھو اپنے باپ سے ملو اور لڑکے نے اٹھ کر میری پذیرائی کی،جس وقت میں طلب علم کے سفر میں نکلا تھا تو اس وقت میری بیوی حمل سے تھی ،اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ حدیث پر عمل کی برکت ہے ۔   (آثار البلاد و اخبار البلاد ص: ۴۰۸ بحوالہ انسانی عظمت کے تابندہ نقوش ص: ۱۰۲)

   محترم حضرات! 

اس واقعہ کو ذہن میں رکھیئے اور پھر غور کیجئے کہ انسانی زندگی میں صبر کی کتنی سخت ضرورت ہے،اس کی کتنی اہمیت ہے اور صبر کا انجام اور نتیجہ کتنا مفید اور ثمر آور ہوتاہے ؟۔ صبر کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں نوے سے زیادہ مقام پر صبر کا تذکرہ آیا ہے ۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو مقام سر کا ہے ، جسم میں ،ایمان میں وہی درجہ اور مقام صبر کا ہے ۔ (نضرة النعیم : ۶/ ۲۴۴۳) 

 قرآن مجید نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ صبر ہی اللہ تعالٰی کی معیت اور اس کی مدد کی کلید بلکہ شاہ کلید ہے ۔ واللہ مع الصابرین ۔( البقرہ ۲۴۹) اور اللہ  تعالٰی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

” قرآن مجید نے خاص طور پر مسلمانوں سے کہا ہے کہ اگر کوئی گروہ تمہارے ساتھ زیادتی کرے تو تمہارے لئے اسی حد تک اس کا جواب دینے کی گنجائش ہے؛  لیکن معیاری اور افضل طریقہ یہ ہے کہ تم انتقام لینے کے بجائے صبر کا راستہ اختیار کرو: ۔ و ان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین۔ النحل : ۱۲۶ ۔ 

صبر اصل میں محبت کے تقاضوں میں سے ہے اور تدبیر کے اعتبار سے یہ دشمن کے ہتھیار چھین لینے کے مترادف ہے؛ کیوں کہ تشدد کا جواب اس سے زیادہ تشدد سے دیا جاسکتا ہے؛ لیکن عدم تشدد کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا، زبان درازی کے جواب میں اس سے بڑھ کر زبان درازی کی جاسکتی ہے ؛ لیکن خاموشی کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا؛ اسی لئے داعی کا کام یہ ہے کہ جو قوم اس کی مخاطب ہو، وہ اس کی اشتعال انگیز باتوں کے جواب میں اشتعال کا مظاہرہ نہ کرے، اگر وہ شان و شوکت کا اظہار کرے ،نعرے لگائے اور اپنی سربلندی کے اظہار کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرے ، جو آج کی دنیا میں کئے جاتے ہیں، تو داعی گروہ کا کام یہ ہے کہ وہ خاموشی کے ساتھ ظاہری شان و شوکت کے اظہار کے بغیر اپنا کام کرتا رہے؛ یہاں تک کہ مخالفین کے پاس لوگوں کو جوش دلانے ،گرمانے اور مشتعل کرنے کے لئے کوئی مواد ہی نہ مل سکے اور بالآخر لوگ آہستہ آہستہ ان کی مفسدانہ مہم سے دور ہوجائیں ۔ (منصف مینارئہ نور جمعہ ایڈیشن ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء)

حضرات!

صبر و تحمل برداشت اور تقوی ہر مصیبت کا علاج ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں جو اوصاف سب سے زیادہ نمایاں ہیں وہ صبر اور تقوی ہی ہے ۔ ان ہی دو خصوصی اوصاف کو اختیار کرنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام انسانی عظمت و رفعت اور عروج و کمال کی اس بلندی پر پہنچے، جہاں بغیر ان دو اوصاف کے پہنچنا عموما ناممکن ہے ۔ 

مفتی محمد شفیع صاحب رح نے معارف القرآن میں سورہ یوسف کی آیت ’’انه من یتق و یصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین‘‘  (اوربیشک جو اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا) کی تفسیر میں لکھا ہے،، کہ ، اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ یعنی گناہوں سے بچنا اور تکلیفوں پر صبر و ثبات قدم ، یہ دو صفتیں ایسی ہیں جو انسان کو ہر بلا و مصیبت سے نکال دیتی ہیں، قرآن کریم نے بہت سے مواقع میں ان دو صفتوں پر انسان کی فلاح و کامیابی کا مدار رکھا ہے ارشاد ہے ۔ و ان تصبروا و تتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا یعنی اگر تم نے صبر و تقویٰ اختیار کرلیا تو دشمنوں کی مخالفانہ تدبیریں تمہیں کوئی گزند اور نقصان نہ پہنچا سکیں گی” ۔ 

      دوستو !

 صبر یہ بزدلی نہیں ہے، بلکہ خوش تدبیری ہے ،یہ فرار نہیں ہے بلکہ دشمن کے وار کو خالی کرنا ہے ،یہ ہزیمت اور شکست نہیں، بلکہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام و نامراد بنانا ہے ۔ یہ ہار نہیں بلکہ کامیابی فتح مندی اور ظفر یابی ہے ۔قرآن کی زبان میں اس کا نام صبر ہے ۔ صبر صرف شخصی مصیبت اور پریشانی کو سہنے اور برداشت کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ قومی اور اجتماعی زندگی میں ضبط و تحمل اور برداشت کا راستہ اختیار کرکے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کا نام بھی صبر ہے ۔ صبر سے انسان دہرا فائدہ اٹھاتا ہے، ایک تو اپنی قوت کے ضائع ہونے سے بچتا ہے دوسرے اپنے تعمیری کام میں تسلسل کو برقرار رکھتا ہے ،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ صبر پر دوہرا اجر و انعام دیا جائے گا ۔اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا ،،اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا میں بھی صبر دوہرے فوائد کا حامل ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آخرت کی مثال بنا کر پیدا کیا ہے ۔۔

   صبر کامیابی اور ظفر مندی کی کلید بلکہ شاہ کلید ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں یہی بات ارشاد فرمائی کہ ان کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ان کے حق میں پورا ہوا ۔ وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبروا ،، ۔

 صبر سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہار اور شکست ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ فتح و نصرت اور کامیابی و کامرانی ہے ۔و بشر الصابرین قرآن مجید میں کہا گیا ہے ۔

  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جان و مال کے معاملہ میں آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہوجاتا ہے کہ وہ اسے معاف کردے ۔( مجمع الزوائد 10/ 256)

   یہی بات قوموں اور جماعتوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے کہ جو قوم دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑی رہتی ہے اور صرف ناانصافی کا رونا روتی ہے، وہ دنیا میں حقیر اور ذلیل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توجہ اس سے ہٹ جاتی ہے اور جو قوم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے ناموافق حالات کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے، وہ کامیاب ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت اس پر سایہ فگن ہوتی ہے ۔

دوستو !

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی صبر سے بھری ہے ،، آپ نے اس کو عملاً  کرکے اور برت کر دکھایا ۔  آپ نے مسلمانوں کو ہمیشہ صبر کی تلقین کی ۔ صرف ایک مثال پر نظر کیجئے ،صلح حدیبیہ میں آپ نے بظاہر کتنی دب کر صلح فرمائی کہ پرجوش صحابہ کو یہ صلح ناگوار خاطر تھی ۔ لیکن آپ اس صلح پر قائم رہے ،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ہر قیمت پر مکہ والوں سے تعلق بہتر رہے، تاکہ وہ قریب سے اسلام کو دیکھ اور سمجھ سکیں ۔ پھر اس کا انجام اور فائدہ کس مثبت انداز میں ظاہر ہوا یہ آپ سب کو معلوم ہے ۔ یہی کچھ حکمت عملی آپ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنائی تاکہ حرم کی تقدیس جو لوگوں کی نگاہوں میں ہے ،اس کے بارے میں مسلمانوں کے تعلق سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو ۔( مستفاد از کتاب راہ عمل صفحہ 48/49)

اس وقت ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو اس کی بہت ضرورت ہے ، یقینا ہم بزدل اور کم ہمت نہ ہو لیکن صبر کے دامن کو بھی کسی حال میں نہ چھوڑیں اور اس سے خالی نہ ہوں ۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو صبر کی حقیقت، اہمیت اور اس کے فوائد و ثمرات کو سمجھنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے