ہماری بے حسی کہاں تک پہنچ گئی ہے !

محمد قمر الزماں ندوی استاد/ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 

   کافی دنوں پہلے کی بات ہے ، ماہنامہ الفرقان کے کسی شمارہ میں اس واقعہ کو پڑھا تھا کہ پاکستان کے ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنے سفر نامہ امریکہ میں بطور عبرت ایک واقعہ ذکر کیا تھا۔ کہ وہ ٹیکسی کرایہ پر لئے کسی علاقہ کی تفریح اور سیر و سیاحت کر رہے تھے ۔ہاتھ میں پیپسی کا ذبہ تھا ۔ڈبہ خالی ہوگیا تو چلتی گاڑی سے باہر سڑک پر پھینک دیا ۔ ان کا ڈبہ پھینکنا تھا کہ ڈرائیور بے ساختہ ان کی طرف متوجہ ہوا اور بولا ،، جناب کیا آپ کو معلوم نہیں ؟  ،،صدر امریکہ کا کہنا ہے ،، امریکہ کو کلین اور صاف ستھرا رکھو ،، یہ جملہ اس نے اپنی مادری زبان انگریزی میں کہا ۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں،، ایک لمحہ کے لئے میں سناٹے میں آگیا اور مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا جواب دوں ۔ایک تو ڈرائیور کی نظر میں اپنے گنوار ثابت ہونے پر اور اس کے بعد یہ خیال آنے پر کہ یہاں کہ یہاں ایک صدر حکومت کے ارشاد کی یہ قیمت اور اہمیت ہے ! جبکہ ہمارے ملک میں جگہ جگہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم لکھی گئی ہے، مدرسوں اور مکتبوں میں اس کو یاد کرایا جاتا ہے۔۔ النظافة نصف الایمان ،،صفائی آدھا ایمان ہے ،مگر رسول کی رسالت اور طھارت کا کلمہ پڑھنے والوں کو جو ذرا احساس ہوتا کہ کم از کم اس جگہ کو تو صاف رہنے دیں جہاں صفائی کا بطور خاص اہتمام کا حکم دیا گیا ہے۔

   یہ واقعہ اس صدر امریکہ بل کلنٹن کے زمانے کا ہے، جن کی بد اعمالیوں کا چرچہ ایک زمانہ میں میڈیا کا موضوع بنا ہوا تھا، اور جن کی حرکتوں سے منصب صدارت کو رسوائی کا وہ داغ لگ چکا تھا کہ کیا کہیے ! مگر تھے بہر حال امریکہ کے اس وقت کے صدر، اس لیے بحیثیت صدر ان کے ارشاد کے لائق احترام ہونے میں کوئی فرق امریکیوں کے لئے ان کی تمام فضیحتوں کے باوجود نہیں پڑا ۔

     یورپ و امریکہ میں صفائی ستھرائی کا جو ظاہری تصور ہے، وہ اعمال میں ثواب و عقاب اور عذاب کے خیال سے نہیں ہے، کیونکہ یہاں مذہب تو قصئہ پارینہ بن چکا ہے ،ان کی سوچ کا فلسفہ بس تمدنی و شہری ذمہ داری ہے ۔ اس احساس ذمہ داری میں وہ اس قدر آگے چلے گئے کہ بقول شخصے ،، ایک مخلوق کو وہ ساثھ رکھنے کے ایسے عادی ہیں کہ صبح کی سیر و تفریح میں اس کو ساتھ لے جانا لازمی سمجھتے ہیں اور اس مخلوق کی رفع حاجت کے لیے وہاں پارکوں میں الگ حصے بنیں ہیں ،جہاں وہ اس کو لے جاکر رفع حاجت کراتے ہیں ان کی غلاظتوں کو خود اپنے ہاتھوں سے اٹھانے اور پھینکنے میں نہیں  شرماتے ۔ان کے پارکوں میں جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کوڑا دان/ ڈسٹ بن ہوتے ہیں, ویسے ہی اب کتوں کی نجاست کے لئے غلاظت دان نصب کیے جاتے ہیں ۔

   مگر ہم مسلمان تو ہر عمل میں ثواب و عذاب کا اعتقاد رکھتے ہیں، اس کے باوجود دنیا میں ہم بدنام ہیں کہ سب سے زیادہ گندہ محلہ مسلم محلہ ہوتا ہے ۔ یقینا اس بات میں مبالغہ ہے، مسلمانوں کو بدنام کرنے کا بھی یہ ایک حربہ ہے، لیکن بہت حد تک سچائی بھی ہے کہ ان شہری تمدنی ذمہ داری والے معاملات میں بھی ہماری بے حسی و بے پروائی عام ہے ۔

    دوسری طرف یورپ و امریکہ کے بارے میں یہ بات بھی بالکل متحقق ہے کہ وہاں آج بھی کتب بینی اخبار بینی کا ماحول بہت زیادہ ہے، موبائل اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی کتابوں سے براہ راست ان کا رشتہ ہے، ستر اسی صفحات کے تو اخبارات وہاں چھپتے ہیں ، جس میں ملکی، بین الاقوامی اور عالمی حالات کیساتھ ساتھ علوم و فنون ، میڈیکل سائنس، معشیت ،اخلاقیات، سیاسیات، امور خانہ داری،  اور اسپورٹس کے الگ الگ کالم ہوتے ہیں ۔ کتابوں کی اشاعت کا کیا پوچھنا کہ کتابیں ایک ایک ایڈیشن ہزاروں کی تعداد میں چھپتی ہیں، اور مہینوں میں ختم ہوجاتی ہیں ،اور لوگ شوق سے خرید کر ذوق سے پڑھتے ہیں ۔لیکن ہمارے ملک میں پڑھنے لکھنے اور کتب بینی کا تو گویا جنازہ نکل گیا ،شاید کسی کے ہاتھ میں آپ کتاب دیکھیں گے ۔ جو لوگ پڑھتے بھی ہیں تو وہ صرف اکنامکس اور حصول ملازمت کے لئے ، کہ کسی طرح سرکاری ملازمت مل جائے ۔ علم کی گہرائی اور تہہ میں جاکر کچھ حاصل کرکے اپنی زندگی کو ایک مثالی زندگی بنائیں گے اور ایک اچھا انسان بننے کے ساتھ ایک اچھا اور وفا دار شہری بن کر زندگی گزاریں گے اور لوگوں کے لیے نافع و انفع بنیں گے ، یہ تصور تو ہمارے ذہنوں میں ہوتا ہی نہیں ہے ۔

بات سے بات نکلتی ہے ۔لندن میں مشہور زمانہ برٹش لائبریری ہے، اس کے علاوہ وہاں ہر محلے میں ذیلی لائبریریاں ہیں ، وہاں کے بارے میں پڑھا کہ ان کی لائبریریوں میں جس وقت آپ چلے جائیں، ایک بڑی تعداد کتب بینی میں مصروف نظر آئے گی ۔

  لیکن ہم مسلمانوں کا کیا حال ہے،ہمارے نوجوانوں کا کیا حال ہے۔ یہ کسی سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے ،اقبال مرحوم نے بہت پہلے کہا تھا کہ

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ ایک عارضی شئی تھی 

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارہ 

مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آباء کی 

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ 

  ہمارے نوجوانوں کو اب کون بتائے اور سمجھائے کہ تہمارے اسلاف کیا تھے اور تم کیا ہو ،علم کے موتیوں سے تو اب ایسا لگتا ہےکہ تمہیں کوئی دلچسپی ہی نہیں رہ گئی ہے، بس حکومت ہی کا کچھ رونا دھونا ہے ۔

    کتنی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارا وہ طبقہ جو اپنے کو فارغین مدارس کہتے ہیں مہمانان رسول سمجھتے ہیں اور تشنگان علوم نبوت سے یاد کرتے ہیں، وہ اس سطح پر پہنچ گئے ہیں اور ان کی اخلاقی گراوٹ زوال اور پستی کی حد یہ ہے کہ محمود ہال جس کی نسبت کتنی عظیم ہوگی، وہاں سروں پر ٹوپی اور رومال اوڑھ کر صنف نازک کے بازاری غزلوں پر واہ واہ کرتے اور داد دیتے نظر آ رہے تھے اور امت مسلمہ کے حساس درمند دل رکھنے والوں کے دلوں کو چھلنی کر رہے تھے اور خود اپنے وقار کو مجروح اور  نسبت کو داغ دار کر رہے تھے ۔ خدا انہیں شعور و آگہی اور عقل و خرد سے نوازے اور احساس و ادراک کی دولت دے تاکہ وہ اپنا نفع و نقصان سمجھ سکیں اور اپنے مقام اور اپنی حیثیت عرفی معلوم کرسکیں ۔آمین

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: