پورنیہ (بہار): سیل رواں
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
ملتِ اسلامیہ کو درپیش سنگین فکری و اعتقادی چیلنجز، بالخصوص فتنۂ شکیلیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیشِ نظر تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور امت کو بیدار کرنے کے مقصد سے ایک اہم اور بامقصد میٹنگ مورخہ 22 جنوری 2026 بروز جمعرات، صبح 10 بجے منعقد کی جائے گی۔ یہ میٹنگ بمقام: مریم گرلس انٹرنیشنل گرلس اسکول، روٹا میں ہوگی۔ اس میٹنگ کے داعی معروف عالمِ دین مولانا شمیم اختر ندوی ہیں، جبکہ اس کا اہتمام رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ، ضلع پورنیہ (بہار) کے زیرِ اہتمام کیا جا رہا ہے۔
میٹنگ میں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کو اسلام کی اساس اور ایمان کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کی دینی، شرعی اور اجتماعی ذمہ داری پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ علماء کرام اس بات کی وضاحت کریں گے کہ فتنۂ شکیلیت جیسے گمراہ کن نظریات کس طرح سادہ لوح مسلمانوں کے اذہان میں شبہات پیدا کر کے امت کی فکری بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کے مؤثر سدِّباب کے لیے منظم اور مسلسل جدوجہد کس قدر ضروری ہے۔
اس موقع پر مفتی شمس توحید مظاہری نے علماء، ائمۂ مساجد، اساتذۂ مدارس، دینی تنظیموں کے ذمہ داران اور باشعور افراد سے خصوصی طور پر اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں اس میٹنگ میں شرکت کریں، تاکہ ایک مضبوط، واضح اور متحد پیغام کے ذریعے فتنۂ شکیلیت کے خلاف اجتماعی موقف سامنے آ سکے۔ اسی ضمن میں مولانا ابوصالح قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیت علماء ضلع پورنیہ نے بھی اس میٹنگ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ذمہ داران اور کارکنان کو متحد ہو کر اس دینی و فکری جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ننھی حافظۂ قرآن: قرآن کی روشنی ، تعلیمی سمت……
ادھر مولانا عارف حسین ندوی ناظم تنظیم و ترقی جمعیت علماء ضلع پورنیہ نے ضلع جمعیت کے تمام اراکین، عہدیداران اور کارکنان سے پُرزور گزارش کی ہے کہ وہ اس اہم میٹنگ میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں اور اسے محض ایک پروگرام نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں علما اور کارکنان کی متحدہ موجودگی ہی امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ میٹنگ کے داعی مولانا شمیم اختر ندوی اس پروگرام کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ وہ نہ صرف ضلع کے مختلف مدارس، مساجد اور دینی اداروں کے ذمہ داران سے ذاتی طور پر رابطہ کر رہے ہیں بلکہ علماء، ائمہ اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کر کے انہیں اس میٹنگ کی اہمیت سے آگاہ بھی کر رہے ہیں۔ مولانا شمیم اختر ندوی کی ان ہمہ جہت اور انتھک کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہلِ علم اور اہلِ فکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر فتنۂ شکیلیت کے خلاف مضبوط اور مدلل موقف اختیار کریں اور عوام الناس کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔
منتظمین نے اہلِ علم، ذمہ دارانِ ملت اور عام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وقت کی پابندی کے ساتھ شرکت کر کے اس اہم دینی و فکری میٹنگ کو کامیاب بنائیں اور تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کے اس مشن میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔