از:- عبدالغفار صدیقی
فنونِ لطیفہ سے مراد وہ فنون ہیں جن کے ذریعے انسان اپنے جذبات، خیالات اور احساسات کو خوب صورت اور مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ شاعری، ادب، خطاطی، مصوری، موسیقی، گائیکی، ڈراما اور دوسرے فنون اسی دائرے میں آتے ہیں۔ اسلام نے فن اور حسن کو یکسر رد نہیں کیا، بلکہ پاکیزگی، خوب صورتی اور اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: إِنَّ اللَّہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ”بے شک اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔” (متفق علیہ)
فنونِ لطیفہ میں اندازِ اظہار کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایک ہی بات عام انداز میں بھی کہی جاسکتی ہے اور ایسے خوب صورت اور مؤثر انداز میں بھی کہی جاسکتی ہے جو دل میں اتر جائے۔ قرآن مجید اپنی فصاحت و بلاغت اور حسنِ بیان کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرب کو چیلنج دیا: وَإِن کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَیٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَۃٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُوا شُہَدَاءَکُم مِّن دُونِ اللَّہِ إِن کُنتُمْ صَادِقِینَ ”اور اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب مددگاروں کو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔” (سورہ البقرہ: 23) قرآن کا یہی اعجاز تھا کہ عرب کے فصیح و بلیغ اہلِ زبان بھی اس سے متاثر ہوئے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ عرب کے معروف شاعر اور صاحبِ ذوق ادیب تھے۔ جب وہ مکہ آئے تو کفارِ مکہ نے انہیں قرآن سننے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے قرآن سنا تو اس کے کلام کی تاثیر سے متاثر ہوئے اور بالآخر اسلام قبول کرلیا۔ ان کا واقعہ سیرت کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
شاعری:
اسلام نے شاعری کو بذاتِ خود ممنوع قرار نہیں دیا۔ قرآن مجید میں ان شاعروں پر تنقید کی گئی ہے جو گمراہی کی پیروی کرتے اور ایسی باتیں کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے، لیکن نیک اور صالح شاعروں کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالشُّعَرَاءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوُونَ أَلَمْ تَرَ أَنَّہُمْ فِی کُلِّ وَادٍ یَہِیمُونَ وَأَنَّہُمْ یَقُولُونَ مَا لَا یَفْعَلُونَ إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ”اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ بات کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔” (سور الشعراء: 224-227) رسول اللہ ؐ نے فرمایا: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً ”بے شک بعض شاعری حکمت پر مشتمل ہوتی ہے۔” (صحیح البخاری) اس لیے ایسی شاعری جو حق، سچائی، پاکیزہ جذبات، اخلاق اور خیر کی ترجمانی کرے، اسلام میں قابلِ قدر ہے، جبکہ فحش، جھوٹی اور گمراہی یا برائی کو فروغ دینے والی شاعری سے بچنا چاہیے۔
شاعری کے بارے میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عہدِ نبوی میں شاعری ایک معروف اور مؤثر ذریعہ اظہار تھی اور صحابہ کرامؓ میں متعدد حضرات شعر کہتے تھے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن مالکؓ مشہور صحابی شعراء تھے۔ خود حضرت عائشہؓ بھی شعر کا عمدہ ذوق رکھتی تھیں اور ان سے بہت سے اشعار منقول ہیں۔ رسول اللہ ؐ شعر سنتے تھے اور اچھے شعر کی قدر فرماتے تھے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ اسلام اور رسول اللہ ؐ کے دفاع میں اشعار کہتے تو آپ ؐ ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ ایک موقع پر آپ ؐ نے فرمایا: اہْجُہُمْ وَرُوحُ الْقُدُسِ مَعَکَ ”ان کا جواب شعر میں دو، اور روح القدس تمہارے ساتھ ہے۔” (متفق علیہ) آپ ؐ نے حضرت کعب بن زہیرؓ کے قصیدہ بانت سعاد کو بھی سنا اور انہیں اپنی چادر عطا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں شاعری کو محض شاعری ہونے کی وجہ سے ممنوع نہیں قرار دیا گیا، بلکہ اس کے مضمون، مقصد اور اثر کو دیکھا جاتا ہے۔ اچھی شاعری دل میں پاکیزہ جذبات پیدا کرسکتی ہے، حق و خیر کی ترجمانی کرسکتی ہے اور انسان کو اخلاق و انسانیت کی طرف متوجہ کرسکتی ہے۔
خطاطی:
خطاطی خوب صورت انداز میں لکھنے کا فن ہے اور اسلامی تہذیب میں اسے خاص مقام حاصل رہا ہے۔ قرآن مجید کی آیات کو خوب صورت خط میں لکھنا مسلمانوں کی ایک عظیم علمی و تہذیبی روایت بن چکا ہے۔ اگر خطاطی میں قرآن مجید یا مقدس کلمات لکھے جائیں تو ان کے احترام اور تقدس کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔
مصوری:
مصوری سے مراد برش اور رنگ یا دوسرے ذرائع کے ذریعے کسی چیز کی تصویر بنانا ہے۔ انسان تصویر مختلف مقاصد کے لیے بناتا ہے۔ ایک مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ تصویر کو پوجا یا پرستش کے لیے استعمال کیا جائے، جیسے دیوی دیوتاؤں کی تصویریں بنانا یا کسی جانور یا دوسری چیز کی تصویر اس مقصد سے بنانا کہ اس کی عبادت کی جائے۔ یہ قطعی طور پر حرام ہے، کیونکہ کسی غیر اللہ کی عبادت کرنا شرک ہے۔
تصویر بنانے کا ایک مقصد ذوقِ جمال کی تسکین اور اس کی نمائش بھی ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کے تحت بے جان چیزوں، مثلاً درخت، پہاڑ، عمارتوں اور قدرتی مناظر کی تصویریں بنانا جائز ہے، لیکن جانداروں کی تصویر سازی سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ اس بارے میں احادیث میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُصَوِّرُونَ ”قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔” (متفق علیہ) اسی بنا پر جانداروں کی تصویر سازی کے بارے میں فقہاء نے تفصیلی احکام بیان کیے ہیں۔ البتہ ایسی صورت جس میں کسی حقیقی ضرورت کا تعلق ہو، مثلاً کسی مجرم کی شناخت کے لیے اس کا خاکہ تیار کرنا، تو ضرورت کے بقدر اس کی گنجائش ہے۔
موجودہ دور کی فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان تفصیلی بحث پائی جاتی ہے۔ بعض اہلِ علم انہیں ہاتھ سے تصویر بنانے سے مختلف سمجھتے ہیں اور بعض تصویر کی عمومی ممانعت کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے میں اختلاف کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ البتہ قدرتی مناظر، عمارتوں اور بے جان اشیا کی فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح جہاں تصویر یا ویڈیو کسی جائز ضرورت، ثبوت، شناخت، تعلیم یا مفید مقصد کے لیے بنائی جائے، وہاں ضرورت اور مقصد کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ مثلاً کسی سرکاری کام کے لیے تصویر محفوظ کرنا، کسی واقعے کا ثبوت رکھنا، اسکول یا مدرسے میں بچوں کے تعلیمی پروگرام کی تصویر بنانا، بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا یا کسی مفید تعلیمی سرگرمی کو دوسروں تک پہنچانا جائز مقصد ہوسکتا ہے۔
شادی بیاہ یا خوشی و غمی کے مواقع پر تصویر اور ویڈیو کا معاملہ بھی مقصد اور طریقہ استعمال کے اعتبار سے دیکھا جائے گا۔ محض نمائش، فضول خرچی یا نام و نمود کے لیے اس پر غیر ضروری مال خرچ کرنا درست رویہ نہیں، جبکہ کسی جائز ضرورت یا ثبوت کے لیے تصویر محفوظ کرنا الگ معاملہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تصویر یا ویڈیو کے ذریعے کسی ایسے کام کو محفوظ یا عام نہ کیا جائے جو خود شریعت کی نظر میں فحاشی، بے حیائی یا گناہ ہو۔ جو چیز خود دیکھنا اور دکھانا جائز نہیں، اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا اور دوسروں تک پہنچانا بدرجہ اولیٰ قابلِ اجتناب ہے۔
ڈراما نگاری اور اداکاری:
ڈراما اور اداکاری بذاتِ خود کوئی ایسا فن نہیں جسے صرف اس کے نام کی وجہ سے ناجائز قرار دیا جائے۔ اس کے موضوع، مقصد اور طریقہ پیشکش کو دیکھا جائے گا۔ تاریخی واقعات، معاشرتی مسائل، اصلاحی موضوعات اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مناسب طریقے سے پیش کرنا اس فن کے مفید استعمال کی صورت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر ڈراما فحاشی، بے حیائی، عریانی، جھوٹ، گناہ یا اخلاقی برائیوں کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے تویہ گنا ہ ہے۔ فن کا نام نہیں بلکہ اس کا مواد اور اس کے اثرات اس کے جائز یا ناجائز ہونے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ادب اور افسانہ نگاری:
ادب انسان کے خیالات اور جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔ افسانہ، ناول اور دوسری ادبی اصناف کے ذریعے انسانی زندگی کے مسائل، جذبات، معاشرتی حالات اور اخلاقی قدروں کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ادب جو سچائی، پاکیزگی، انسانی ہمدردی، عدل، محبت اور حسنِ اخلاق کو فروغ دے، معاشرے کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس جو ادب فحاشی، بے حیائی، ظلم یا گناہ کو خوب صورت بناکر پیش کرے، وہ اسلامی مزاج کے مطابق نہیں۔
موسیقی اور گائیکی:
موسیقی اور گائیکی کے بارے میں فقہاء کے درمیان تفصیلی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم نے آلاتِ موسیقی کے بارے میں وارد احادیث سے ممانعت پر استدلال کیا ہے، جبکہ بعض اہلِ علم نے مخصوص صورتوں میں گنجائش بیان کی ہے۔ اس لیے اس مسئلے میں اختلافِ رائے کو نظر انداز کرکے کسی ایک رائے کو بلا تفصیل اسلام کا واحد موقف قرار دینا مناسب نہیں۔ گائیکی کے بارے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ انسان کیا گا رہا ہے۔ اگر کلام میں شرک، فحاشی، بے حیائی، جھوٹ، گناہ یا کسی اخلاقی برائی کی ترغیب ہو تو ایسا کلام قابلِ قبول نہیں۔ اس کے برعکس پاکیزہ اور اچھے مضامین پر مشتمل کلام کے بارے میں حکم اس کے مضمون، انداز اور ساتھ استعمال ہونے والے آلات کے اعتبار سے دیکھا جائے گا۔
قرآن مجید شاعری نہیں ہے، لیکن اس کی تلاوت میں ایک خاص حسنِ آہنگ اور تاثیر پائی جاتی ہے۔ بہت سی سورتوں کی آیات کا اختتام ایک ہی طرح کی آواز پر ہوتا ہے، جس سے کلام میں صوتی حسن پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ؐ نے قرآن مجید کو خوش الحانی سے پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُمْ ”اپنی آوازوں کے ذریعے قرآن کو مزین کرو۔” (سنن ابی داؤد) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی آواز اور خوب صورت اندازِ ادائیگی اسلام میں پسندیدہ ہے، اگرچہ قرآن کی تلاوت کو موسیقی یا گانے کے مفہوم میں نہیں لیا جاسکتا۔
گائیکی کے ساتھ آلاتِ موسیقی کا معاملہ الگ ہے۔ رسول اللہ ؐ کے زمانے میں بعض مواقع پر دف بجانے کی اجازت ملتی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی تو رسول اللہ ؐ نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل اور گانا بھی تھا؟ کیونکہ انصار کو اس سے محبت تھی۔ (صحیح البخاری) ایک دوسری روایت میں شادی کے موقع پر دف بجانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس سے کم از کم یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر قسم کے صوتی آلات اور ہر موقع کی تفریح کو ایک ہی حکم میں شامل کرنا درست نہیں۔
البتہ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ کسی خاص موقع پر دف کی اجازت سے ہر قسم کے آلاتِ موسیقی کا جواز خود بخود ثابت نہیں ہوجاتا۔ ہارمونیم، جدید موسیقی کے آلات یا ڈی جے وغیرہ کے بارے میں الگ سے حکم لگانے کے لیے ان کے استعمال، نوعیت اور متعلقہ نصوص کو دیکھنا ہوگا۔پس جس موسیقی یا گائیکی میں شرعی قباحت، فحاشی، بے حیائی یا گناہ کی ترغیب ہو، وہ ناجائز ہے، اور جو چیز انسان کو اللہ کی یاد، نماز اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل کردے، اس سے بھی بچنا چاہیے۔
فنونِ لطیفہ کے بارے میں اسلامی اصول یہ ہے کہ اسلام حسن اور خوب صورتی کے ذوق کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے پاکیزہ اور مفید رخ دینا چاہتا ہے۔ فن اگر انسان کے جذبات کو پاکیزہ بنائے، اسے خیر اور نیکی کی طرف متوجہ کرے، انسانی زندگی کے مسائل کو خوب صورت انداز میں پیش کرے اور معاشرے کی اصلاح میں مدد دے تو وہ ایک مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی فن اخلاقی بگاڑ، بے حیائی، گمراہی یا برائی پھیلانے کا ذریعہ بن جائے تو اسلام اسے پسند نہیں کرتا۔