چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی کوشش، 193 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط؛ نوٹس آج پیش کیے جانے کا امکان

نئی دہلی: اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مواخذے کے نوٹس پر 193 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط جمع کر لیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ نوٹس جمعہ کو پارلیمنٹ کے کسی ایک ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نوٹس پر لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ نوٹس پہلے لوک سبھا میں پیش ہوگا یا راجیہ سبھا میں۔

اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر پر الزام عائد کر رہی ہیں کہ انہوں نے بعض فیصلوں کے ذریعے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا اور انتخابی عمل کو متاثر کیا۔ خاص طور پر مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کارروائی کو لے کر اپوزیشن نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات لگائے ہیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں حقیقی ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے جا رہے ہیں، جس سے جمہوری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پارلیمانی قواعد کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 ارکان کے دستخط درکار ہوتے ہیں، جبکہ اپوزیشن اس سے کہیں زیادہ دستخط حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ نوٹس پارلیمنٹ میں پیش ہوتا ہے تو بجٹ اجلاس کے دوران اس مسئلے پر شدید سیاسی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔