کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل مچ گئی ہے جب ایک مبینہ اسٹنگ ویڈیو منظر عام پر آیا ہے، جس میں عام جنتا اُنّیّن پارٹی (AJUP) کے سربراہ ہمایوں کبیر کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ رابطے اور کسی بڑے سیاسی منصوبے پر گفتگو کر رہے ہیں۔
حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (TMC) نے اس ویڈیو کو جاری کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس میں ہمایوں کبیر مبینہ طور پر بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ریاست میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اقتدار سے ہٹانے کی حکمت عملی پر بات کر رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق یہ ایک بڑے پیمانے کی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد خاص طور پر اقلیتی ووٹوں کو متاثر کرنا ہے۔
ٹی ایم سی نے اس معاملے کی جانچ کے لیے مرکزی ایجنسی، خصوصاً انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کی سچائی سامنے آ سکے۔
دوسری جانب ہمایوں کبیر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی اور سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ان کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 2026 کے اسمبلی انتخابات قریب ہیں، جس کے باعث ریاست کی سیاست میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کر رہی ہیں۔