فیوض الحرمین: مدینہ جانے سے پہلے ایک ناگزیر مطالعہ

محمد تنویر

پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی

مدینہ منورہ کی حاضری صرف ایک سفر نہیں، ایک تربیت ہے؛ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی فیوض الحرمین اسی تربیت کا ایک نادر پیشگی نقشہ ہے۔ یہ مقالہ اس دعوے کو دلیل کے ساتھ کھولتا ہے کہ حرمین کی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے اس کتاب کو پڑھنا زائر کے لیے دل، ذہن اور ادب تینوں کی تیاری ہے۔ شاہ صاحب خود تقریباً چودہ مہینے حجاز میں رہے، اساتذۂ حدیث سے سند لی، اور اسی قیام میں ان پر جو روحانی واردات گزریں انہیں اس کتاب میں قلم بند کیا۔ ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز کے بقول حجاز سے واپسی کے بعد والدِ گرامی کی باطنی کیفیت، علمی قوت اور اندازِ گفتگو بالکل بدل چکا تھا، اور یہ کتاب اسی تبدیلی کے سرچشمے کی گواہ ہے۔ مقالے کے تین سوال ہیں: کتاب کس پس منظر میں وجود میں آئی، اس کے بنیادی مضامین اور "راز” کیا ہیں، اور مدینہ جانے والے کو اسے کیوں اور کس اعتدال کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
شاہ ولی اللہ (قطب الدین احمد، 1703–1762ء) برصغیر کے سب سے بڑے محدثین اور مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم کے مدرسے میں پڑھے، سترہ برس کی عمر میں انہی کی مسندِ تدریس پر بیٹھے اور تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف ٹھہرے۔ ان کا شاہکار حجۃ اللہ البالغہ ہے جسے ان کی سب سے بڑی علمی کامیابی مانا جاتا ہے، اور قرآن کا فارسی ترجمہ بھی انہی کا کارنامہ ہے۔ اس کے مقابلے میں فیوض الحرمین ان کی ایسی کتاب ہے جس میں علم کے ساتھ باطن کی گواہی بھی ملتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ حجۃ اللہ البالغہ دلیل کی کتاب ہے اور فیوض الحرمین دل کی روداد؛ دونوں کو ملا کر پڑھیں تو ایک ایسے عالم کی پوری شخصیت سامنے آتی ہے جو عقل اور وجدان کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، رفیق سمجھتا ہے۔

شاہ صاحب نے تقریباً تیس برس کی عمر میں 1730–31ء میں حج کا سفر کیا۔ جہاز کو جدہ پہنچنے میں چالیس دن لگے، وہ ذوالقعدہ کی پندرہ تاریخ کو مکہ پہنچے اور حرم شریف میں حنفی امام کے مقام کے قریب درس دینا شروع کر دیا۔ بعض محققین کے مطابق وہ حجاز کے علمی و روحانی حالات دیکھ کر ہندوستان میں دین کی خدمت کا لائحۂ عمل بھی طے کرنا چاہتے تھے۔ مدینہ منورہ میں ان کے سب سے محبوب استاذ شیخ ابو طاہر کردی مدنی تھے، جن سے انہوں نے حدیث کی سند اور تصوف کی نسبتیں پائیں؛ مکہ مکرمہ میں شیخ وفداللہ مکی اور شیخ تاج الدین قلعی سے حدیث و فقہ پڑھی اور تدریس کی اجازت حاصل کی۔ شیخ ابو طاہر حدیث کو سرد کے طریقے پر پڑھاتے تھے، یعنی رواۃ کی جانچ پڑتال سے بڑھ کر متن کے حسن اور پیغام کو سامنے رکھتے تھے، اور شاہ صاحب کے اپنے تحریری اسلوب میں یہی روح جھلکتی ہے۔ ایک تحقیقی مقالے کی رائے ہے کہ ان کی باقاعدہ تصنیفی زندگی اسی سفر سے شروع ہوئی اور ان کی پہلی کتاب فیوض الحرمین تھی۔ اس لیے یہ کتاب کسی بعد کی غور و فکر کا نتیجہ نہیں، اسی لمحے کی تازہ گواہی ہے جب مصنف کے اندر علمی و روحانی انقلاب برپا ہو رہا تھا۔ وہ 1732ء میں دہلی لوٹے۔

فیوض الحرمین عربی زبان کی مختصر مگر گہری کتاب ہے۔ عرب دنیا کے مخطوطہ کیٹلاگ اسے تصوف کے موضوع کے تحت درج کرتے ہیں اور اس کے اردو ترجمے اور اشاعتیں بھی ملتی ہیں؛ کراچی سے شائع ایک اردو ایڈیشن تین سو ستائیس صفحات کا ہے۔ کتاب کی اصل اکائی "مشاہدہ” ہے، یعنی مصنف پر گزرا ہوا ایک روحانی واقعہ جسے وہ مختصر وضاحت کے ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ ایک حوالے میں ان کی تعداد سینتالیس بتائی گئی ہے، اور ایک تحقیقی مقالہ لکھتا ہے کہ شاہ صاحب کے زیادہ تر مشاہداتِ غیبی اسی کتاب میں ہیں اور کچھ تفہیماتِ الٰہیہ میں۔ یہاں ایک عام غلط فہمی کی اصلاح ضروری ہے: نام کی مشابہت کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے حج کی رہنما کتاب سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ ایسی رہنما کتاب محیی الدین لاری کی فارسی منظوم فتوح الحرمین ہے (تقریباً 1505–06ء) جو مناسکِ حج اور مقاماتِ مقدسہ کا بیان کرتی ہے۔ شاہ صاحب کی کتاب مناسک کی نہیں، اس سوال کا جواب ہے کہ حرمین میں ایک اہلِ دل پر کیا کھلتا ہے۔ اسے پڑھتے وقت فقہی مسائلِ حج نہیں، باطنی فہم اور ادب تلاش کرنا چاہیے؛ مناسک کے لیے الگ کتاب اور استاذ کی صحبت ضروری ہے۔

کتاب کا اصل "راز” کوئی پوشیدہ معمہ نہیں، وہ باطنی ترتیب ہے جس کے تحت ایک عالم نے حرمین کو دیکھا، اور تحقیقی مطالعے سے اس کے چار مرکزی دھاگے سامنے آتے ہیں۔ پہلا دھاگہ ذاتِ نبوی ﷺ سے قلبی نسبت ہے: حرمین کی ہر کیفیت کا مرکز رسول اللہ ﷺ کی محبت اور ادب ہے اور شاہ صاحب کے مشاہدات اسی مرکز کے گرد گھومتے ہیں۔ دوسرا علم اور باطن کا رشتہ ہے: حجاز میں انہوں نے حدیث و فقہ پڑھی اور ساتھ ہی روحانی واردات پائیں، اور ایک محقق کے الفاظ میں یہ کتاب اسی "علمی و روحانی انقلاب” کی عکاس ہے جس میں علم باطن کو روکتا نہیں، سنبھالتا ہے۔ تیسرا سلوک کی نسبتوں کی تہذیب ہے: والد سے انہیں قادریہ، چشتیہ اور نقشبندیہ سلسلوں کی تربیت ملی تھی، شیخ ابو طاہر نے خیر کو اپنانے اور شر سے بچنے کے اصول سکھائے، اور شاہ صاحب نے ان سے حاصل ہونے والی نسبت کو دوسروں سے برتر لکھا۔ چوتھا مقصدِ حیات کی بیداری ہے: اسی سفر میں ان کے اندر دین کی خدمت کا عظیم مشن جاگا جو بعد میں حجۃ اللہ البالغہ اور دیگر تجدیدی کاموں میں ظاہر ہوا۔ ساتھ ہی یہ اصول یاد رہے کہ صوفیاء اور اہلِ علم کے نزدیک مشاہدات شخصی تجربات ہیں جو شریعت کی دلیل نہیں بنتے؛ شریعت کی بنیاد قرآن، سنت، اجماع اور قیاس ہے، اور شاہ صاحب کی کتاب اسی توازن کے ساتھ پڑھی جانی چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ مدینہ جانے سے پہلے اسے کیوں پڑھا جائے۔ جو زائر یہ کتاب پہلے سے پڑھ لیتا ہے وہ حرمین میں ایک تیار ذہن کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ شاہ صاحب نے چودہ مہینے وہاں تعلیم، تدریس، ذکر اور مراقبے میں گزارے، تو زائر کو سمجھ آتا ہے کہ مدینہ میں اصل کام دیکھنا نہیں، سیکھنا اور بدلنا ہے، اور یوں حاضری سیر بننے سے بچ جاتی ہے۔ کتاب کا پورا مزاج یہ ہے کہ حرمین میں علم بھی ادب کے ساتھ ہے اور محبت بھی، اس لیے جو یہ مزاج پہلے سے پا لے وہ زبان، نگاہ اور چال میں خود بخود محتاط ہو جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے اساتذہ شیخ ابو طاہر، شیخ وفداللہ اور شیخ تاج الدین کا ذکر زائر کو بتاتا ہے کہ حرمین صرف عبادت کی نہیں، علم کی بھی سرزمین ہیں۔ پھر نیت کی بلندی ہے: شاہ صاحب لوٹے تو ان کے اندر دین کی خدمت کا مشن جاگ چکا تھا، اور ہر زائر کو یہ سوال اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ میں یہاں سے کیا بدل کر لوٹوں گا۔ اور جب آپ جانتے ہوں کہ ایک عظیم محدث نے یہاں کیا دیکھا اور کیا پایا تو مسجدِ نبوی کا ہر گوشہ اور ہر نماز آپ کے لیے ایک نئے معنی کی دہلیز بن جاتی ہے۔ یوں یہ کتاب زادِ راہ کا کام کرتی ہے، سامان کا نہیں بلکہ قلب و ذہن کا۔

کتاب مختصر ہے مگر ایک نشست میں نہیں پڑھی جاتی۔ بہتر ہے کہ پہلے مصنف کو جانا جائے؛ شاہ صاحب کی مختصر خودنوشت الجزء اللطیف ان کے سفرِ حج کو براہِ راست بیان کرتی ہے اور اسے پہلے پڑھ لینا مفید ہے۔ پھر روزانہ دو تین مشاہدے پڑھ کر رکا جائے اور سوچا جائے کہ مصنف کا ہدف کیا تھا اور مجھے اپنے لیے کیا ملا، اور ہر مشاہدے کے سامنے ایک سطر یادداشت لکھی جائے کہ یہ بات مجھے مدینہ میں کیا یاد دلائے گی۔ کتاب چونکہ اصطلاحاتِ تصوف سے بھری ہے اس لیے مشکل مقامات کسی استاذ سے سمجھنے چاہییں، ورنہ تنہا پڑھنے میں غلط فہمی کا اندیشہ رہتا ہے۔ برصغیر کے علمی حلقوں میں اس کتاب کو دو انتہاؤں کے درمیان رکھ کر دیکھنے کی روایت رہی ہے: ایک طرف وہ جو ہر مشاہدے کو حجت بنا لیتے ہیں اور دوسری طرف وہ جو پوری کتاب کو ہی ناقابلِ اعتنا سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ درست راستہ یہ ہے کہ اسے ایک جلیل القدر محدث کی صادق روحانی روداد کے طور پر پڑھا جائے، ادب اور قدر کے ساتھ، مگر شرعی دلیل کے مقام پر بٹھائے بغیر۔
خلاصہ یہ کہ فیوض الحرمین مناسکِ حج کی کتاب نہیں بلکہ حرمین کو دیکھنے کی ایک نگاہ ہے، اور مدینہ جانے والے کے لیے یہی نگاہ سب سے قیمتی زادِ راہ ہے۔ یہ کتاب شاہ ولی اللہ کے 1730–32ء کے سفرِ حجاز کا ثمر ہے؛ اس کے مرکزی مضامین ذاتِ نبوی ﷺ سے نسبت، علم و باطن کا ربط، سلوک کی تہذیب اور مقصدِ حیات کی بیداری ہیں؛ اور زائر کا فائدہ ادب، نیت، علم کی قدر اور واپسی کے بعد کے عزم میں ہے۔ شاہ صاحب نے حرمین سے لوٹ کر بدلے ہوئے انسان کا جو نمونہ پیش کیا وہی ہر زائر کے لیے اصل پیغام ہے: مدینہ جانے والا اگر وہاں سے ویسا ہی لوٹ آئے جیسا گیا تھا تو اس نے سفر کیا ہے، حاضری نہیں دی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔