✍🏻از: محمد عادل ارریاوی
_____________________
محترم قارئین! اسلام ایک عادلانہ متوازن اور رحمت پر مبنی دین ہے جو انسان کی عزت وقار اور حقوق کا مکمل تحفظ کرتا ہے اس کے برعکس جب معاشرے میں جہالت رسم و رواج اور بے بنیاد تصورات دین کی اصل تعلیمات پر غالب آجائیں تو ظلم ناانصافی اور دل آزاری جنم لیتی ہے ہمارے معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ خواتین کے بارے میں پائی جانے والی منفی سوچ بھی اسی فکری بگاڑ کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں عورت کی عزت کو حالات کے بجائے محض ایک لیبل کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے حالانکہ شریعت مطہرہ نے طلاق اور بیوگی کو نہ عیب قرار دیا ہے اور نہ ہی نحوست بلکہ بعض حالات میں صبر تقویٰ اور حوصلے کا اعلیٰ مظہر قرار دیا ہے ہماری اس تحریر میں اسی غلط سماجی سوچ کی اصلاح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حقیقت کے اظہار اور مطلقہ و بیوہ خواتین کے وقار کے تحفظ کی ایک مخلصانہ کوشش ہے تاکہ معاشرہ انصاف ہمدردی اور صحیح دینی فہم کی طرف قدم بڑھے ۔ ہمارے معاشرہ میں بہت سے لوگ زوجین میں طلاق ہو جانے کے بعد مطلقہ عورت کو بد کردار یا بداخلاق اور معیوب و منحوس وغیرہ سمجھتے ہیں اسی وجہ سے طلاق یافتہ عورت سے کوئی دوسرا شخص بآسانی نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور کسی مطلقہ عورت سے نکاح کرنا گویا کہ معاشرہ کی توپوں کا رخ اپنی طرف کرانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ مطلقہ عورت کی بہن وغیرہ سے نکاح کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ہمارے معاشرہ میں ایک غلط بلکہ جاہلانہ سوچ ہے۔
اور یہ بات ممکن ہے کہ ایک عورت نکاح کے بعد اپنے شوہر کے شرعی حقوق پورے کر رہی ہو لیکن مرد کی طرف سے کوتاہی سامنے آنے اور اس کی طرف سے حق تلفی ہونے پر عورت کو اس کے ساتھ موافقت نہ ہوئی ہو یا مرد بدکردار بد زبان بداخلاق اور غصہ کا عادی وغیرہ ہو اور اس نے بداخلاقی اور غصہ وغیرہ میں آکر بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ اس طرح کی بہت سی وجوہات کا پایا جانا ممکن ہے کہ اس میں عورت یا اس کے اہلِ خانہ کا قصور اور عمل دخل نہ ہو بلکہ مرد کی طرف سے بے جا طریقہ پر طلاق دی گئی ہو اس لیے کسی عورت کو طلاق ہو جانے کی صورت میں بہر حال اس کو معیوب و منحوس سمجھنا یا اس کو یا اس کے اہل خانہ کو مطعون کرنا یا مطلقہ عورت کی بہن وغیرہ سے نکاح کو معیوب و منحوس سمجھنا درست نہیں اس سے ہمیں توبہ کرنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: جمعیت علماء ہند اور رابطہ مدراس اسلامیہ کے زیر اہتمام عقیدہ ختم نبوت…….
بعض اوقات مطلقہ عورت سے جس کو ظالمانہ طریقہ پر طلاق دی گئی ہو نکاح کرنے میں زیادہ اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے کیونکہ ایسی عورت سے عام طور پر لوگ نکاح کو معیوب سمجھتے ہیں ظاہر ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کرنا دراصل اس مظلوم کی مدد کرنا اور معاشرہ کی غلط رسم کو توڑنا ہوگا جس میں عام نکاح سے اضافی ثواب حاصل ہوگا۔ نیز اس طرح کی عورت نکاح ثانی کے بعد اپنے دوسرے شوہر کی عادتاً زیادہ خدمت اور قدر کرتی ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرہ میں بہت سے لوگ بیوہ عورت کو بھی معیوب و منحوس سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں اس سے نکاح کرنے کو بھی معیوب و منحوس سمجھتے ہی یہاں تک کہ بعض لوگ بیوہ عورت کے میکہ والوں کو بھی برا سمجھتے ہیں اور بیوہ عورت کی بہن وغیرہ سے نکاح کو بھی اچھا خیال نہیں کرتے۔ یہ بھی جاہلانہ اور غلط سوچ ہے موت کا تو ہر ایک کے لیے اللہ کی طرف سے وقت مقرر ہے اس میں بیوہ عورت یا اس کے میکہ والوں کا کیا قصور ہے؟
اور بیوہ عورت بھی اپنے متوفی شوہر کے غم کے ازالہ کی وجہ سے اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس سے نکاح کیا جائے اور معاشرہ کی بے جا اور بری رسم کا خاتمہ کیا جائے جس میں ڈھیر اجر و ثواب کی امید ہے۔
نیز مطلقہ عورت کی طرح بیوہ عورت بھی دوسرے شوہر کی عادتا زیادہ قدر و خدمت کرتی ہے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض بیوہ خواتین سے بھی نکاح فرمایا ہے اور اس طرح بعض مطلقہ اور بیوہ خواتین پورے مسلمانوں کی ماں یعنی امہات المومنین کہلائیں جو کہ ان مطلقہ اور بیوہ خواتین کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے دنیا کا بھی اور آخرت کا بھی پھر مطلقہ اور بیوہ عورتوں یا طلاق یافتہ و بیوہ ہونے کی وجہ سے ان کے اہلِ خانہ کو معیوب و منحوس سمجھنے کا کیا مطلب؟
ہمارے معاشرہ میں جو اس طرح کی کئی غلط فہمیاں اور سنگین غلط فہمیاں پیدا اور رائج ہو چکی ہیں ہمیں ان کی اصلاح کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں معاشرتی دباؤ اور غلط تصورات کے باعث بہت سی مطلقہ اور بیوہ خواتین دوسری شادی کے لیے آمادہ نہیں ہو پاتیں بعض اوقات یہ دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ عورت اپنی فطری اور شرعی ضرورت کے باوجود صرف لوگوں کے طعنوں اور سماجی ردِعمل کے خوف سے نکاح ثانی سے محروم رہ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حب الوطنی اور مذہبی منافرت کا بیانیہ
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورتِ حال وہ ہے جو بعض علاقوں میں دیکھنے یا سننے میں آتی ہے کہ کسی عورت کے شوہر کے انتقال کے بعد اس کے دیور یا دیگر رشتہ دار اسے گھر سے بے دخل کر دیتے ہیں اس کے جائز حقوق اور جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہیں اور وہ بے سہارا عورت دربدر ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے نہ معاشرہ اسے سہارا دیتا ہے اور نہ ہی اس کی عزت و آبرو کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرتا ہے بسا اوقات وہ شدید مجبوریوں کے تحت سوال کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یہ سوچنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت بھی کسی کی بیٹی کسی کی بہن اور کسی کی ماں ہو سکتی ہے اگر یہی صورتحال ہماری اپنی بہن یا بیٹی کے ساتھ پیش آ جائے تو کیا ہم اسے قبول کریں گے؟ یقیناً نہیں پھر ہم دوسروں کے لیے وہی رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں جسے اپنے لیے پسند نہیں کرتے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللہ ربّ العزت کا خوف دل میں پیدا کریں عورتوں پر ہونے والے ظلم و ناانصافی سے باز آئیں اور مطلقہ و بیوہ خواتین کو حقیر سمجھنے کے بجائے ان کے جائز حقوق ادا کریں یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم خواہ کسی پر بھی ہو اللہ ربّ العزت کے ہاں اس کا سخت محاسبہ ہوگا ایک مہذب اور اسلامی معاشرہ وہی ہے جو کمزوروں کا سہارا بنے نہ کہ ان کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھائیں۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو ہدایت دے اور معاشرہ میں پیدا شدہ اس طرح کی جاہلانہ سوچ کی اصلاح فرمائے اور مطلقہ اور بیوہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کو معیوب و منحوس سمجھنے کے گناہ سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یارب العالمین