جمعیۃ علماء ہند و رابطۂ مدارس اسلامیہ کے زیرِ اہتمام عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ پر بابرکت پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

کربلاہاٹ: پورنیہ

ـــــــــــــــــــــــــــــ

جامع مسجد مرکز شیشہ باڑی، کربلا ہاٹ میں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ جیسے عظیم اور بنیادی اسلامی عقیدے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پُراثر اور بابرکت پروگرام حضرت مولانا محمد حسن صاحب کی زیرِ صدارت منعقد کیا گیا، جو نہایت کامیابی اور گہرے روحانی اثرات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس پروگرام میں بااثر علمائے کرام، معزز مشائخ اور اہلِ علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی اہمیت کو دل و جان سے تسلیم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسول ﷺ پیش کی گئی۔ پروگرام کے دوران علمائے کرام نے اپنے خطابات میں واضح کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ اسلام کا بنیادی اور غیر متزلزل عقیدہ ہے، جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت بیان کی کہ حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا تصور سراسر باطل اور گمراہی ہے۔

علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت کے لیے بیدار اور متحد رہے، کیونکہ دشمنانِ اسلام مختلف حیلوں اور فتنوں کے ذریعے اس عقیدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے تلقین کی کہ وہ دینی تعلیمات سے مضبوط تعلق قائم کریں اور باطل نظریات سے خود کو محفوظ رکھیں۔

پروگرام کے دوران سامعین میں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے حوالے سے غیر معمولی جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا۔ شرکاء نے یک زبان ہو کر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی زندگیوں میں اس عقیدے کی حفاظت کریں گے اور آنے والی نسلوں تک اسے صحیح اور مستند صورت میں منتقل کریں گے۔

آخر میں مفتی توقیر عالم صاحب قاسمی، نندنیاں کی خصوصی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، اتحادِ امت اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت کے لیے بطورِ خاص دعائیں کی گئیں۔ پروگرام نہایت روح پرور ماحول میں اختتام پذیر ہوا اور شرکاء اس عزم کے ساتھ رخصت ہوئے کہ وہ اس پیغام کو اپنے گاؤں اور گھروں تک پہنچائیں گے۔

اس بابرکت پروگرام کے انعقاد میں مولانا اصغر صاحب (امام جامع مسجد مرکز شیشہ باڑی)، مفتی قیصر صاحب قاسمی (جامع مسجد سوشن باغ)، حافظ فیروز صاحب، ضلع پارشد شمشاد صاحب اور عبدالمنان صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔

جبکہ شرکت کرنے والوں میں قاضی فضل نورانی صاحب (دارالعلوم امور)، مفتی جنید صاحب مظاہری (شہریا)، مفتی عبدالغنی صاحب قاسمی، مولانا سید عالم صاحب ندوی، مولانا مفتی صدام صاحب (پارا، پورنیہ)، مفتی توقیر عابد قاسمی، مولانا شفیق صاحب، حافظ اشرف صاحب (شہریا)، حافظ اسلم صاحب، حافظ ارشد صاحب، مولانا رضوان ندوی صاحب سمیت دیگر علمائے کرام، حفاظِ عظام اور دانشوران شامل تھے۔

بلاشبہ جامع مسجد مرکز شیشہ باڑی میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے فروغ اور دینی شعور کی بیداری کے لیے ایک اہم اور قابلِ تحسین قدم ثابت ہوگا، اِن شاء اللہ۔

رپورٹ: توقیر عابد قاسمی

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔