2024 میں قانون نافذ نہ کرنے پر سوالات، گیس کی قلت اور مہنگائی کو اصل مسئلہ قرار
نئی دہلی خصوصی نمائندہ:
کانگریس نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری ایل پی جی (رسوئی گیس) بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے خواتین ریزرویشن کے مسئلے کو سیاسی طور پر اچھال رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کو ریزرویشن دینے کا قانون منظور ہونے کے باوجود اسے 2024 کے عام انتخابات میں نافذ نہیں کیا گیا، جو حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔
کانگریس کے ترجمانوں کے مطابق، حکومت نے 2023 میں منظور شدہ خواتین ریزرویشن قانون (ناری شکتی وندن ادھینیم) کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے بجائے اسے محض سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت خواتین کو بااختیار بنانے میں سنجیدہ ہوتی تو اس قانون کو فوری طور پر عملی شکل دی جاتی۔
پارٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ قانون کے نفاذ کو مردم شماری اور حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) جیسے مراحل سے جوڑ کر غیر ضروری تاخیر پیدا کی جا رہی ہے، جس سے اس کی افادیت متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے ملک میں ایل پی جی کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک سنگین عوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث عام شہریوں، خصوصاً متوسط اور غریب طبقات، کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل پر توجہ مرکوز کرے، نہ کہ عوامی توجہ کو دیگر معاملات کی طرف موڑنے کی کوشش کرے۔
کانگریس رہنماؤں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل عوام کے لیے سب سے بڑی تشویش بن چکے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں رسوئی گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے معاملات پر اپوزیشن جماعتیں مسلسل حکومت کو ہدفِ تنقید بنا رہی ہیں، جس کے باعث یہ مسئلہ سیاسی منظرنامے میں نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔