نئی دہلی: جمعیت علمائے ہند نے اپنے اصولی اور تنظیمی موقف کے تحت مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک فرقہ وارانہ سیاسی جماعت کے ساتھ مبینہ اتحاد اور کھلی حمایت کے معاملے میں 24 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحت طلب کرلی ہے۔
جمعیت کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے آزادی کے فوراً بعد 17 اور 18 اگست 1951 کو منعقدہ اپنی مجلس عاملہ کے تاریخی اجلاس میں، جس کی صدارت مولانا سید حسین احمد مدنی نے کی تھی، انتخابات اور ووٹنگ سے متعلق ایک واضح اور اصولی پالیسی طے کی تھی، جس کی توثیق بعد کی متعدد نشستوں میں بھی کی جاتی رہی ہے۔
بیان کے مطابق جمعیت کی پالیسی یہ ہے کہ اس کے اراکین اور عہدیداران کسی بھی فرقہ وارانہ جماعت سے نہ تو کوئی تعلق رکھیں، نہ سیاسی اشتراک کریں اور نہ ہی اس کی حمایت کریں۔ اس کے برعکس انہیں صرف ان سیاسی قوتوں کا ساتھ دینے کی ہدایت دی گئی ہے جو قومی یکجہتی، آئینی اقدار، جمہوری اصولوں اور ملک کے کثرت پسند سماجی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوں۔
جمعیت نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کی جانب سے ایک فرقہ وارانہ جماعت کے ساتھ سیاسی اتحاد اور اس کی کھلی حمایت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو تنظیم کی اعلان کردہ پالیسی اور بنیادی اصولوں سے صریح انحراف کے مترادف ہے۔
نوٹس میں مولانا اجمل قاسمی سے کہا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنا تحریری جواب مرکزی دفتر کو ارسال کریں اور واضح کریں کہ مذکورہ اقدام کن حالات، مقاصد اور بنیادوں پر کیا گیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر وضاحت تسلی بخش نہ ہوئی تو تنظیمی ضوابط کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔
جمعیت علمائے ہند نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے اکابرین کے طے کردہ اصولی موقف، آئینی اقدار کے تحفظ اور ہر قسم کی فرقہ وارانہ سیاست کی مخالفت پر بدستور مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔