مودی دباؤ میں ہیں، ہمت ہے تو امریکہ سے تجارتی معاہدہ منسوخ کریں: راہل گاندھی

بھوپال: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’کمپرومائزڈ‘‘ ہیں اور امریکہ کے دباؤ میں فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر وزیر اعظم میں ہمت ہے تو وہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدہ منسوخ کر کے دکھائیں۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں منعقدہ کانگریس کی کسان مہاچوپال سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ ملک کے مفادات کے خلاف ہے اور اس سے کسانوں، چھوٹے تاجروں اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بیرونی دباؤ میں آ کر ایسے فیصلے کیے ہیں جو قومی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں مبینہ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ اور صنعت کار گوتم آدانی سے متعلق امریکہ میں زیر بحث معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہی وجوہات کی بنا پر حکومت دباؤ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم واقعی ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہیں تو انہیں فوری طور پر اس معاہدے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں زرعی شعبہ اور چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ حکومت اس کے ممکنہ نقصانات پر خاموش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عام شہریوں کے مفادات کو نظرانداز کر کے چند مخصوص کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ادھر حکمراں جماعت کی جانب سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس سے معیشت کو تقویت ملے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں زرعی اور معاشی پالیسیوں پر بحث تیز ہو چکی ہے، اور اپوزیشن حکومت کو مختلف محاذوں پر گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔