وندے ماترم کی لازمیت مذھبی اور شخصی آزادی کے خلاف: امیر شریعت

ملک وندے ماترم سے نہیں آئین سے چلے گا: ناظم امارت شرعیہ

پھلواری شریف: سیل رواں

امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے فرمایا کہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی،درگاہ کی حمد و ثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزادی کے قطعی خلاف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ملک آئین و دستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب و ادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب و عقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتاؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہوا تھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جناب جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیدا ہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔

ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی صاحب نے فرمایا کہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرار دیا ہے، اس کے باوجود مرکزی حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرار کرنا دستور و آئین اور عدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سے ملک میں یکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے و سنوارنے اور انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمار امرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔