مسلم ممالک سے امریکہ آنےوالوں میں کمی

جمہوریت کے منافی سلوک پر پشیمانی کے بجائے اظہار فخر کرنا عجیب وغریب حرکت ہے

از:- ڈاکٹر غلام زرقانی

چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ

شاید یہ بات آپ کے حافظے میں اب تک موجود ہو کہ صدر ڈونالڈٹرمپ نے اپنے پہلے عہدہ صدارت کا حلف لیتے ہی ۲۷؍جنوری ۲۰۱۷ء؁ میں سات مسلم ممالک سے امریکہ آنے والوں پر پابندی عائد کردی تھی ۔ ان میں ایران ، عراق، لیبیا، صومالیہ ، سوڈان ، شام اور یمن شامل تھے ۔ انھوںنے ابتدا میں یہ پابندی نوے ایام کے لیے عائد کی ، پھر اسے طول دیتے رہے ، یہاں تک کہ۲۰۲۱ء؁ میں جب صد رجوبائیڈن نے زمام اقتدار سنبھالی تو انھوںنے متذکرہ منافی جمہوریت پابندی ہٹالی ۔ خیال رہے کہ جب صدر ٹرمپ نے پابندی لگائی تھی، توپورے امریکہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے ، جن میں بہت بڑی تعداد میں مقامی عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے شہری بھی شامل رہے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرحلے پر جب مظاہرہ ہورہاتھااور وقت نماز آگیا ، توغیروں نے چاروں طرف سے حلقہ بنالیا اور درمیان میں مسلم مظاہرین نماز پڑھتے رہے ۔

کہتے ہیں نا کہ جب دل میں کدورت بھری ہوتووہ کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ۔ بدقسمتی سے ۲۰۲۴ء؁ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ایک بار پھر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نمائندہ بنادیے گئے ۔ انھوںنے انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ برسراقتدار آئے تو چند مسلم ممالک سے امریکہ آنے والوں پر پہلے سے زیادہ سخت پابندیاں عائد کریں گے ۔ ویسے توانھیں اپنے وعدے یاد نہیں رہتے ، لیکن ایک مخصوص مذہب کے والوں کے خلاف اقدامات کا وعدہ بھول نہ سکے ۔ اطلاعات کے مطابق یہ امر اس قدراہم تھا کہ ۲۰۲۵ء؁ دوسری بار مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے پہلے ہی دن انھوںنے اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ ایسے ممالک کی نشاندہی کریں ، جن پر پابندی عائد کرنی ہے ۔ متذکرہ ہدایت نامے کے خلاف صرف اپنوںنے نہیں ، بلکہ غیروں نے بھی صدائے احتجاج بلند کیا۔ مثال کے طورپر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن جناب ڈان بیئر پریس ریلیز میں لکھتے ہیں :

“A hateful stain on our nation’s history, the Muslim Ban that President Trump instituted in his first term was fueled by bigotry and Islamophobia and did lasting damage to the families it separated,” said Rep. Chu. “Distressingly, President Trump has already started the process to fulfill his campaign promise to reinstate a ban, signing an Executive Order on his first day back in office that lays the groundwork for a future, and potentially expanded, Muslim Ban.

’’ ہمارے ملک کی تاریخ میں ایک نفرت انگیز داغ ،یعنی مسلمانوں کے داخلے پر پابندی ، جوصدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں نافذ کی ، جس نے تعصب اور اسلام فوبیا کو ہوا دی اور خاندانوں کو دیرپا نقصان پہنچایا ، تکلیف کی بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے پابندی کو بحال کرنے کے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے لیے عمل شروع کر دیا ہے۔اپنے دفتر میں واپسی کے پہلے ہی دن ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جسے ممکنہ طورپر مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے لیے بنیاد بنایا جائے گا۔‘‘

بالآخر صدر ٹرمپ نے بعض ممالک سے آنے خواہش مندوں پر مکمل پابندی لگائی اور بعض پر جزوی ۔ مکمل پابندی والے ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، گینیا، ایریٹریا، ہتی ، ایران ، لیبیا، صومالیہ ، سوڈان اور یمن شامل ہیں ، جب کہ برونائی ، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا پر جزوی پابندی لگائی گئی ۔ آپ محسوس کررہے ہیں کہ متذکرہ پابندی سے سب سے زیادہ جو طبقہ متاثر ہوا ہے ، وہ مسلمان ہے ۔ لہذا جو نتائج برآمد ہونے تھے ، وہ توقع کے عین مطابق ظاہر ہوئے۔ اس حوالے سے Cato Institute کی حالیہ رپورٹ پڑھیے ۔

Data from the State Department through February 2026 show that the Trump administration has cut legal immigration by nationals of 45 majority-Muslim countries by 96 percent since December 2024

’’ فروری ۲۰۲۶ء؁تک کے محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر ۲۰۲۴ء؁ سے مسلم اکثریتی والے۴۵ ممالک کے شہریوں کی قانونی ہجرت میں ۹۶فیصدتک کمی کی ہے۔ ‘‘
حیرت یہ نہیں ہے کہ کسی ملک نے بیرونی ممالک سےآنے والوں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی ہے ، بلکہ حیرت تویہ ہے کہ روئے زمین پر ’جمہوریت ‘کا ڈھنڈوراپیٹنے والے ایک ترقی یافتہ ملک نےمخصوص طبقے کے خلاف یہ اقدام کیا ہے ۔ اوراس پر حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ اپنے متذکرہ اقدام پر پشیماں ہونے کے بجائے جناب والا بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنا انتخابی وعدہ پورا کردیا ہے ۔انھیں خبر نہیں کہ اس نفرت انگیز پالیسی سے کتنے خاندان مصائب وآلام سے گزررہے ہوں گے ؟ کتنے بچے اپنے والدین سے ، کتنے شوہر اپنی بیویوں سے اور کتنے بھائی بہن اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے سے محروم ہوئے ہوں گے ؟ احساس ندامت سے سر جھک جاتاہے کہ ہم کس عہد میں سانس لے رہے ہیں ؟ یہ عہد تعلیم یافتہ ہے ، یا بنام تعلیم وترقی جہالت ، تنگ نظری ، اورظلم و بربریت کی نئی شکل ہے؟
اور سن لیا جائے کہ مسلمان بھی امریکی ترقی میں برابر کے شریک ہیں اور اپنی محنت ، جدوجہد اور تحقیق وجستجو سے معاشرے کو بہت کچھ دے رہے ہیں ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ میں نے امراض قلب کے ماہر پاکستانی ڈاکٹر سے ملاقات کی ۔ باتوں باتوں میں موصوف کہنے لگے کہ امریکہ میں ڈاکٹروں کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ یہاں تقریبا ساٹھ فیصدی امراض قلب کے ڈاکڑمسلمان ہیں۔ اور یہ بات کہنے کی نہیں کہ امراض قلب بہت عام ہوچکا ہے اور ایسے حالات میں معاشرے کی صحت وتندرستی کے حوالےسے مسلم ڈاکٹروں کی خدمات کس حد تک ضروری کمی دور کرنے میں معین ومددگار ثابت ہورہی ہیں ۔اس لیے بلاشک وشبہ یہ کہیے کہ اگر بیرونی ممالک سے مسلمان ہجرت کرکے امریکہ آرہے ہیں ، تویہ صرف باہر سے آنے والوں پر ملک کے احسانات نہیں ہیں ، بلکہ ہجرت کرنے والے بھی اپنی خدمات سے ملک پرقابل قدر احسانات کررہے ہیں ۔
صاحبو! یہ حقیقت دو اور دوچار کی طرح سے درست ہے کہ ہر معاشرے اور ہر مذہب کے ماننے والوں میں کچھ اچھے اور کچھ برے لوگ ہوتے ہیں ۔ چاہیے یہ کہ اپنے ملک کے تحفظ وصیانت کے لیے برے لوگوں پر نظر رکھی جائے اور انھیں ملک میں داخلے سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ تاہم کسی ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت انگیز اقدام انسانیت دشمنی ہے اور قابل مذمت بھی ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔