از:- نایاب حسن
دارالعلوم ندوۃ العلما کے مہتمم استاذ الاساتذہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کا سانحۂ ارتحال حلقۂ ندوہ ہی نہیں، تمام ہندوستان؛ بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک دلدوز و غم انگیز سانحہ ہے۔ مولانا نے اکیانوے سال کی ایک بھرپور اور خدمات و کارناموں سے معمور زندگی گزاری اور اپنے پیچھے ہزاروں شاگردوں، درجنوں کتابوں اور بے شمار محبین،متعلقین و منسلکین چھوڑ کر گئے،جو یقیناً ان کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہوں گے۔ مولانا نے ایک طویل عرصے تک دارالعلوم ندوۃ العلما کے مسندِ اہتمام کو زینت بخشی اور اپنے تدبر، نظم و انتظام کی غیر معمولی صلاحیت ،ندوے سے والہانہ تعلق اور ندوے کی تعمیر و ترقی کے عدیم النظیر جذبے کی بدولت اس ادارے کے ہمہ جہت فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ مولانا اعظمی ایک ذی وجاہت علمی خانوادے کے سپوت اور خود ایک جید الاستعداد عالم اور برصغیر کے اُن چیدہ عربی ادیبوں اور صحافیوں میں تھے جن کی تحریریں عالمِ عربی میں بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ انھوں نے مجلہ ’البعث الاسلامی‘ میں نہ جانے کتنے موضوعات پر ہزاروں صفحات لکھے ہوں گے،جو ان کی عربی دانی، ادبی براعت، لسانی ہنر مندی، شگفتگیِ اسلوب، مفکرانہ شان، عالمِ اسلام کے مسائل سے قلبی وابستگی اور ان کے حل کے لیے تڑپ، ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے اہلِ فکر و دانش عربوں کو واقف کروانے کی دھن اور ملت و امت سے سچی محبت کا نمونہ ہیں۔ انھوں نے کم و بیش دو درجن عربی و اردو تصانیف اور تراجم اپنے پیچھے چھوڑے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اسلامی/دعوتی/سوانحی موضوعات پر ہیں اور ان کی کئی کتابیں دنیاے عرب کے باوقار اشاعتی اداروں سے شائع ہوئی ہیں۔
اس ذیل میں مولانا کی ۸۷۲ صفحات پر مشتمل ضخیم سوانحی کتاب ’۴۸سال شفقتوں کے سایےمیں‘ بڑی اہمیت کی حامل ہے جو ان کی اپنی علمی و عملی زندگی کا لیکھا جوکھا ہونے کے ساتھ مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی معیت و صحبت و تربیت میں ان کی اڑتالیس سالہ زندگی کا ایک خوب صورت اور دل انگیز مرقع پیش کرتی ہے۔ ۳۳ ابواب پر مشتمل یہ کتاب پہلی بار ۲۰۱۲ میں لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے اور اسے بے تکلف معلومات کا گراں بہا خزانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔اس کے مطالعے سے نہ صرف مولانا سعیدالرحمن اعظمی کی زندگی کے احوال سے آگاہی ہوتی ہے؛ بلکہ مولانا علی میاں ندوی کے شب و روز، ان کے سفر و حضر کے معمولات ،اہم قومی و عالمی معاملات سے ان کی دلچسپی اور اس حوالے سے ان کے موقف، بہت سے قومی و بین الاقوامی پروگراموں، منصوبوں اور تنظیموں سے ان کی وابستگی ،درجنوں ملکی و غیر ملکی اسفار، ندوۃ العلما کے حالات و واقعات سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس عرصے میں وفات پانے والی بیسیوں اہم شخصیات پر مولانا اعظمی کی تاثراتی تحریریں اور مولانا علی میاں ندوی کی وفات پر موصول ہونے والے بہت سے ملکی و غیر ملکی اہلِ علم و دانش کے تاثرات بھی شاملِ کتاب ہیں۔
راقم کو ۲۰۱۰ میں مولانا سے نیاز حاصل ہوا، جب میں عربی ادب میں فضیلت کے لیے ندوہ پہنچا تھا۔ دیوبند سے فراغت اورمولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ کی شاگردی کا سن کر اور عربی زبان میں کچھ شد بد محسوس کرکے انھوں نے غیر معمولی لطف و مہربانی کا معاملہ فرمایا اوران کی خاص توجہ کی بدولت داخلے کے مراحل بہ آسانی مکمل ہوگئے، گوکہ بہ وجوہ میں نے وہاں تعلیمی سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی رختِ سفر باندھ لیا تھا۔ بعد میں بھی مجھ کم سواد کو ان کی عنایت حاصل رہی۔ دیوبند کی صحافتی خدمات پر جب میں نے کام کیا اور ’دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ‘ کے نام سے ایک تحقیقی کتاب تیار کی، تو اس کا مسودہ ان کی خدمت میں بھجوایا اور کچھ لکھنے کی درخواست کی، جسے بہ کمال شفقت انھوں نے قبول فرمایا اور ایک طویل تحریرسے نوازا، جو’تصدیر‘ کے عنوان سے شاملِ کتاب ہے۔
مولانا کی نازک مزاجی مشہور تھی،نفاستِ طبع بھی ان کی مثالی تھی، طبیعت میں خاص قسم کا ضبط و انضباط تھا، طلبہ اور ان کے شاگردوں پر ان کا رعب بھی بہت رہتا تھا ، مگر ساتھ ہی وہ نہایت خوش خلق ، متواضع اور’خفیف الظل‘ بھی تھے۔ ان سے مل کر، بات کرکے طبیعت خوش ہوتی اور ذہن پر خوشگوار تاثر قائم ہوتا تھا۔ قرآن سے محبت اور تلاوتِ قرآن سے شغف بھی ان کا قابلِ رشک تھا۔ اسی طرح انھوں نے اپنی زندگی کے لمحات کو بہت احتیاط سے ، ناپ تول کر خرچ کیا ، زندگی کا ہر لمحہ نفع بخش سرگرمیوں میں بتایا اور اوقاتِ عمل کی پابندی کے حوالے سے بھی مولانا اعظمی قابلِ تقلید عملی نمونہ چھوڑ کر گئے۔
بعض شخصیتیں اداروں کا شناخت نامہ اور ان کے حسنِ قبول و نیک نامی کا وسیلہ ہوتی ہیں، بلاشبہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی، ایسے میں ان کی رحلت ندوے کی مفتخر تاریخ کے ایک یادگار و ضیابار عہد کا اختتام ہے۔ اللہ پاک ان کے حسنات کو قبول فرمائے، تمام بشری لغزشوں سے در گزر فرمائے اور مغفرتِ کاملہ فرمائے ۔