بیجو پٹنایک پر متنازع بیان: نشی کانت دوبے کی غیر مشروط معافی

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکنِ پارلیمان نشی کانت دوبے نے سابق وزیر اعلیٰ اڈیشہ بیجو پٹنایک کے بارے میں اپنے متنازع بیان پر ملک بھر میں اٹھنے والے شدید ردِعمل کے بعد غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

دوبے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بیجو پٹنایک ایک عظیم قومی رہنما تھے اور ہمیشہ رہیں گے، اور اگر ان کے بیان سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ اس پر بلا شرط معذرت خواہ ہیں۔

تنازع کی وجہ

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب نشی کانت دوبے نے گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 1962 کی چین-بھارت جنگ کے دوران سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے درمیان بیجو پٹنایک ایک “رابطہ” کا کردار ادا کر رہے تھے۔

اس بیان کے بعد نہ صرف اپوزیشن جماعتوں بلکہ خود بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے بے بنیاد اور نامناسب قرار دیا۔

سیاسی ردعمل اور دباؤ

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، جو بیجو پٹنایک کے نام سے منسوب ہے، نے اس بیان کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ پارلیمنٹ میں واک آؤٹ بھی کیا گیا اور دوبے سے معافی کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ معاملہ اس قدر بڑھ گیا کہ بی جے پی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھیں اور سینئر رہنماؤں نے دوبے کے بیان کو “غلط اور ناقابل قبول” قرار دیا۔

وزیر اعظم کا ردعمل

اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے “اُتکل دیوس” کے موقع پر بیجو پٹنایک کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والا عظیم رہنما قرار دیا، جسے سیاسی حلقوں میں تنازع کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔

شدید سیاسی دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد نشی کانت دوبے نے نہ صرف اپنا بیان واپس لیا بلکہ واضح کیا کہ ان کی بات کو غلط انداز میں سمجھا گیا تھا۔ اس معافی کے بعد اس تنازع میں کسی حد تک کمی آئی ہے، تاہم یہ واقعہ ہندوستانی سیاست میں تاریخی شخصیات کے حوالے سے حساسیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔