اجمیر عرس کو دعوتی و تبلیغی عرس بنانے کی ضرورت

اجمیر عرس کو دعوتی و تبلیغی عرس بنانے کی ضرورت از: محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج ،سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال اجمیر شریف کی درگاہ، حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ کی وہ روحانی خانقاہ ہے جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند عرس میں شرکت کے لیے جمع ہوتے […]

اجمیر عرس کو دعوتی و تبلیغی عرس بنانے کی ضرورت Read More »

مٹھ اور مت(ووٹ )کی سیاست

سماج میں عموما مذہبی شناخت سے وابستہ افراد کا احترام پایا جاتا ہے، ان کے لیے اس کا لحاظ ضروری ہے، لیکن بسا اوقات بہت سے لوگ احترام کا غلط استعمال کر کے اپنی بالا تری اور انا کی تسکین کرتے ہیں، اس کی ایک بڑی مثال و نمونہ، گور کھ ناتھ مٹھ کے مہنت دگ وجے ناتھ(ناہوں سنگھ ) مہنت اویدیا ناتھ(کرپال سنگھ بشٹ )اور یوگی آدتیہ ناتھ(اجے سنگھ بشٹ )ہیں

مٹھ اور مت(ووٹ )کی سیاست Read More »

سچ تو مگر کہنے دو!! اجمیر سے کمبھ میلے تک

نئے سال 2025 ء کا آغاز در اصل گزرے ہوئے سال کا تسلسل ہے۔ وہی تنازعات، کشیدگی، نفرت انگیز ماحول اور اس اندھیری نگری میں کبھی کبھی امید کہ جگنو بھی نظر آتے ہیں جیسے ایک طرف حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے آستانے پر بھی فرقہ پرستی سے آلودہ ذہنوں کے حامل بعض عناصر نے مندر ہونے کا دعوی کیاتو وزیر اعظم نریندر مودی نے عقیدت و احترام اور امن و سلامتی کے پیغام کے ساتھ چادر راجناتھ سنگھ کے ساتھ اجمیر کو روانہ کی۔

سچ تو مگر کہنے دو!! اجمیر سے کمبھ میلے تک Read More »

ضیا تقوی: جدید اردو شاعری کا ایک روشن ستارہ

اردو ادب کی دنیا میں ایسے کئی شعرا و ادبا گزرے ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس زبان کے دامن کو مزید وسعت دی۔ سید ضیا کاظم تقوی، جنھیں ادبی حلقوں میں ضیا تقوی کے نام سے جانا جاتا ہے، انہی روشن ستاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کا تعلق لکھنؤ کے ایک علمی اور ادبی خاندان سے ہے، جو اپنی علمی وراثت اور ادبی خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ ضیا تقوی کا تعارف ایک ہمہ جہت شاعر، ناقد، اور افسانہ نگار کے طور پر کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ضیا تقوی: جدید اردو شاعری کا ایک روشن ستارہ Read More »

معاشرتی نظام اور اس کی اصلاح کا طریق کار

محلوں کی سطح پر مختلف صلاحیتوں کے افراد اور اداروں کو باہم دگر الجھے بغیر منظم طریقے سے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے, آج دنیا میں جو سیاسی ومعاشرتی نظام رائج ہے اس میں اوپر سے نیچے تک بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور طرفہ یہ ہے کہ اس نظام کی اصلاح کی کوششیں بھی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں

معاشرتی نظام اور اس کی اصلاح کا طریق کار Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔