ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں
انسانی تخلیق کے بارے میں جدید سائنس کا اپنا نظریہ یہ ہے کہ آدمی کئی ملین سال پہلے بندر تھا اور پھر مختلف علم و فن کے مراحل سے گزرتے ہوۓ متمدن اور مہذب انسان کہلایا ۔دنیا کی تمام آسمانی کتابیں اور آسمانی مذاھب کے ماننے والوں نے اس نظریے کو رد کیا مگر ان کے رد کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔میں نے پچھلے مضمون "ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں” لکھا ہے کہ بیسویں صدی کے نئے ورلڈ آرڈر نے کیسے منصوبہ بند طریقے سے اقوام عالم پر سیاسی اور معاشی برتری حاصل کی اور سیکولرزم اور لبرلزم کے نام پر مذہبی تعلیمات کو بے وقعت قرار دے دیا ۔اس طرح سیکولر ممالک کے تعلیمی نصاب اور دستور میں بھی یہ بات تسلیم کروا لی گئی کہ انسانوں کا وجود ایک حادثاتی تخلیق کا نتیجہ ہے ۔اور یہ خدا ودا کا تصور جہالت کی باتیں ہیں ۔
ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں Read More »