پی ایم کیئرز اور ریلیف و دفاعی فنڈز پر پارلیمنٹ میں سوالات کی اجازت نہیں ہوگی: وزیراعظم دفتر کی ہدایت

نئی دہلی:

وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) نے لوک سبھا سیکرٹریٹ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ، وزیراعظم نیشنل ریلیف فنڈ اور نیشنل ڈیفنس فنڈ سے متعلق پارلیمنٹ میں کسی بھی قسم کے سوالات یا بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پی ایم او کے مطابق یہ فنڈز حکومت کے براہِ راست انتظامی دائرہ اختیار میں شامل نہیں ہیں اور یہ مکمل طور پر عوامی رضاکارانہ عطیات اور چندوں پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں سرکاری خزانے یا کنسولیڈیٹڈ فنڈ آف انڈیا کا حصہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر پارلیمانی قواعد کے تحت ان معاملات پر سوالات اٹھانا یا جواب طلب کرنا مناسب نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ قواعدِ کار کے مطابق ایسے موضوعات پر سوالات منظور نہیں کیے جا سکتے جن کے لیے حکومت براہِ راست جواب دہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے لوک سبھا سیکرٹریٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ان فنڈز سے متعلق کوئی سوال، نوٹس یا بحث پیش کی جائے تو اسے قواعد کے تحت مسترد کر دیا جائے۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شفافیت اور جواب دہی کے عمل کو نقصان پہنچے گا اور عوامی فنڈز کے استعمال پر پارلیمانی نگرانی کمزور ہوگی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی عطیات سے قائم فنڈز کے معاملات بھی پارلیمنٹ کے سامنے واضح ہونے چاہئیں۔

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کے بعد احتساب اور شفافیت کے سوالات ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔