قرآن جیسی عظیم دولت کا کوئی نعم البدل نہیں

قصبہ کنتور میں اسعداللہ انصاری کی دستارِ حفظ کے موقع پر دعائیہ تقریب منعقد

بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری)

قصبہ کنتور میں اسعداللہ انصاری ابن محمد ذاکر انصاری کی دستارِ حفظ کے بابرکت موقع پر ایک پروقار دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اہلِ علاقہ، رشتہ داروں اور معززینِ قصبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے مسرت کا اظہار کیا۔ یہ تقریب محض ایک تعلیمی مرحلے کی تکمیل کا جشن نہیں بلکہ دینی شعور، علمی وابستگی اور روحانی اقدار کی حسین ترجمانی بھی تھی۔
پروگرام کا آغاز حافظ و قاری محمد ناظم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ قاری محمد ذیشان قصبہ ایچولوی نے نعتِ پاک پیش کر کے محفل کو روحانی رنگ بخشا۔ اس کے بعد باقاعدہ جلسے کا آغاز ہوا، جس کی نظامت مولانا غیاث الدین نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جبکہ جلسے کی صدارت حافظ وقاری الحاج عبدالقادر کنتوری ناظم اعلیٰ مدرسہ حنفیہ رضویہ قلابہ ممبئ نے فرمائی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمِ دین مولانا محمد اشتیاق احمد قادری نے نہایت بصیرت افروز انداز میں حاضرین کو مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ہم پر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور ہمیں ایمان جیسی دولت سے نوازا، جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

انہوں نے دینی مجالس کے آداب کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی دینی پروگرام منعقد کیا جائے تو وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھا جائے، اور اتنا ہی بیان کیا جائے جتنا سامعین آسانی سے سن اور سمجھ سکیں، کیونکہ پوری رات جاگنا اور طویل محافل منعقد کرنا مناسب نہیں۔

مولانا نے حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں، زبان پر ہلکے مگر میزان میں نہایت بھاری ہیں”سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم”۔ انہوں نے تاکید کی کہ ان اذکار کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو بہترین دینی تعلیم سے آراستہ کریں، انہیں اچھی محفلوں میں لے جائیں، اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور صحابۂ کرام کے واقعات سنائیں تاکہ ان کی تربیت دینی بنیادوں پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ اولاد سے نوازے تو اسے عالم اور حافظِ قرآن بنانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ قرآنِ کریم خود ایک عظیم معجزہ ہے، اور آج اسعداللہ انصاری کا حافظِ قرآن بننا اسی معجزے کی روشن مثال ہے۔

مزید انہوں نے کہا کہ کثرت سے درود شریف کا ورد کیا جائے، کیونکہ اس کے ذریعے انسان کو اللہ کے محبوب ﷺ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔ اچھی صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیک لوگوں کی مجلس انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور قرآن کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دیتی ہے، جس کے نتیجے میں کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے۔
اسعداللہ انصاری نے اپنی دینی تعلیم مدرسہ حنفیہ رضویہ قلابہ، ممبئی میں مکمل کی، جہاں انہوں نے قاری محمد نیاز احمد کی نگرانی میں علمی منازل طے کیں، جبکہ اس دوران الحاج عبدالقادر کی خصوصی رہنمائی بھی انہیں حاصل رہی۔ ان کی اس کامیابی پر اہلِ خانہ اور اہلِ علاقہ نے دلی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات پیش کیں۔

اس موقع پر آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبہ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ قرآن جیسی عظیم دولت کا کوئی نعم البدل نہیں، اور یہی انسان کی اصل کامیابی اور فلاح کا ذریعہ ہے۔

تقریب کے اختتام پر اسعداللہ انصاری کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ اس روحانی اور باوقار محفل میں گرام پردھان محمد اکرم انصاری، عبدالقادر انصاری، محمد اختر انصاری،محمد اعظم انصاری،محمد عالم انصاری، محمد شاکر انصاری،محمد فرید انصاری، حافظ غیاث الدین، قوسین انصاری، عبداللہ انصاری سمیت دیگر معززین اور اہلِ علاقہ کثیر تعداد میں شریک رہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔