سیل رواں ڈیسک:
بہار میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد مہاگٹھ بندھن نے حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو چیلنج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تیجسوی یادو کی قیادت میں راشٹریہ جنتا دلنے راجیہ سبھا کی نشست کے لیے امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق امیدوار کے انتخاب کے سلسلے میں اہم میٹنگ لالو پرساد یادو کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی راجیہ سبھا کا انتخاب لڑے گی۔ اس سلسلے میں امیدوار کے نام کے اعلان کا اختیار پارٹی کے قومی صدر اور ایگزیکٹو صدر تیجسوی یادو کو سونپ دیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ممکن ہے تیجسوی یادو خود ہی اس انتخاب میں امیدوار بن جائیں۔
تاہم عددی طاقت کے لحاظ سے مہاگٹھ بندھن کے لیے یہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ بہار کی 243 رکنی اسمبلی میں راشٹریہ جنتا دل کے پاس تقریباً 25 ارکان ہیں۔ اگرچہ اسے کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، اس کے باوجود مہاگٹھ بندھن کی مجموعی طاقت تقریباً 35 ارکان تک پہنچتی ہے، جب کہ راجیہ سبھا کی ایک نشست جیتنے کے لیے تقریباً 41 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
ادھر حکمراں اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اپنی عددی برتری کے باعث پراعتماد دکھائی دے رہا ہے۔ اسمبلی میں اس اتحاد کے پاس تقریباً 200 سے زائد ارکان کی حمایت موجود ہے، جس کے باعث وہ راجیہ سبھا کی تمام پانچ نشستیں جیتنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ اگر آر جے ڈی انتخاب لڑنا چاہتی ہے تو اسے میدان میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن نتیجہ این ڈی اے کے حق میں ہی ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اپوزیشن اتحاد کو اضافی جماعتوں کی حمایت مل جاتی ہے تو پانچویں نشست پر دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بہار سے راجیہ سبھا کی پانچ نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں اور کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 مارچ مقرر کی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں کن امیدواروں کو میدان میں اتارتی ہیں اور انتخابی مقابلہ کس رخ اختیار کرتا ہے۔