از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
رمضان نہایت بابرکت اور مقدس مہینہ ہے۔ عبادت وتلاوت اور صدقہ و خیرات کا اسمیں خاص اھتمام کیا جاتا ہے،۔عموما لوگوں کے ذہن ودماغ میں یہ بسا ہوا ہے کہ عام دنوں اور مہینوں سے عبادت پر زیادہ اجر ملا کرتا ہے، نفلی عبادت کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر فرضوں کے برابر لہذا ایک دوسرے سے عبادات میں سبقت لے جانے کی سعی ہوتی ہے اور دوسرا اہم پہلو جو عبادت کی روح ہے وہ نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔روزہ ورمضان میں بھی وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب ہے کا مظاہرہ ہونے لگتا ہے۔سر پر ہر روزے دار کے ٹوپی ہے مگر اخلاق وآداب سے عاری روزے دار گھر اور بازار ہر جگہ نظر آتے ہیں۔جبکہ رمضان المبارک کا یہ مہینہ ایک مسلمان کو خلیق بنانے کے لئے آتا ہے۔یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اخلاقی تربیت، کردار سازی اور روحانی پاکیزگی کا بھی ہمیں درس دیتا ہے۔ رمضان کا یہ مبارک مہینہ ایک صاحب ایمان کے باطن کو سنوارنےاور اس کے اخلاق کو نکھارنے کے لئے آتا ہے۔ رمضان روزہ دار کو صبر سکھاتا ہے اور صبر و برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک روزہ دار کو دن بھر اور پیاس برداشت کرنےکا حکم اسی لئے دیا گیا ہےکہ اس کے اندر قوت برداشت پیدا ہواور صابرين کی فہرست میں شامل ہو جن کےلئے قران میں واضح طور پر یہ اعلان موجود ہےکہ بیشک اللہ صابرين کے ساتھ ہے۔آج خدائی مدد سے دوری کی ایک بڑی وجہ صبر، تحمل اورقوت برداشت کی کمی نہ ہے۔ صبر زندگی کے تمام معاملات میں ضروری شی ہے۔اور جو صابر ہیں وہ اپنی زندگی میں مشکلات کا مقابلہ ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں،قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے کہ صبر ونماز کے ذریعے خدا کی مدد طلب کرو۔
رمضان ہمیں ہمدردی اور غم خواری کا درس بھی دیتا ہے۔ جب ایک مالدار شخص بھوک اور پیاس کی تکلیف محسوس کرتا ہے تو اسے غریبوں اور محتاجوں کا احساس ہوتا ہے۔ اسی احساس کے نتیجے میں صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں محبت، مساوات اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔
یہ مہینہ سچائی اور امانت داری کی تربیت بھی کرتا ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، غیبت، چغلی اور بد اخلاقی سے بچنے کا بھی نام ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص جھوٹ اور برے کام نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا اصل مقصد اخلاق کی اصلاح ہے۔
رمضان عبادت کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط اور وقت کی پابندی بھی سکھاتا ہے۔ سحری اور افطار کے اوقات کی پابندی انسان کو منظم زندگی گزارنے کا عادی بناتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز باجماعت، تلاوتِ قرآن اور تراویح انسان کے اندر دینی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
رمضان المبارک انسان کی اخلاقی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر ہم اس مہینے کی روح کو سمجھ لیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہمارا کردار سنور سکتا ہے اور معاشرہ امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ رمضان ہمیں صرف ایک مہینے کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے اچھا انسان بننے کا پیغام دیتا ہے۔