اعمال صالحہ کی نمائش سےروزے کی روحانیت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں
از:- ڈاکٹر غلام زرقانی
چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ
ماہ رجب المرجب کاچاند دیکھ کر مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا مروی ہے ، ’’ اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان‘‘ (بیہقی، ۳۵۳۴)یعنی اے اللہ ! ماہ رجب اور شعبان ہمارے لیے بابرکت بنا اور ہمیں رمضان المبارک کی سعادتیں نصیب فرما۔دعاکے الفاظ صاف بتارہے ہیں کہ رمضان المبارک کی ساعتیں اس قدر اہم ہیں کہ تین ماہ پہلے سے انتظار کیا جارہاہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ماہ رجب کی ابتدا سے ہی رمضان المبارک کے استقبال کے لیے ذہنی طورپر تیار کیا جارہاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کے معمولات یہ رہے ہیں کہ وہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی اضافی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہوجاتے تھے ۔ لین دین ، ملاقاتیں اور معاملات طے کرلیے جاتے تاکہ زیادہ سے زیادہ یکسوئی کے ساتھ رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹی جاسکیں ۔ اس پس منظر میں جب ہم اپنے شب وروز کا جائزہ لیتے ہیں تواحساس شرمندگی سے سر جھک جاتاہے ۔ تیاری ہمارے یہاں بھی ہوتی ہے ، مگر عبادت وریاضت کی نہیں ، بلکہ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور نمائشی پروگرامات کی۔
رمضان المبارک کی ساعتیں کس قدر قیمتی ہیں ، اس کا اندازہ صرف ایک حدیث سے لگایا جاسکتاہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس ماہ مقدس میں ایک نیک عمل دوسرے مہینوں میں کیے گئے فرض کے مساوی ہے اور ایک فرض عمل دوسرے مہینوں میں کیے گئے ستر فرائض کے برابر ہے(صحیح ابن خزیمہ، ۱۸۸۷) ۔یہ بات کہنے کی نہیں کہ فرائض کا جو مقام ومرتبہ ہے ، وہ بہت بلند ہے ، جس کا مقابلہ نوافل سے کسی طور نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یہ رحمت خداوندی ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اجروثواب کے پہلو سے نوافل اور فرائض ایک صف میں رکھ دیے جاتے ہیں ۔ اور چونکہ فرض کی اہمیت اپنی جگہ ہے ، اس لیے اسے سترفرائض کے مساوی قرارد دے دیا جاتاہے ۔ یعنی ایسا محسوس ہوتاہے کہ بارگاہ الٰہی سے اجروثواب موسلا دھار بارش کی طرح سے برس رہاہے ۔ اندازہ لگائیے کہ ایسے مبارک ومسعود ماہ مقدس میں ہماراطریقہ کار کیا یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بارش رحمت وانوار میں نہانے کے لیے خود کو تیار کریں؟
آپ میری تائید کریں گے کہ مسلم علاقوں میں رمضان المبارک کی آمد کی شناخت اب بازاروں سے ہونے لگی ہے ۔ پوری رات دکانیں کھلی رہتی ہیں ۔ کہیں انواع واقسام کے کھانے اور مٹھائیاں سلیقے سے سجی ہوئی ہیں ۔ کہیں شربت ، کافی اور چائے موجود ہے۔ اور لوگ مزے لے لے کر کھا پی بھی رہے ہیں اور باہمی گفت وشنید بھی ہورہی ہے ۔ اورملبوسات کی دکانوں پر بھی ازدحام اپنے شباب پر رہتاہے۔ غرض یہ سلسلہ عام طورپر سحری تک جاری رہتاہے ۔ اور اب تو کہیں کہیں کھیل کود کے مقابلے میں رمضان المبارک کی راتوں میں منعقد کیے جارہے ہیں ، جہاں ہماری نئی نسل بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ٹی وی پر بنام ’رمضان ٹرانسمیشن ‘ پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ، جہاں تفریح طبع کے لیے سارے واجبی اہتمامات ہوتے ہیں ۔ دنیاوی سوالات ہوتے ہیں اور درست جوابات دینے کی صورت میں بڑے بڑے انعامات بھی دیے جاتے ہیں ۔ اور ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ مقدس راتوں کا زیادہ تر حصہ یوں ہی ضائع کردیا جاتاہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ رمضان المبارک کے دن ہمارے لیے قیمتی نہیں ہیں ، بلکہ صرف یہ کہنا چاہتاہوں کہ اسلامی شریعت میں عام طورپر دن کے مقابلے میں رات کی فضیلت کہیں زیادہ ہے ۔ اور ہم رمضان المبارک کی قیمتی راتیں ضائع کررہے اور ہمیں احساس زیاں تک نہیں ۔
ایک پہلو سے دیکھیے تو رمضان المبارک کی راتوں میں نماز تروایح ایک نہایت ہی اہم عبادت ہے ، لیکن باستثنائے چند، ہمارے یہاں وہی حافظ قرآن بہتر سمجھا جاتاہے ، جو سب سے زیادہ تیزی سے قرآن کریم پڑھ کر تراویح ختم کردے ۔ ہم فخر سے یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ فلاں حافظ صاحب توآدھے گھنٹے میں تراویح ختم کردیتے ہیں ۔ یعنی ہماری عبادات کا معیار نہ تواخلاص ہے ، نہ انہماک اور نہ ہی رعایت تجوید کے ساتھ تلاوت قرآن کی پذیرائی ، بلکہ تن آسانی اور رضائے نفس ہے ۔ مجھے یاد آتاہے کہ چند سالوں پہلے ایک صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ ممبئی کے فلاں علاقے میں ایک حافظ صاحب صرف بیس منٹ میں تراویح ختم کردیتے ہیں ۔وہ اس قدر مشہور ومعروف ہوگئے ہیں کہ لوگ دور دراز سے ان کے پیچھے تراویح پڑھنے کے لیے آتے ہیں ۔ نہ صرف مسجد تنگ پڑ جاتی ہے ، بلکہ آس پاس کی سڑکوں کے کنارے نصب کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں تک آواز پہنچ سکے۔مجھے شرارت سوجھی تومیں نے پوچھ لیا کہ لوگ دور دراز سے آتے ہیں ۔ آپ کے خیال میں کتنی دوری سے آتے ہوں گے؟ وہ جناب میری درپردہ لطافت کو سمجھ نہ پائے اور جواب دیا کہ پانچ دس کیلومیٹر دوری سے آتے ہیں ۔میں نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا کہ حیرت ہے اُن لوگوں پر جو لمبی مسافت کی زحمتیں توبرداشت کرلیتے ہیں ، مگر نماز تراویح میں دس بیس منٹ طوالت برداشت نہیں کرسکتے۔ ظاہرہے کہ پانچ دس کیلو میٹر کی دوری طے کرنے میں آدھے گھنٹے تولگتے ہی ہوں گے۔ مزید یہ کہ راستے میں ٹریفک اور لوگوں کی بھیڑ بھاڑ کی زحمتیں اس پر مستزاد ہیں ۔ اے کاش وہ اپنے علاقے میں ہونے والی نماز تراویح میں چالیس منٹ دیتے ، توہر طرح سے فائدے میں رہتے ۔ طویل وقت تک نماز تراویح میں شرکت ، دیر تک مسجد میں موجودگی اورخوبصورت لب ولہجے میں قرآن پاک کی سماعت۔
صاحبو! اسلاف کرام کے دلوں میں عبادت وریاضت کی کیسی تڑپ ہوتی تھی، اس کی ایک جھلک دیکھیے ۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ شیخ معلی بنی فضل سے روایت کرتے ہیں کہ سلف صالحین رمضان المبارک کے گزر جانے کے بعد چھ ماہ تک دعاکرتے تھے کہ اے اللہ جو عبادتیں ہم نے رمضان المبارک میں کی ہیں ، انھیں شرف قبولیت سے نواز دے اور پھر چھ ماہ تک دعاکرتے کہ اے اللہ ہمیں آنے والے ماہ رمضان المباک تک پہنچادے (لطائف المعارف، ص: ۱۴۸)۔ہوسکے توتنہائی میں بیٹھ کر غور کریں کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے دلوں میں رمضان المبارک سے فیضیاب ہونے کی کیسی تڑپ ہوا کرتی تھی اور ہماری حالت کیا ہوگئی ہے ؟ تکلیف کے لیے معذرت چاہتاہوں کہ عمومی طورپر ہماری کیفیت کچھ یوں ہوگئی ہے کہ رمضان المبارک ہمارے نزدیک ایک قومی تہوار بن گیا ہے ، جس میں راتیں تفریح کے لیے اور دن نرم نرم گدوں پر عیش وآرام کے لیے ، نیز باورچی خانے خواتین کے انواع واقسام کے کھانے تیار کرنے کے لیے ۔
جناب والا! اب بھی کچھ نہیں گزرا ہے ۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے ۔ بارگاہ الٰہی کی چوکھٹ پر پلکوں سے گرنے والے اشک ندامت کے چند قطرات ہمارے برسوں کی بے اعتدالیوں ، کوتاہیوں اور گناہوں کے پہاڑ کوسوں دور بہالینے کی طاقت وقوت رکھتے ہیں ۔ اورکیا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے کہ مالک حقیقی کو منانے کے لیے سب سے بہتر مہینہ اور سب سے افضل ترین رات کون سی ہے ؟ یہی توہے ، جس کی گود میں ہم سانس لے رہے ہیں اور شب وروز گزار رہے ہیں ۔