شنکر اچاریہ اور سناتن دھرم

از:- محمد نفیس خان ندوی

ـــــــــــــــــــــــــــــ

آٹھویں صدی عیسوی ہندوستان کی فکری و مذہبی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھی۔ ایک طرف بودھ مت اپنی سادگی، اخلاقی تطہیر، عدمِ تشدد کی تعلیم اور باہمی یگانگت کے پیغام کے باعث وسیع سماجی قبولیت حاصل کر رہا تھا، جبکہ دوسری جانب سناتن دھرم داخلی انتشار، طبقاتی جمود، رسومات کے غلبے اور فرقہ وارانہ منازعات کی وجہ سے اپنی فکری حرارت کھو رہا تھا۔ یہ صورتِ حال سناتن استعمار کے لیے مسلسل کمزوری کا سبب بن رہی تھی۔

ایسے حالات میں آدی شنکر آچاریہ (788–820 CE ) نے سناتن دھرم کو دوبارہ مضبوط کرنے اور بودھ مت کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے کسی قسم کی سیاسی یا عسکری کشمکش میں حصہ نہیں لینے کے بجائے علمی و فکری میدان کو اپنا محاذ بنایا. مختلف مقامات پر بودھ مت کے علماء و فلاسفہ سے مناظرے کیے اور مذہبی دلائل کے ذریعے سناتن دھرم کے فکری تفوق کو ثابت کیا اور اس میں ایک نئی جان پیدا کردی.

بودھ مت کے اندر پہلے سے موجود مختلف فرقے شنکر آچاریہ کے مناظروں و مباحثوں کے بعد مزید نمایاں نظر آنے لگے

جس سناتن دھرم کی فکری وحدت بحال ہونے لگی۔
آدی شنکر آچاریہ کی سب سے اہم اصلاحات میں سے ایک’ ہندوستان کے چاروں کونوں میں چار عظیم پیٹھوں (Mathas) کا قیام تھا:

  • (مشرق) گوبردھن پیٹھم- پوری(اڈیشہ)
  • (مغرب) کالی ماتھ- دوارکا (گجرات)
  • (شمال) جوشی مٹھ – بدری ناتھ(اتراکھنڈ)
  • (جنوب) شری شاردھا پیٹھم- شنگری (کرناٹک)

ان چاروں میں پیٹھوں کے سربراہ کو ان کے بانی "آدی شنکر اچاریہ” کی نسبت سے "شنکر اچاریہ” کہا جاتا ہے
ان پیٹھوں کا مقصد یہ تھا کہ سناتن دھرم کے مذہبی رہنما پوری منظم تربیت کے ساتھ تیار ہوں، فلسفہ اور تعلیم ایک نظام کے تحت محفوظ ہو،اور دھرم کی تشریح انتشار سے نکل کر ایک منضبط ادارتی ڈھانچے میں مرکزی شکل اختیار کرے۔

ساتھ ہی اس نظام کا ایک عملی فائدہ یہ بھی تھا کہ سناتن روایت کو سیاسی مداخلتوں اور مقامی گروہی کھینچا تانی سے نسبتاً تحفظ حاصل ہو گیا۔

آدی شنکر آچاریہ کی ان مختلف الجہات کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان میں بودھ مت کی خانقاہی تنظیمیں بتدریج کمزور ہوتی گئیں۔ بہت سے بودھ ادارے یا تو برہمنی روایت کے اندر جذب ہو گئے یا اپنا سماجی اثر کھونے لگے۔

اس کے برعکس سناتن دھرم کا فلسفیانہ غلبہ بڑھنے لگا، چاروں پیٹھوں کا ڈھانچہ مضبوط ہوا، اور مختلف ریاستوں کی سرپرستی بھی سناتن دھرم کے اس نئے ادارتی نظام کی پشت پر آ گئی۔

نویں اور دسویں صدی تک بودھ مت کا ہندوستانی اثر مسلسل کم ہوتا گیا اور آدی شنکر آچاریہ کا قائم کردہ فکری و تنظیمی ڈھانچہ سناتن دھرم کا مرکزی ستون بن کر ابھرا۔ یوں آدی شنکر آچاریہ نے نہ صرف اپنے دور کے مذہبی بحران کو سنبھالا بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے سناتن دھرم کی فکری بنیادوں کو بھی مستحکم کر دیا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔