نئی دہلی: یوجی سی (University Grants Commission) نے سال 2026 کے لیے ملک بھر میں قائم 32 جعلی (فیک) یونیورسٹیوں کی تازہ فہرست جاری کرتے ہوئے طلبہ اور والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ داخلہ لینے سے قبل کسی بھی ادارے کی قانونی حیثیت کی مکمل جانچ کر لیں۔
یو جی سی کے مطابق یہ تمام ادارے کمیشن ایکٹ کے تحت تسلیم شدہ نہیں ہیں اور انہیں ڈگری جاری کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔ ایسے اداروں سے حاصل کی گئی ڈگریاں نہ تو سرکاری ملازمت کے لیے قابل قبول ہوں گی اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے لیے درست سمجھی جائیں گی۔
دہلی سرفہرست
جاری کردہ فہرست کے مطابق سب سے زیادہ 12 جعلی یونیورسٹیاں دہلی میں پائی گئی ہیں، جب کہ اتر پردیش دوسرے نمبر پر ہے جہاں 4 ادارے غیر قانونی طور پر یونیورسٹی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرلہ، مہاراشٹر، پڈوچیری، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، ہریانہ، اروناچل پردیش اور راجستھان سمیت مختلف ریاستوں میں بھی ایسے اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یو جی سی کی وارننگ
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ بعض ادارے “یونیورسٹی” یا “اوپن یونیورسٹی” کے نام سے طلبہ کو گمراہ کرتے ہیں اور پرکشش اشتہارات کے ذریعے داخلے دیتے ہیں، حالانکہ انہیں کسی بھی قسم کی ڈگری دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ یو جی سی نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ داخلے سے قبل متعلقہ ادارے کا نام سرکاری ویب سائٹ پر جاری مستند فہرست میں ضرور چیک کریں۔
مکمل فہرست یہاں دیکھیں
یو جی سی کی جانب سے جاری کردہ جعلی یونیورسٹیوں کی مکمل اور تازہ فہرست کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ طلبہ اور والدین درج ذیل ویب سائٹ پر جا کر متعلقہ ادارے کی حیثیت کی تصدیق کر سکتے ہیں: www.ugc.gov.in
طلبہ کے مستقبل کا معاملہ
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی یونیورسٹیوں کے خلاف کارروائی کے باوجود ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا قیمتی وقت اور سرمایہ ضائع ہوتا ہے۔ یو جی سی نے ریاستی حکومتوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔