از:- ابو فہد ندوی
بنکم چندر چٹرجی( 1838 – 1894 ) کی پیدائش برہمن خاندان میں ہوئی۔ انھوں نے ہوگلی محسن کالج اور پریزیڈنسی کالج، کلکتہ میں تعلیم حاصل کی۔ کلکتہ یونیورسٹی کے اولین گریجویٹ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ سنہ 1858ء سے 1891ء میں اپنی سبک دوشی تک وہ برطانوی حکومت میں ڈپٹی کلکٹر اور ڈپٹی مجسٹریٹ کے منصب پر فائز رہے۔ان کے والد بھی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈپٹی مجسٹریٹ تھے۔
بنکم چندر چٹرجی نے اپنی مشہور نظم وندےے ماترم کےپہلے دو بند 1875 کے آس پاس لکھے تھے۔نظم کے باقی بند ناول میں شامل کرنے کے لیے 1882 میں لکھے گئے۔نظم میں وطن کے لیے بھکتی اور پرستشش کے جذبات پائے جاتے ہیں ۔ پوری نظم توصیفی انداز کی ہے،اس میں حمد، قدرت اور عبدیت کا اظہارہے اور جب عبدیت ہے تو ظاہر ہے کہ عبودیت بھی ہے، کیونکہ عَبدیت عُبودیت کے بغیر نہیں ہے۔نظم میں دعائیہ کلمات نہیں ہیں، یعنی اس میں وطن سے یا دیوی درگا سے کچھ بھی مانگا نہیں جارہا ہے۔نظم کے بیانیے پر اگر غورکریں تو اس میں اعتقادی بیانیہ پوری طرح موجود ہے، جو بھارت اور دیوی درگا دونوں کے لیے عقیدت واحترام کے ملے جلے جذبات پر مشتمل ہے، اگر نظم صرف وطن کے لیے ہوتی تو اس میں شاید یہ کلمات:’’ میں تیرا غلام ہوں، غلام کا غلام ہوں ،غلام کے غلام کا غلام ہوں‘‘ نہ ہوتے۔کیونکہ یہ کلمات تو کسی سپرم طاقت کے سامنے اپنی عاجزی اور درماندگی کے اظہار کے لیے ہوتے ہیں اور وطن بذات خود تو کوئی سپرم طاقت نہیں ہے، وطن کو وطن کے لوگ طاقتور بناتے ہیں، جنہیں اس نظم میں استعارتا ’غلام ‘کہا گیا ہے۔
اس نظم کو جو بات مزید متنازعہ اور بھارت کے ایک طبقے کے لیے مزیدناقابل قبول بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نظم کو بنکم چٹرجی نے اپنے ناول ’’آنند مٹھ‘‘ میں شامل کیا ہے۔ اورآنند مٹھ میں شامل ہونے کے بعد ہی یہ نظم متنازعہ بنی، کیونکہ آنند مٹھ میں دیش بھگتی کے علاوہ نفرتی بیانیہ بھی ہے ۔
ناول میں دو چیزیں بہت زیادہ قابل اعتراض ہیں، ایک انگریزوں کی حکومت کی تائید اور دوسرے مسلمانوں کے خلاف نفرت۔ آنند مٹھ کے مترجم گوکل چند نارنگ نے اپنے دیباچے میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’اس ناول میں اہل اسلام کو بری طرح یاد کیا گیا ہے‘ پھر انہوں نے یہ صفائی دینا ضروری سمجھا ہے کہ مسلمانوں سے مراد ظالم مسلمان بادشاہ ہیں نہ کہ عام مسلمان۔ مترجم نے دیباچے میں اس ناول کے اختتام کو ’نامردانہ اور مایوسی خیز‘ لکھا ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بنکم چند چٹر جی کو تمام مسلمانوں سے یا عام مسلمانوں سے نفرت نہیں تھی، اس کے برعکس وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان بادشاہ بنگال کی دولت دہلی لے گئے اور اس وجہ سے وہ مسلمان بادشاہوں خلاف ہوگئے۔
انہوں نے اپنے بعض ناولوں میں لکھا:
’ ’مغلوں کی فتح کے بعد بنگال کی دولت بنگال سے دلی چلی گئی‘‘
(مضمون: انڈیا: ’وندے ماترم‘ کی تاريخ ، سنیل رمن، بی بی سی، 2 ستمبر 2006)
اس ناول کی تیسری بات یہ ہے کہ پورے بھارت کو سامنے رکھ کر نہیں لکھا گیا بلکہ اُس وقت کے متحدہ بنگال کو سامنے رکھ کر لکھا گیا۔ نظم کے تیسرے بند میں ’سپت کوٹی‘ یعنی سات کروڑ کا استعمال کیا ہےاور ۱۸۷۱ء کی مردم شماری کے مطابق متحدہ بنگال (بنگال، آسام، بہار، اڈیشہ) کی آبادی سات کروڑ تھی یعنی یہ گیت متحدہ بنگال کے لئے لکھا گیا تھا پورے ہندوستان کے لئے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
-
وندے ماترم کی لازمیت مذھبی اور شخصی آزادی کے خلاف
-
وندے ماترم سے ایس آئی آر تک: حکمران جماعت ہوش باختہ
ناول آنند مٹھ 1882 میں شائع ہوا، پھر اس کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے، ریختہ پر اس کے ایک سے زائد اردو ترجمے بھی موجود ہیں۔ علامہ سیماب اکبر آبادی نے وندے ماترم کااردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔ جسے آنند مٹھ کے اردو مترجم منشی ہیرا لال کوثر سلطان پوری (1994) نے اپنے ترجمے میں شامل کیا ہے۔
ناول سنیاسی تحریک کی ستائش پر مبنی ہے۔ سنیاسی بغاوت یعنی مسلح تصادم اور مقامی بغاوتوں کا سلسلہ جو بنگال میں 1763شروع ہوکر 1800 میں ختم ہوا۔ اس کی قیادت ہندو سنیاسی اور مسلمان فقیروں نے کی جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔
تحریک کے ابتدائی دنوں میں یعنی 1763 میں مسلم فقیروں نے ڈھاکہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کارخانے پر قبضہ کر لیا اور انچارج افسر کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ تقریباً اسی وقت سنیاسیوں نے ایک فیکٹری پر چھاپہ مارا اور فیکٹری کے سربراہ کو قتل کر دیا۔ 1767 میں ایک بڑی سنیاسی فورس نے بہار میں سارن کے قریب کمپنی کے سپاہیوں کو شکست دی۔
1772 میں فقیروں کے ایک سرکردہ رہنما مجنو شاہ نے بوگرہ اور راجشاہی پر چھاپے مارے، خزانے لوٹے اور مقامی رہنماؤں کو اغوا کیا۔ مجنو شاہ کے بعد، موسیٰ شاہ نے 1780 کی دہائی تک مزاحمت کی قیادت کی، اس کے بعد چراغ علی شاہ نے برطانوی پوسٹوں کے خلاف گوریلا طرز کے حملے جاری رکھے۔
بغاوت کا آخری مرحلہ 1793 اور 1800 کے درمیان آیا، جب کمپنی نے ایک منظم کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اوراہم رہنمائوں کی موت اور مرکزی قیادت ختم ہونے کی وجہ سے بغاوت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔
(بحوالہ: انریشا بھٹاچارجی، انسائکلو پیڈیا، بریٹانیکا ایڈیٹر۔ جولائی 2025)
ناول کی تمہید متحدہ بنگال کےبدترین اور ہلاکت خیز قحط کا پس منظر رکھتی ہے۔جو 1769 سے 1773 کے درمیان رونما ہوا۔ اس قحط میں کم وبیش ایک کروڑ ہندوستانی لقمہ اجل بن گئے، جن میں سے زیادہ تر کی جان غذاکی قلت کے باعث ہوئی۔ یہ پلاسی کی جنگ 1757 سے ذرا بعد کا وقت ہے، جب انگریزوں نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال پر قبضہ جمالیا۔ انگریزوں کے دور میں تیسیوں بار قحط پڑا۔ اور انگریزوں نے بھارتیوں کی کوئی مدد نہیں کی، بلکہ انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ انگریزوں نے بھارت میں افیم کا کاروبار کیا، وہ بھارت سے افیم لے جاکر چین میں فروخت کیا کرتے تھے۔ بھارت میں جب برطانیہ میں تیار ہونے والے کپڑے کی مانگ نہیں بڑھی تو انہوں نے بھارت میں قائم کپڑے کی دیسی کارخانوں کو برباد کردیا ۔ اور اس طرح برطانیہ کے کپڑے کی تجارت کے لے راہ ہموار کی گئی۔ انگریزوں نے بھارت میں کیا کیاظلم نہیں ڈھائے۔ انگریزوں نے مسلمان بادشاہوں سے بھی جنگیں لڑیں اور ہندو راجاؤں سے بھی۔اور انہوں نے بھارتیوں کی استطاعت سے بڑھ کر بھارتیوں پر لگان لگایا اور بھارت کی ساری دولت لوٹ کر انگلستان لے گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے شاہی عمارتوں سے سونا کھرچ کھرچ کر اور پگھلا پگھلا کر نکال لیا۔ انگریزوں کے بالکل برعکس مسلمان بادشاہوں نےاپنے دور میں بھارت کو اتنی ترقی دی کہ بھارت کو سونے کی چڑیا کہا جانے لگا۔ مسلمان بادشاہ جیسے بھی تھے انہوں نے ملک کی دولت کو باہر نہیں بھیجا، وہ خود بھی یہیں کے ہوکر رہ گئے اور انہوں نےبھارت کی دولت بھارت میں ہی خرچ کی۔ مگر اس کے باوجود بھی مذکوہ ناول میں انگریزوں کے قصیدے پڑھے گئے ہیں، انہیں سب قوموں سے بہادر بتایا گیا ہے، مسلمانوں کو بزدل اور جنگ سے بھاگ جانے والے کہا گیا ۔ انگریزوں کی حکومت کو بھارت کے لیے اچھا اور بہتر بتایا گیا ، حتی کہ ناول کے اختتام پر ہندوراشٹر کی بات بھی سرسری انداز سے کی گئی ہے بلکہ بس اسی بات کو کافی سمجھا گیا ہے کہ بھارت سے مسلمانوں کی حکومت ختم ہوگئی اور انگریزوں کی حکومت آگئی۔
یہ ناول جب لکھا گیا، اس وقت انگریزوں کا ملک کے بڑے حصے پرقبضہ ہو چکا تھا۔پلاسی اور بکسر کی جنگیں ہوچکیں تھیں، جنوب میں 1799 میں ٹیپوسلطان کو چوتھی جنگ میں شہید کردیا گیا تھا ۔ ٹیپو سلطان انگریزوں کے راستے کی آخری چٹان تھا ، انگریز جنرل نے ٹیپو کی لاش پر کھڑے ہو کر کہا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اب کوئی ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔حتی کہ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کی لڑائی بھی لڑی جاچکی تھی اور اس کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندوستانیوں کو اور خاص کرمسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا تھا۔کہاجاتا ہے کہ دہلی سے میرٹھ تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر کسی مجاہد آزادی کو پھانسی نہ دی گئی ہو۔انگریزوں نے سفاکی اور درندگی کی انتہا کردی انہوں نے مجاہدین آزادی کو توپ کے منہ باندھ کر ان کے جسموں کے پرکھچے اڑادئے۔
پرتیگیز اور انگریز بھارت میں آنے سے پہلے بحری قزاق ہواکرتے تھے، بیچ سمندر میں اور ساحل کی بستیوں پر لوٹ مارکرنا ہی ان کی گزر اوقات اور معاش کا ذریعہ تھا۔ اور جب یہ لوگ بھارت میں آئے تو انہوں نے لوٹ مارکا سلسلہ جاری رکھا،خود بنکم چندر چٹرجی کے بعض ناولوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔ ان کے دوسرے مشہور ناول ’کپال کنڈلا‘ کے پہلے ہی باب میں پرتگیزیوں کو ’پرتگیزی ڈاکو‘ کہہ کر خطاب کیاگیا ہے ۔ اور پھر بھی انہوں نے انگریزوں کو بھارت کے لیے بہتر بتایا اور انگریزوں کے راج کو عدل وانصاف والا راج پاٹھ لکھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی میں بعض افسر اتنے سفاک اور بے رحم تھے کہ مؤرخین نے ان کی سفاکیت کا ذکر جا بجا کیا ہے۔ میجر ہکٹر منرو کے بارے میں مورخ ولیم ڈیلریمپل نے لکھا ہے:
’’ہندوستان میں سب سے زیادہ موثر برطانوی افسران میں سے ایک، مزاجاً پر سکون اور آرمیدہ لیکن کام کے حوالے سے سکاٹ لینڈ کے پہاڑوں سے نسبت رکھنے والے اس 38 سالہ شخص سے ظالم اور سفاک شخص کا سایہ اس زمین پر نہ پڑا ہوگا‘‘
پھر بھی ناول کے مصنف کوانگریزوں کا ظلم نظر نہیں آیا بلکہ اس نے ناول کے اختتام پر لکھا کہ اب انگریز آگئے ہیں، اب ملک میں امن وامان قائم ہوگا۔بعض کے متصل زمانے میں ہر ہندوستانی کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ انگریز پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔یہ ناول اپنے بیانیے کے اعتبارسے 1757 سے لے کر 1947 تک کم وبیش دو سو سال کے طویل عرصہ کو محیط جنگ آزادی کی پوری جدو جہد کی نفی پر کھڑا ہے۔ یہ ناول مجاہدین آزادی بلکہ خود سنیاسی تحریک کی بنیادوں کو جھٹلاتا ہے۔
مسلمانوں کے اعتقادات کے اعتبار سے وندے ماترم مشرکانہ خیالات وجذبات پر مبنی ہے،مگر اس حوالے سے اہل وطن مشکل ہی سے مسلمانوں کا ترک اور توحید کے تصور کو سمجھ پائیں گے، تاہم اس سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایسے شخص کالکھاہواترانہ یا نظم ہے جسے مسلمانوں سے نفرت اور انگریزوں سے محبت ہے۔ ظاہر ہے کہ بہت سے اہل وطن کووندے ماترم لکھنے والے کی مسلم دشمن سوچ سے بھی کچھ فرق نہیں پڑنے والا نہیں ہے، مگر اس بات سے تو انہیں بھی فرق پڑنا ہی چاہیے کہ اس شخص نے بھارت میں انگریزوں کی آمد کا سواگت کیاہےاورحقیقت کے برخلاف انگریزوں کے سامراجی دور کو امن وامان والا دور لکھا اور انگریزوں سے محبت کا اظہارکیا۔ بندے ماترم لکھنے والے کی یہ سوچ تو سرتا سر بھارت ورودھی سمجھی جانی چاہیے۔ آزادی کی لڑائی کے وقت ایسی سوچ رکھنے والوں کی تعداد اگر زیادہ ہوجاتی تو ملک کسی بھی صورت آزاد نہ ہوتا۔
اس ناول میں بعض ترک بڑے دلچسپ بھی ہیں ۔صفحہ نمبر 203 پر لکھا گیاہے:
’’ ذرا دھیان دے کر سنو! (ایک کردار ’وید‘ دوسرے کردار ’ستیہ نند ‘سے کہتا ہے)میں تمہیں رشی منیوں کا مَت بتاتاہوں، تینتیس 33 کروڑ دیوتاؤں کی پوجا ستیہ سناتن دھر نہیں۔ یہ صرف نچلے درجہ کے عام لوگوں کادھرم ہے۔ اصلی ستیہ سناتن دھرم جس کو ملیچھوں نے ہندو دھرم کا نام دے رکھا ہے۔اس کے نیچے آکر دب گیا ہے۔ اصلی ہندو دھرم گیاناتمک (مذہبِ معرفت) ہے، کرماتمک (مذہبِ عمل) نہیں‘‘
اس مختصر سے اقتباس میں رشی منیوں کا مَت یہ بتایا گیا ہے کہ دیوی دیوتاؤں کی پوجا اصل سناتن دھرم نہیں ہے، بلکہ پوجا پاٹ کرنا تو نچلے درجے کے لوگوں کا کام ہے۔پھراس اقتباس میں دوسروں کو غالبا غیر برہمنوں کو ’ملیچھ‘ لکھا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ سناتن دھرم تو’ گیاناتمک‘ ہے ، یعنی معرفت اور گیان دھیان کا دھرم ہے ، نہ کہ جنگ وجدال اور تخت وتاج کے کام کاج کا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھردھرم کی بنیاد پر رام راج کاپاٹھ کیوں؟
اس کے بعد گیان کی دوبڑی قسمیں کی گئی ہیں، بیرونی گیان اور اندرونی گیان۔ اور بتایاگیا ہے کہ اندرونی گیان ہندو دھرم کا بڑا حصہ ہے ،مگربھارت میں بیرونی گیان کے جاننے والے ندارد ہیں اور انگریز بیرونی گیان کے ماہر ہیں، تو جب انگریز بھارت میں حکومت کریں گے تو بھارت کے لوگ ان سے بیرونی گیان یعنی دنیاوی علوم سیکھیں گے۔انگریز یہاں راج کریں گے تو لوگ ان کے راج میں خوش رہیں گے، اس لیے تم انگریزوں سے لڑنے کا ارادہ چھوڑدو اور جو میں کہتا ہوں اس پر عمل کرو۔
مذکورہ صفحے کا اقباس ملاحظہ ہو:
’’انگر یز لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہیں اور ان کے سکھانےکی قابلیت رکھتے ہیں، اس لیے بھگوان کو یہی منظورہے کہ انگریز ہمارے راجا بنیں۔ انگریزی تعلیم کے ذریعہ دنیاوی علوم حاصل کرکے ہم لوگ روحانی مسائل سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے۔ پھر ستیہ سناتن دھرم پھیلانے میں کوئی دقت نہیں ہوگی بلکہ وہ خود بخود چمک اٹھے گا۔ جب تک یہ نہیں ہوگا تب تک ہندو لوگ گیان وان، گن وان اور بلوان نہیں ہوں گے۔ انگریز بے کھٹکے یہاں راج کریں گے، ان کے راج میں لوگ خوش رہیں گے اور ہر ایک آزادی سے اپنے دھرم کوپورا کرسکے گا، تم خود دانا ہو، اس بات پر غورکرو اور انگریزوں سے لڑنے کا ارادہ چھوڑ دو اور میرے ساتھ ہولو‘‘
پھر اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ آج ڈیڑھ سو سال بعد آرایس ایس اور بی جے پی کے لوگ بنکم چڑجی کے ناول کو اور ان کی باتوں کو جو نہ تو اس وقت درست تھیں اور نہ ہی آج درست ہیں ، صحیح ٹہرا رہے ہیں۔ ایک طرف وہ آزادی کا امرت مہوتسو بھی مناتے ہیں، مجاہدین آزادی کا مان سمان بھی کرتے ہیں اور گُنگان بھی اور دوسری طرف انگریزوں کی حکومت کا سواگت کرنے والے ناول اور ناول نگار بنکم چندر چٹرجی کا بھی اتنا ہی مان سمان کرتے ہیں۔حالانکہ دونوں میں سے ایک بات ہی درست ہوسکتی ہے، یا تو انگریزوں کے خلاف لڑنے والے اورانگریزوں کو ملک سے بھگانے والے مجاہدین آزادی صحیح ہوسکتے ہیں یا پھر انگریزوں کا ملک میں سواگت کرنے والے اور انگریزوں کی حکومت کو امن وشانتی اور عدل وانصاف والی حکومت بتانے والے بنکم چندر چٹرجی جیسے لوگ درست ہوسکتے ہیں۔ دونوں باتیں ایک ساتھ درست نہیں ہوسکتیں۔
اس ناول میں ایک سین یہ بھی ہے کہ ستیانند مہاراج جی سے پوچھتا ہے کہ جب آپ کی مرضی یہی تھی کہ انگریزوں کا یہاں راج ہوجائے اور انگریزوں کے راج سے ہی عوام کا بھلا ہوگا تو پھر آپ نے مجھے اب تک کیوں مارکاٹ یعنی انگریزوں سے لڑائی کرنے پر لگا رکھا تھا۔؟
مہاراج جی اس کے جواب میں کہتے ہیں: ’’انگریز قوم اس وقت تجارت میں لگی ہوئی تھی اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتی تھی لیکن اب تمہاری لڑائیوں اور خونریزی سے نتیجہ ہوا کہ مجبورا حکومت سنبھال لینے پر تیار ہوگئی۔ یہ لڑائیاں سب اسی وجہ سے کروائی گئیں ہیں ۔‘‘ (آنند مٹھ، ترجمہ: منشی ہیرا لال کوثر سلطان پوری، صفحہ نمبر:198)
یہ بھی پڑھیں: انسانی درندوں کا وحشی سماج
اس ناول میں یہ بات کس قدر جھوٹ لکھی گئی ہے کہ انگریز بھارت میں حکومت کرنا نہیں چاہتے تھے، وہ صرف تجارت کرنا چاہتے تھے، بھارت میں حکومت کا نظم ونسق تو انہیں مجبورا سنبھالنا پڑا کیونکہ بھارت میں خونریزیاں بڑھ گئی تھیں اور انگریز امن وامان اور عدل وانصاف چاہتے تھے۔ یہ بات تو وہی شخص لکھ سکتا ہے جسے کولونیل دور کے استبدادی نظام کا علم نہ ہو۔اور یہ بات لکھی کب جارہی ہے 1880 کے آس پاس جب 1857 کے بعد تاج برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اوربھارت کو براہ راست برطانیہ سے کنٹرول کیا جارہا تھا۔ بے شک یہ ناول ہے اور 1972-74 کے قحط اور سنیاسی تحریک کے حالات پر مبنی ہے، مگر جب یہ لکھا جارہا تھا تب تو انگریزوں کی ملک دشمنی جگ ظاہر تھی۔
بنکم چٹرجی کی اس دلیل سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ سنیاسی تحریک انگریزوں کی مخالفت اور ملک کی آزادی کی خاطر نہیں لڑی گئی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزوں کو صرف تجارت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں مجبورکیا جائے کہ وہ بھارت کی حکومت کی باگ ڈور بھی اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ آنند مٹھ کے مذکورہ ر اقتباس سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اور یہ دلیل اپنے آپ میں کس قدر بودی ہے ۔ یہ تو ایک طرح سے سنیاسی تحریک کو بھی کٹ گھرے میں کھڑا کرتی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ میر جعفر جس نے سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا اورمیر قاسم جسے انگریزوں نے میر جعفر کی جگہ نواب مقرر کیا تھا، ان دونوں نے بھی بعد میں انگریزوں کی مخالفت کی ۔پلاسی کی جنگ کے بعد میر جعفر نے ابتدا میں کمپنی کی حمایت کی لیکن بعد میں جب اس نے برطانوی مطالبات کو ضرورت سے زیادہ پایا تو میر جعفر کمپنی کے خلاف ہو گیا۔ جواب میں کمپنی نے میر جعفر کو ہٹا کر اس کے داماد میر قاسم کو نواب بنا دیا۔ مگر میر قاسم نے بھی انگریزوں کے خلاف بغاوت کی ،یہاں تک کہ بکسر کی جنگ (1764) انگریزوں سے شکست کھائی ۔ حالانکہ بکسر کی جنگ میں اسے اودھ کے نواب اور مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کی حمایت حاصل تھی۔ جنگ کے بعد شاہ عالم ثانی اور کمپنی کے درمیان معاہدہ الٰہ آباد (1765) پر دستخط کیے گئے۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ اتنا سب کچھ بنکم چٹرجی کی آنکھوں کے سامنے ہوا ۔ اور انہیں پھر بھی انگریزوں کی حکومت عدل وانصاف پر مبنی اور ملک کے لیے مفید ہی نظر آئی۔بنکم چند ر چٹرجی نے انگریزوں کے لیے اس قدر حمایتی اور تائیدی بیانیہ تخلیق کیا تو شاید اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ خود اور ان کے والد بھی انگریز حکومت میں اہم عہدوں پر فائز تھے، تو انہوں نے پوری طرح حق نمک خواری ادا کیا۔