سپریم کورٹ نے ہمنت بسوا سرما کے خلاف نفرت انگیز تقاریر سے متعلق عرضی سننے سے انکار کر دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بشوا سرما کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے سلسلے میں دائر درخواست پر براہِ راست سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ سپریم کورٹ کو سیاسی میدان نہیں بنایا جا سکتا اور ہر معاملہ براہِ راست یہاں لانا مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ جب ریاستی سطح کا معاملہ ہو تو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ہی قانونی طریقہ کار ہے۔

درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کی بعض تقاریر اور ایک متنازعہ ویڈیو میں مخصوص برادری کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی، جو سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ عرضی میں ایف آئی آر درج کرنے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے قیام کی بھی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کے Article 32 of the Indian Constitution کے تحت دائر درخواستوں میں بھی مناسب فورم کا انتخاب ضروری ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ ہائی کورٹس کو بھی آئینی اختیارات حاصل ہیں اور وہ ایسے معاملات میں مؤثر سماعت کر سکتی ہیں۔

عدالت نے عرضی گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر وہاں سے مناسب راحت نہ ملے تو قانونی تقاضوں کے مطابق دوبارہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔

اس طرح عدالتِ عظمیٰ نے فی الحال اس معاملے میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔