ہندوستان میں ایسا تو کبھی نہیں ہوا !

از:- شکیل رشید ایڈیٹر ممبئ اردو نیوز



شمالی ہندوستان میں یوں تو ہولی کا تہوار اور نمازِ جمعہ ، چند چھٹ پُٹ واردتوں کو نظرانداز کر دیں ، تو کہہ سکتے ہیں کہ پُر امن طور پر گزر گیا ، مگر مہاراشٹر میں اس بار وہ ہوا جو کبھی نہیں ہوا تھا ۔ ویسے تو اس بار پورے ملک میں جو ہوا وہ کبھی نہیں ہوا تھا ، لیکن مہاراشٹر کے لوگوں کو یہ یقین تھا کہ چاہے سارے ملک میں ہولی پر تشدد ہو جائے مہاراشٹر میں تشدد نہیں ہوگا ۔ ممبئی سے لے کر مہاراشٹر کے اندرونی حصوں تک پولیس کا رویہ سخت لگ رہا تھا ، دو دن پہلے ہی پولیس حکام نے انتباہ دے دیا تھا کہ ہولی پر کسی بھی طرح کی شرپسندی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ اور سچ یہی ہے کہ ممبئی سمیت ریاست بھر میں حالات تقریباً پُر امن رہے ، لیکن رتنا گیری ضلع کے راجا پور میں حالات افسوس حد تک خراب تھے ۔ اس بار ملک میں جو ہوا پہلے اس کی بات کر لیتے ہیں ؛ اترپردیش میں سنبھل اور شاہ جہاں پور سے لے کر علی گڑھ اور وارانسی تک متعدد مسجدوں کو ترپالوں اور پردوں سے ڈھانک دیا گیا تھا ! وارانسی میں کچھ مندر بھی ڈھانکے گیے تھے ! ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، اورنگزیب عالمگیر ؒ کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا اور اس سے پہلے بابر کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا ۔ ایسا ٹیپو سلطان کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا ۔ وہ لکھنئو جہاں آج یوگی آدتیہ ناتھ ایک متعصب راجہ کی طرح اقتدار کی کرسی پر متمکن ہیں ، کبھی نواب واجد علی شاہ کی ریاست کا دارالخلافہ تھا ، اور ہولی دھوم سے کھیلی جاتی تھی ، خود واجد علی شاہ بھی ہولی کھیلتے تھے ، مگر انہوں نے نہ مندر کو کسی پردے سے ڈھانکنا ضروری سمجھا تھا اور نہ ہی کسی مسجد کو ۔ مغلوں کی ہندو بیویاں اور راجپوت سالار بھی مل جل کر ہولی کھیلا کرتے تھے ؟ ٹھیک ہے مسلمانوں کے ساتھ بھگوائی ہولی نہ کھیلیں ، ویسے بھی کہاں مسلمان ہولی کھیلنے کے لیے اتاؤلے ہو رہے ہیں ، لیکن اس ملک کی عبادت گاہوں کو مختلف رنگ کے پردوں سے تو نہ بانٹیں ۔ خیر ، یہ وہ بھگوائی حکمراں ہیں جو نئے دور کا نیا قانون لے کر آئے ہیں ، ایک ایسا قانون جو نہ ہندوؤں کے لیے بہتر ہے اور نہ مسلمانوں اور دیگرمذاہب والوں کے لیے ۔ اندازہ کریں کہ مسجدوں کو پردوں سے ڈھانکنے کا اثر بیرون ملک کیا پڑا ہوگا ! کیا ساری دنیا نے تھو تھو نہیں کیا ہوگا ؟ کیا لوگوں نے اس ملک کے بھگوائی حکمرانوں کی ذہنیت پر نفریں نہیں بھیجی ہوگی ؟ کیا وہ ہندوستانی جو بیرون ملک رہتے ہیں شرمندہ نہیں ہوئے ہوں گے ؟ مہاراشٹر کی بات تو رہ گئی ۔ لیکن ذکر کیا بھی کیا جائے ! راجا پور کی مسجد کے دروازوں کو شہتیر سے توڑنے کی جو کوشش کی گئی اس منظر نے میری روح تک کو جھنجوڑ ڈالا ہے ۔ کیا نتیش رانے کی شرپسندی یونہی جاری رہے گی ؟ کیا شرپسند مزید مسجدوں کو نشانہ بنائیں گے اور پولیس دیکھتی رہے گی ؟ کیا فڈنویس کی حکومت کسی کو گرفتار کرے گی ؟ شاید نہیں ۔ سنجئے راؤت نے سچ ہی کہا ہے کہ ’ بی جے پی کی حکومت اورنگزیب کے دورِ اقتدار سے بھی بدتر ہے ‘۔ اس میں مَیں اتنا اضافہ کر دوں کہ اورنگزیب کی حکومت کبھی بدتر نہیں رہی کہ اس میں کسی کو کسی تہوار پر اپنی عبادت گاہ کو ڈھانکنے کی ضرورت نہیں تھی ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔