ایک فریضۂِ شرعی سے انحراف کا بھیانک انجام

تحریر: شکیل منصور القاسمی

انسانی سماج کی رہنمائی اور اس کے روز مرہ مختلف النوع وہمہ جہت پیش آمدہ مسائل ، حاجات ، ضروریات وتقاضے کے حل کی بنیاد “انسانی خواہشات وترجیحات “ ظن وگمان یا عقل ودانش “ نہیں ؛ بلکہ “آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی “ ہے ۔

انسانی معاشرے میں احکام الٰہی کی تعمیل ، ترویج ، تنفیذ، عمل داری، نظام خداوندی (وسیع تر معنی ومفہوم میں ) کی سربلندی کے لئے اللہ سبحانہ وتعالی نے لاکھوں انبیاء ومرسلین کی بعثت کا سلسلہ شروع فرمایا ، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد توحید خالص کی اشاعت ، قیام امن ، نفاذ عدل ، جبر استبداد ، ظلم وتعدی کا خاتمہ اور اقامتِ حق تھا ، جب سے انبیاء کی دعوت شروع ہوئی تب سے اس کے بالمقابل طاغوتی کوششیں  بھی نبرد آزما اور بر سر پیکار رہیں  ، آدم علیہ السلام کے ساتھ ابلیس ، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نمرود ، طالوت کے ساتھ جالوت ، موسی علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو جہل اور اس کے حواری موالی کا تصادم بتاتا ہے کہ حق وباطل ، عدل وجبر ، امن وتشدد، سلم وحرب کی باہمی کشمکش ، تصادم اور محاذ ومقابلہ آرائی ابتدائے آفرینش سے ہے اور تا ابد رہے گی ۔سورة الأنبياء: آیت نمبر 18 کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے خلق کائنات کے مقاصد تکوینیہ میں سے ہے کہ حق اور اہل حق کو عروج وکمال کے لئے ابتلاء وآزمایش کی جاں گسل بھٹیوں سے گزاراجائے  ، جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے ، چونکہ حق کی شکل ، راہ وروپ اہداف ومقاصد ایک ہیں  ۔

یعنی اعلاء کلمۃ اللہ ؛ اس لئے بظاہر اسے مصائب ومصاعب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جبکہ باطل کا روپ انیک اور لاتعداد ہے ، مختلف روپ وبھیس اور چولے میں وہ ظہور پذیر ہوتا اور از سر نو لبادے میں جنم لیتا رہتا ہے اس لئے اس کے نقصانات وہزیمت بظاہر مخفی رہتے ہیں ؛ لیکن خدائی بشارت ہے کہ حق وباطل کا میدان کارزار گرم ہونے کی صورت میں مآل کار حق باطل پر حملہ آور ہوتا اور کچومر اور بھیجا نکال کر اسے بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے ، باطل کی تمام شر انگیزی “ حرکت مذبوحی “ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ، باطل کا نصیبہ ہی شکست خوردگی اور بالآخر زیروپست اور ذلیل وخوار ہونا ہے ۔

سوا لاکھ انبیاء مبعوث ہوئے تو لازماً سوا لاکھ مرتبہ باطل کے ساتھ ان کے معرکے بھی بپا ہوئے ہونگے ، اپنے اپنے زمانے اور وقت کے لحاظ سے اور عالم اسباب کے تحت باطل کا ہر حملہ ناقابل تسخیر ہوا ہوگا ۔لیکن باطل کی چوطرفہ یلغار کے باوجود حق کا وجود ریزہ ریزہ ہوا ، نہ باطل فناء ومعدوم ہوا!۔

انسانی معاشرے میں امن وسلامتی ، ترویج واقامتِ حق  جیسے اعلی وارفع مقاصد کے حصول اور ظلم وجبر ، فتنہ وفساد ، تشدد وبربریت کے خاتمہ کے لئے رضاے الٰہی کے مقصد سے (نہ کہ توسیع پسندانہ عزائم یا ہوسِ ملک گیری کے لئے ) انفرادی واجتماعی ہر دو حیثیتوں سے بندہ مومن کا اپنی تمام تر جانی ، مالی ، جسمانی ، ذہنی اور تخلیقی صلاحیتیں اور طاقتیں جھونک دینا اور بوقت ضرورت اس کوشش کی انتہا کو جاکر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کرنا “فریضہ دینی “ ہے ، یہ انبیائی مشن ہے ، اس کے لئے انبیاء کی بعثت ہوتی تھی ، یہ فریضہ تا قیامت معمول بہ اور بہ تسلسل جاری رہے گا ، اس میں مرور زمانہ کے ساتھ کبھی تعطل وتوقف نہیں آسکتا ۔حالات وزمانے کے تقاضوں کے تفاوت سے اس فریضے کی تحتم وغیرہ (فرض عین یا فرض کفایہ ہونے ) میں فرق تو آسکتا ہے ؛ لیکن اس ہمہ جہت اور وسیع الذیل مساعی کے لزوم وفرضیت سے اباء ممکن نہیں ہے ۔

ابلیسی قوتوں اور زمانے کے طواغیت کی سرکشی کی سرکوبی، ظلم و بربریت، درندگی، ناانصافی، ناحق اِنسانی خونریزی، قتل و غارت گری کے خلاف راست اقدام کرنا یا جان ومال عزت وآبرو کے تحفظ ودفاع کے لئے مناسب حال “انتہائی کوششیں “ کرنا شرعاً بھی اور عالمی حقوق انسانی کے قانون کے مطابق بھی نہ صرف جائز ؛ بلکہ ضروری ہے ؛ تاکہ انسانی معاشرہ اَمن و آشتی اور عدل وانصاف کا گہوارہ بن سکے اور اللہ کی سزمین فتنہ وفساد سے یکسر پاک ہوسکے ۔

دین ، مذہب ، جان ومال ، ناموس ، اور وطن وریاست کو ظاہر ومخفی دشمنوں کی سازشوں ، ریشہ دوانیوں ، شر انگیز یوں اور استعماریت سے محفوظ رکھنے اور دشمنوں کو مغلوب ومقہور اور خوف زدہ کرنے کے لئے اللہ پاک نے عام مسلمانوں پہ فرض کیا ہے کہ وہ “تقاضاے عصر”  اور “معیار زماں “ سے ہم آہنگ ہر قسم کی  “قوت “ سے ہمہ وقت آراستہ رہیں ۔

سورہ الانفال آیت نمبر 60 میں عام مسلمانوں کو باضابطہ حکم دیا کیا گیا ہے کہ وہ مقدور بھر اپنے دفاع وتحفظ کے لئے ہر قسم کی قوت وطاقت ہمہ وقت تیار رکھیں ؛ تاکہ کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے یا انہیں چارہ تر سمجھنے کی جرات نہ کرسکے ؛ بلکہ دشمنان خدا ان کی تیاریوں اور “مظاہرہ قوت” سے مرعوب وخوف زدہ ہوکر اقدامی وار کرنے کی ہمت نہ کرسکیں ۔

“قوتِ مُرْہِبہ”  کی تیاری کا مقصد دوسروں پر حملہ کرنا نہیں ہے، بلکہ مقصد دشمنوں کو اس قدر ڈرانا اور نفسیاتی طور پر مبتلاے خوف ودہشت کردینا ہے کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دیں ۔ اسلام میں وقت کے معیار کے مطابق خود کو مضبوط ومسلح کرنے کا حکم تو ضرور ہے ؛ لیکن لازماً جنگ وجدال کے لئے نہیں ؛ بلکہ تحفظ ودفاع کے لئے ؛ تاکہ دشمنوں پر اس قدر دھاک بیٹھ جائے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی ہمت نہ کرسکیں ، یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دفاعی ڈھانچے کو مضبوط کرنا دشمن کے حملوں کو کم کرنے میں ہمیشہ ایک اثر انگیز عنصر رہا ہے ۔ آیت کریمہ میں جس قوت وطاقت کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے اس کا تصور بہت وسیع ہے، اور اس میں اخلاقی، مادی، عسکری، اقتصادی ، سائنسی ، ذرائع ابلاغ ، لسانی ، قلمی اور ثقافتی قوتوں کی ہر قسم کی تیاری شامل ہے؛ اسی لئے آیت پاک میں قوت کا تعین نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ ہر زمانے اور ملک کے عرف ورواج پر اسے چھوڑدیا گیا ہے، ہر وہ چیز جس سے مد مقابل اور حریف کے خلاف طاقت وقوت حاصل ہو خواہ بڑھے ہوئے ناخن ہی کیوں نہ ہوں  وہ اس حکم میں داخل ہے ۔بعض احادیث میں (صحیح مسلم 1917) قوت کی تشریح وتعیین جو تیر اندازی ( رمی ) سے کی گئی ہے وہ بطور تمثیل بھی ہے ، اور اعجاز نبوی کا اعلی شاہکار بھی ، یعنی سب سے مفید قوت “رمی “ یعنی تیر اندازی یا دور سے وار کرنے والا کوئی بھی ہتھیار ہے ، جو اپنے وسیع تر مفہوم میں موجودہ دور کے ہر نوع کے جدید وترقی یافتہ  ہتھیار کو شامل ہے ۔

علامہ محمود آلوسی کی تفسیر کے مطابق “اعداد وتیاری کا حکم تمام مسلمانوں کو ہے ”یعنی ہر ایک کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ دفاعی اسباب ووسائل اور مناسب حال “ قوت مرہبہ “ کی تیاری ہمہ وقت پوری رکھیں ۔

مسلم اقلیت والے ممالک میں مسلمان اپنے ملکی آئین وقانون  اور ریاست کے ساتھ معاہدات کی وفاداری کے حدود ودائرے میں رہتے ہوئے مکی دور کی حکمت ومصالح سے استفادہ کرتے ہوئے دشمن کے بالمقابل سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط کریں ، جیساکہ اوپر عرض کیا کہ قوت کا مفہوم بہت وسیع ہے ، ملک وحالات کی نزاکتوں اور تقاضوں کے لحاظ سے اس کی تیاری کی جائے ۔

سقوط خلافت عثمانیہ اور مسلمانوں کی اجتماعی ومرکزی قوت پاش پاش ہوجانے کے بعد اس “شرعی فریضے “ کا عموم وشیوع مزید بڑھ گیا ہے ، آج کے حالات میں ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ جنگ مسلط کرنے کے لئے ہی نہیں ؛ بلکہ اپنے تحفظ ودفاع کے لئے تیاری پوری رکھے ، اسلام جہاں امن وآشتی کا پیغام دیتا ہے وہیں وہ یہ حکم بھی دیتا ہے کہ دین ومذہب اور جان وناموس کے دفاع وتحفظ کے لئے ظالم کا پنجہ تھام لیا جائے اور اس کے ہوش ٹھکانے لگادیئے جائیں ۔

قوت مرہبہ کی تیاری کا حکم صرف ملٹری یا عسکری اداروں کے ساتھ خاص نہیں ہے ، ایسی کسی تقسیم کا مقصد عوام کے ذہنوں سے اعداد کی اہمیت کو کم کرنا یا انہیں اس فریضے سے غافل رکھنا ہے ۔یہ حکم ہر مومن کو شامل ہے ، ہر ایک کو اپنے مقدور بھر “اعداد “ کا حکم ہے ، “ نمائش “ کا نہیں ! 

جب عام مسلمان اور ان کے امراء اور وزراء حضرات اس آیت کریمہ کے تقاضے پر عمل پیرا تھے، اس وقت اسلام ایک عالمگیر طاقتور اور عظیم الشان مذہب تھا، مگر آج مسلمانوں نے اس آیت کریمہ پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، قوت مرہبہ کی تیاری کی بجائے “اسلحہ کی نمائش “ ، عیش و عشرت اور آرام طلبی کی طرف مائل ہوگئے، ایک اہم فرضِ کفایہ کو ترک کردیا، جس کی وجہ سے پوری امت گنہگار تو ہوہی رہی ہے، ساتھ میں پورا عالم کفر مسلح ومتحد ہوکر مسلم ممالک کو لقمہ تر بنانے پہ تل گیا  ہے۔

نیرنگیِ زماں میں سے ہے کہ اسلام دشمن عناصر آپسی اختلاف وتضاد کے بیشمار محرکات ودواعی کے علی الرغم محض اسلام دشمنی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پہ محیر العقول طریقے سے متحد ویکجا ہوکر اسلام اور مسلمانوں سے لڑنے، اس کا پیچھا کرنے، اس کو ہر جانب سے گھیرلینے اور ہرطرف سے اس پر راہ بند کردینے بلکہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لئے  سارے اسباب وسائل اور بے دریغ فوجی وعسکری قوت استعمال کررہے ہیں ۔ہرتدبیر سے کام لیا جارہا ہے، ہرذریعے کو آزمایا جارہا ہے، ہرطریقۂ پیکار کو استعمال کیا جارہا ہے ، جبکہ جس امت کو محض “کلمۂِ اسلام “ کی بنیاد پر ایک ومتحد کیا گیا تھا وہ  مسالک ومکاتب ، لسانی ، وطنی اور جغرافیائی خانوں میں منتشر بلکہ باہم ہی دست وگریباں ہیں ۔

بعثت انبیاء کی سرزمین “القدس “ میں ایک ناجائز وخار دار درخت “ اسرائیل “ کی ظالمانہ وغاصبانہ طور پہ کاشت کی گئی ، اسے کھاد وپانی دیکر تناور درخت بناکر عسکری واقتصادی اور ایٹمی طور پہ خود کفیل وناقابل تسخیر بنایا گیا ، فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے خانما برباد کرکے ان کی اراضی ومقدسات پر قبضہ کیا گیا ، پڑوس کے عرب ملکوں کو اس قدر بے دست وپا ، ناتواں ، غیر مسلح اور بے دم کر دیا گیا  کہ ایک بھی مزاحمت کی جرات تک نہ کرسکے ۔

 "ان هذه امتكم أمة واحدة ” پر ایمان رکھنے والے حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ کشمیر کا ظلم وستم  انڈیا پاکستان کا معاملہ ،فلسطین وشام میں قتل وخونریزی کو مشرق وسطی کا معاملہ قرار دے کر تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

چالیس سے زائد اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد (التحالف الإسلامي العسكري) بھی دجل وفریب کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اسلامی اتحاد کا لیبل سراسر دھوکہ ہے۔یہ سب اپنے سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھیلا گیا کھیل اور ڈرامہ ہے۔ فلسطین پہ تین ہفتوں سے جاری صہیونی یلغار ، مسلسل و اندھا دھند انسانیت سوز بمباری اور نسل کشی پہ انسانیت سسک رہی ہے۔

پھول جیسے ہزاروں معصوم بچوں کو دہکتے آتشیں مواد میں کباب کی طرح بھونا اور موم کی طرح پگھلایا جارہا ہے ؛ پَر پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے سربراہان اور بعض ایٹمی طاقت اور جوانمرد ناقابل تسخیر افواج کے جرنیل دم دبائے بیٹھے ہوئے ہیں۔امریکی وزیر وصدر ظالم وجارح یہودیوں کو دلاسہ دینے اور عسکری مدد فراہم کرنے  اسرائیل پہنچ جاتے ہیں ، لیکن کسی مسلم حکمراں کو یہ جرات نہیں کہ مظلوم ومقہور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے وہاں پہنچ سکے ،  یا کم از کم کھل کر دوٹوک انداز میں مذمت ہی  کرسکے ، بات در اصل یہ ہے کہ ہم بے پناہ دولت وثروت کے باوجود اندر سے کھوکھلے ہیں ، جو قوت دشمنوں کو خوف زدہ کرسکتی تھی اس کی تیاری سے روگردانی کرکے عشرت کدوں  فلک بوس ٹاوروں اور زیر سمندر حسین وجمیل شاہ راہوں کی تیاری میں لگ گئے ۔

فکری اور شعوری طور پہ اس  قدر شکست خوردہ ہوچکے ہیں  جس طرح کبھی  تاتاریوں کے دور میں ہماری صورت حال تھی ، اہل علم کے علم یقیناً ہوگا کہ جب عالم اسلام پر تاتاریوں کی یلغار ہوئی تو مسلمان تقریباً اسی صورت حال سے دوچار تھے ، ایک تاتاری عورت پچاس پچاس مسلمان مردوں کو لائن میں کھڑا کرکے جاتی اور انھیں ہدایت دیتی کہ وہ یہیں کھڑے رہیں ، وہ اپنے گھر سے خنجر لے کر آئے گی اور انھیں قتل کرے گی ، مسلمان فرمانبردار غلام کی طرح کھڑے رہتے ، یہاں تک کہ ایک عورت پچاس مردوں کو ذبح کردیتی ، اسی سے ملتی جلتی صورتِ حال اِن دنوں پیش آرہی ہے ،مسلمانوں کے حصار میں محصور ایک ناجائز ریاست جب اور جس طرح چاہ رہی ہے مسلمانوں کو ختم کررہی ہے ، کسی میں بھی مزاحمت یا آنکھ دکھانے کی جرات نہیں ہے ۔شرعی فریضہ اعداد سے روگردانی نے ہمیں اقوام عالم کی نظروں میں بھیڑ بکری بنادیا ہے ، جو جب چاہ رہا ہے ہمارے کان اینٹھ کر رگید رہا ہے، اگر ہمارے پاس دشمنوں کو مغلوب ومقہور کردینے کی تیاری مہیا رہتی تو آج ہمارا یہ حشر نشر نہ ہوتا ۔ ابھی بھی وقت ہے ، مسلمان ہوش کے ناخن لیں ! خارجی بھروسوں اور اعانتوں پہ توکل کرنے کی بجائے اندر کی تیاری پہ توجہ دیں ، اس سے جو قوت پیدا ہوگی وہ امت کی اپنی حقیقی قوت ہوگی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: