از:- محمد علم اللہ، لندن
امسال میں نے کلیرین انڈیا کے لیے ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق مسائل، واقعات اور پیش رفت پر تقریباً ڈیڑھ ہزار سے زائد خبریں تحریر کیں۔ اس دوران چھوٹے بڑے سانحات، وقتی کامیابیاں، محدود حصولیابیاں، مسلسل ناکامیاں اور گہرے ہوتے ہوئے چیلنجز سب نظر کے سامنے رہے۔ اسی کی بنیاد پر ۲۰۲۵ میں ہندوستانی مسلمانوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ایک جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر ۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بڑا صبر آزما اور کٹھن سال رہا۔ ایک طرف مذہبی آزادی پر بڑھتے ہوئے دباؤ، تشدد کی وارداتوں میں اضافہ اور امتیازی قوانین نے مسلمانوں کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلا، جبکہ تعلیم، کاروبار اور کچھ سیاسی میدانوں میں کامیابیاں بھی سامنے آئیں۔ جہاں ایک طرف ہندو قوم پرستی کی لہر نے ان کی شناخت کو چیلنج کیا، وہیں دوسری طرف کمیونٹی کی اندرونی طاقت نے نئی راہیں کھولیں۔ تعلیم کے میدان میں مسلمان پہلے ہی پسماندگی کا شکار تھے، اور ۲۰۲۵ میں یہ خلا مزید نمایاں ہوا۔ اعلیٰ تعلیم، مسابقتی امتحانات اور روزگار کے مواقع میں مسلمانوں کی شمولیت مسلسل ایک چیلنج بنی رہی۔ کئی نوجوانوں نے بیرون ملک تعلیم یا روزگار کو واحد راستہ سمجھنا شروع کیا، جس سے برین ڈرین کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔
ہندوستانی مسلمان اس سال ایک ایسے ماحول میں سانس لیتے رہے جہاں آئینی حقوق کاغذ پر تو ضرور موجود تھے، مگر زمینی سطح پر ان کی حفاظت مسلسل سوالوں کے گھیرے میں رہی۔ مذہبی شناخت ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بنی، اور مسلم وجود خواہ وہ عبادت گاہ ہو، لباس ہو، نام ہو یا رائے، اکثر دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیا۔
سیاسی منظر نامے میں ۲۰۲۵ مسلمانوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ سال کے آغاز میں ہی جنوری میں ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب نے مذہبی تناؤ کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس تقریب نے ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دیا، جن میں مساجد پر حملے اور مسلمانوں کی املاک اور جانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
۲۰۲۵ میں مسلمان سیاسی طور پر کسی ایک بڑی تبدیلی کے منتظر نظر نہیں آئے، مگر یہ سال اس بات کو مزید واضح کر گیا کہ ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی حیثیت فیصلہ کن ووٹر سے زیادہ ایک نظرانداز کیے گئے فریق کی ہے۔ پارلیمنٹ ہو یا ریاستی اسمبلیاں، مسلم نمائندگی عددی اعتبار سے بھی محدود رہی اور اثر و رسوخ کے لحاظ سے بھی۔
مسلمانوں کے سامنے انتخاب اکثر دو انتہاؤں کے درمیان محدود ہو کر رہا، یا تو خاموش رہیں، یا پھر احتجاج کریں اور احتجاج کی قیمت ایف آئی آر، مکانات ، مساجد و مدارس ، مزارات وغیرہ کا انہدام، گرفتاری اور بدنامی کی صورت میں ادا کریں۔ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو ووٹ بینک تو سمجھتی ہی رہیں، مگر پالیسی سازی میں مسلمانوں کے حقیقی مسائل تعلیم، روزگار، سلامتی اور مساوی مواقع حاشیے پر رہے۔ انتخابی موسم میں مسلمانوں سے وعدے کیے گئے، مگر اس کے ختم ہوتے ہی ان وعدوں کی بازگشت بھی مدھم پڑ گئی۔ مسلمانوں کے بنیادی مسائل کسی بھی بڑی قومی بحث کا مرکزی موضوع نہ بن سکے۔ یوں مسلمان ایک بار پھر سیاسی ترجیحات کی فہرست میں نیچے رہے۔
مارچ میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کا نفاذ ایک اور بڑا جھٹکا تھا، جو پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم مہاجرین کو شہریت دینے کا راستہ ہموار کرتا ہے، لیکن مسلمانوں کو اس سے خارج رکھتا ہے۔ یہ قانون مسلمانوں میں خوف کا باعث بنا کیونکہ اسے نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز (این آر سی) کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا تھا، جو ممکنہ طور پر کروڑوں مسلمانوں کو بے وطن کر سکتا ہے۔ اس قانون نے روہنگیا مسلمان مہاجرین پر پابندیاں سخت کیں اور ان پر حملے بڑھے۔جن میں من مانی حراست، حملے اور ملک سے باہر دھکیلنے کا خطرہ شامل ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ سی اے اے اور دیگر پالیسیوں کا تسلسل ہے جو غیرمسلم مہاجرین کو ترجیح دیتا ہے۔ریاست بنگال میں اس کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کے گھروں کو بڑی تعداد میں مسمار کیا گیا جبکہ غیرقانونی طریقے سے متعدد مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیلا گیا۔ گئوکشی کے نام پر ہندتوا تنظیموں کا تانڈو جاری رہا اور متعدد جگہوں پر مسلمانوں کو مارنے اور ہراساں و زد وکوب کیے جانے کی خبریں نوٹ کی گئیں۔
اپریل میں وقف (ترمیمی) ایکٹ کی منظوری نے مسلمانوں کی مذہبی خودمختاری پر ایک اور ضرب لگائی۔ یہ قانون وقف بورڈز میں غیرمسلم اراکین کی شمولیت اور سرکاری مداخلت کی اجازت دیتا ہے، جسے مسلمان تنظیموں نے اپنی جائیدادوں پر قبضے کی سازش قرار دیا۔ یہ بل وقف کی جائیدادوں کے انتظام کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہوئے۔ کہیں یہ پرامن رہے، کہیں حالات بگڑ گئے اور مسلمانوں کو ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ ان کے مذہبی اداروں کے فیصلے اب ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہے۔
اس کے علاوہ، مئی میں ہندوستان-پاکستان تنازعہ نے مسلمانوں پر اضافی دباؤ ڈالا۔ یہ مختصر مسلح تصادم ۷ ؍مئی کو شروع ہوا جب ہندوستان نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جو لائن آف کنٹرول پر تنازعات کی وجہ سے تھا۔ اس تنازعہ نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف شکوکوشبہات کو بڑھایا، اور کچھ علاقوں میں انہیں ‘‘غدار’’ قرار دینے کی مہم چلی۔ اس نے بیرونی سرمایہ کاروں کے رسک پرسیپشن کو بھی متاثر کیا، جو اقتصادی استحکام پر اثر انداز ہوا۔
ستمبر ۲۰۲۵ سے اتر پردیش کے کئی شہروں میں میلاد النبی کی مناسبت سے پروگرام کرنے پر بندش اور ہندوتوا عناصر کی جانب سے بدمعاشی کے بعد مسلمانوں نے ایک تحریک چلا کر اپنے پیارے نبی محمد ﷺ کے حق میں نعروں اور پوسٹروں کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے ردعمل کے خلاف احتجاج کیا۔ ان پر مقدمات درج ہوئے اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان گرفتاریوں میں مولانا توقیر رضا سمیت کئی چھوٹے بڑے سماجی کارکنان کو درِزنداں کیا گیا۔ چھوٹے محلوں اور قصبوں میں بھی مقامی سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی دیکھی گئی، جس سے مقامی مسلمان کمیونٹی کو ذہنی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے مسلمانوں کے گھر، دکانیں اور مال وغیرہ گرائے گئے۔
نومبر میں بہار کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی کامیابی نے مسلمان اکثریتی علاقوں میں بھی اپنا اثر دکھایا، جہاں نتیش کمار کی جے ڈی (یو) نے اہم سیٹیں جیتیں۔ یہ نتائج مسلمان ووٹرز کی اقتصادی ترقی کی طرف جھکاؤ کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی بی جے پی کی ہندو قوم پرست پالیسیوں کے اثر کو بھی دکھاتی ہیں۔
نومبر ۲۰۲۵ میں لال قلعے کے قریب کار بم دھماکہ (جس میں ۱۵-۱۰ ؍افراد ہلاک اور ۲۰ سے زائد زخمی ہوئے) کے بعد مسلم کمیونٹی، خاص طور پر کشمیریوں پر دباؤ بڑھا۔ تفتیش میں کئی کشمیری ڈاکٹروں اور الفلاح یونیورسٹی کے ذمہ داران کو گرفتار کیا گیا، حالانکہ کچھ کو ناکافی ثبوت کے سبب رہا بھی کر دیا گیا مگر اس سے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانوں پر فوری الزامات لگے۔ اس کے ذریعے جو نقصان ہوا اس کی کوئی تلافی نہیں ہوئی بلکہ مسلمانوں میں مزید عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔اس حوالے سے مسلم تنظیموں نے غیرجانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا اور بلی کا بکرا بنائے جانے والے پرانے حربے سے باز رہنے کی بات کہی لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔
دسمبر میں الیکٹورل رول کی نظر ثانی نے مسلمانوں کو مزید پریشان کیا، جہاں مختلف ریاستوں میں انہیں ”غیرقانونی مہاجر“ قرار دے کر ووٹنگ لسٹوں سے خارج کرنے کی کوششیں دیکھی گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ اسے جمہوریت کے لیے خطرہ بتایا گیا۔ یہ سیاسی پیش رفتیں مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث بنیں، کیونکہ انہوں نے ان کی شہری حیثیت اور مذہبی حقوق کو کمزور کیا۔
تشدد اور امتیازی سلوک کے معاملے میں ۲۰۲۵ مسلمانوں کے لیے ایک تاریک سال رہا۔ متعدد رپورٹوں کے مطابق، سال کے پہلے سہماہی میں ۱۱ ؍مسلمانوں کی غیرقانونی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں سے ۶ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہوئیں۔ تیسرے سہ ماہی میں یہ تعداد ۱۲ ؍تک پہنچ گئی، جن میں ۹؍مسلمان ،ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہجومی تشدد میں ہلاک ہوئے۔ اس طرح کی ہزاروں رپورٹیں بتاتی ہیں کہ تشدد اب عوامی تماشہ بن گیا ہے، جہاں مسلمانوں پر حملے میڈیا اور سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔
یو ایس سی آئی آر ایف سمیت متعدد رپورٹوں کے مطابق انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کی گئیں، جس نے تشدد کو ہوا دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی رام مندر کی افتتاحی تقریب کے بعد مسلمانوں پر حملوں کا ذکر کیا۔ آئی اے ایم سی کی رپورٹ میں انسٹاگرام پر نفرت پھیلانے والے مواد کا ذکر ہے، جو مسلمان خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔ سی جے پی کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵-۲۰۲۴ میں نفرت کے جرائم میں اضافہ ہوا، جن میں مسلمان اور عیسائی سب سے زیادہ متاثر رہے۔ سی ایف آر کی رپورٹ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی پسماندگی کا بھی ذکر ہے جبکہ جینوسائیڈ واچ نے ہندوستان میں مسلمان خواتین پر ظلم کی نشاندہی کی۔
۲۰۲۵ میں بعض ریاستوں میں بلڈوزر کارروائیوں کا سلسلہ دراز ہوا۔ اگرچہ اس پر عدالتی سوالات اور تنقید بڑھتی گئی، مگر مسلمانوں کے درمیان یہ تاثر برقرار رہا کہ یہ کارروائیاں اکثر اجتماعی سزا کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ کسی فرد کے غیرثابت شدہ جرم کی سزا پورے محلے یا خاندان کو دیے جانے کا احساس، انصاف کے بنیادی اصولوں پر سوال کھڑا کرتا رہا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود، کئی ریاستوں میں مسلمانوں کی املاک کو ‘‘غیرقانونی’’ قرار دے کر مسمار کیا گیا۔ اس ”مجموعی سزا“ کے طریقے پر پوری دنیا میں تنقید ہوئی، مگر مودی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
کہیں کچھ امید افزا اشارے دکھائی دیے تو کہیں مجموعی طور پر پسماندگی اور مسائل کا سایہ ہی گہرا رہا۔ اس دوران مسلمانوں کی اقتصادی حالت پر کئی رپورٹیں سامنے آئیں، مگر ہر رپورٹ کی قرأت اور تعبیر الگ رہی۔اے ایل ایم کی رپورٹ میں معاشی ترقی اور سماجی انضمام کی بات کی گئی، لیکن مسلم حلقوں کے ایک بڑے طبقے نے اسے زمینی حقائق سے زیادہ حکومتی پالیسیوں کی تصویر کشی قرار دیا۔ اسی طرح شنکر آئی اے ایس پارلیمنٹ کی رپورٹ نے این ایس ایس او کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کچھ بہتری کا دعویٰ کیا، مگر یہ اعداد و شمار خود ہی بحث و تکرار کا موضوع بن گئے اور بہت سوں نے انہیں محدود یا انتخابی تناظر میں پیش کردہ ڈیٹا کہا۔اے آئی پی ایم ایم کی رپورٹ نے گلوبلائزیشن کے پس منظر میں مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حیثیت کا تجزیہ کیا، تاہم متعدد مسلم ماہرین اور تنظیموں نے اس رپورٹ کو غیر جانبدار تحقیق کے بجائے سرکاری بیانیے کی توسیع قرار دیا۔ اس کے برعکس، سب رنگ انڈیا نے مسلمانوں کی مسلسل اقتصادی پسماندگی کو نمایاں کیا، اگرچہ اس نے یہ بھی کہا کہ بومنگ اکانومی میں مسلمانوں کی شرکت نہایت محدود رہی۔
اے ایم پی کے ۲۵؍سالہ روڈ میپ میں تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی پر توجہ دی گئی۔ اکانومسٹ نے اتر پردیش کی اقتصادی ناہمواریوں کا ذکر کیا، جو مسلمانوں کو خاص طور پر متاثر کرتی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے مہا کمبھ ۲۰۲۵ کو اقتصادی ترقی کا کیٹالسٹ قرار دیا، مگر یہ فائدہ تمام کمیونٹیز تک یکساں پہنچنے کا دعویٰ بھی متنازع رہا، کیوں کہ کچھ عناصر کی جانب سے اعلانیہ طور پر مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کی بات کی گئی اور شرکت کرنے پر انھیں مارا پیٹا گیا۔ کُل ملا کر جو بھی تھوڑی بہت جو بھی بہتری نظر آئی وہ زیادہ تر مسلمانوں کی اپنی محنت، نجی کوششوں اور کمیونٹی کی ہمت کا نتیجہ تھی، جبکہ حکومتی اسکیموں کا فائدہ یا تو محدود رہا یا مسلم علاقوں میں کم پہنچا۔
ڈیموگریفک تبدیلیوں کے لحاظ سے ۲۰۲۵ میں مسلمانوں کی آبادی میں گودی میڈیا کی جانب سے اضافہ کا ڈھنڈورا خوب پیٹا گیا مگر تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ اضافہ کم ہو رہا ہے اور دعوے پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ پیو ریسرچ اور دیگر معتبر ذرائع کے مطابق، مسلمانوں کی آبادی عالمی سطح پر تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر ہندوستان میں زرخیزی کی شرح (ٹی ایف آر) تیزی سے گر رہی ہے۔ مسلمانوں کی ٹی ایف آر اب ۲.۳۶ کے قریب ہے جو قومی اوسط سے قریب آ رہی ہے۔ جیسا کہ ہنگامہ کیا گیا تھا، ہندوستان ۲۰۲۵ میں دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک نہیں بنا (انڈونیشیا اور پاکستان آگے ہیں)، بلکہ تیسرا نمبر برقرار ہے۔ حقائق نے ظاہر کیا کہ براؤن پنڈٹس جیسی ویب سائٹس پر انڈیا میں مسلمانوں کا شیئر ۳۳ فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئیاں ہندو قوم پرست پروپیگنڈے کا حصہ ہیں، جو ”مسلم آبادی بم“ کے خوف کو ہوا دیتی ہیں۔ امسال گودی میڈیا نے اس کو خوب اچھالا۔
۲۰۲۵ میں، مین اسٹریم میڈیا کا کردار مسلمانوں کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں رہا۔ مسلمانوں کے مسائل، ان پر ہونے والے مظالم یا ان کی سماجی و معاشی پسماندگی پر سنجیدہ اور متوازن مباحث کم ہی دیکھنے کو ملے۔ اس کے برعکس، جب بھی کوئی واقعہ مسلمانوں سے جوڑ کر پیش کیا گیا، تو اسے سنسنی خیز انداز میں اچھالا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے متبادل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً سوشل میڈیا، کا سہارا لیا۔ مگر یہ سہارا بھی خطرات سے خالی نہ تھا۔ سوشل میڈیا پر اظہار رائے کئی بار قانونی کارروائی کا سبب بن گیا، جس نے اظہار کی آزادی پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا۔ اس حوالے سے کلیرین انڈیا، مسلم مرر، مکتوب میڈیا، ہندوتوا واچ، ٹو سرکلز ڈاٹ نیٹ، دی کوئنٹ، سیاست، انڈیا ٹومارو، آلٹ نیوز اور دی وائر اردو جیسی ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز نے بہتر انداز میں مسلمانوں کی ترجمانی کی اور حقائق کو سامنے رکھنے کی کوشش کی۔
سال کے اختتام پر ایک انتہائی شرمناک اور توہین آمیز واقعہ نے مسلم خواتین کی عزت و حیثیت کو چیلنج کیا۔ ۱۵ دسمبر ۲۰۲۵ کو بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران اسٹیج پر موجود ایک مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب کھینچا ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور ملک بھر میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔ مسلم تنظیموں، اپوزیشن پارٹیوں، خواتین کے حقوق کی کارکنوں اور عوامی حلقوں نے اسے مسلم خواتین کی ذاتی آزادی، مذہبی حقوق اور عزت پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ جمعیۃ علماء ہند، پی ڈی پی اور دیگر تنظیموں نے معافی اور کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ نتیش کمار کی طرف سے کوئی معافی نامہ جاری نہیں ہوا۔ یہ واقعہ مسلم کمیونٹی میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور خواتین کی شناخت پر حملوں کی ایک اور مثال بن گیا۔
جب یہ سال اپنے انجام کو چھو رہا تھا، 20 دسمبر 2025 کو نئی دہلی میں ممتاز ادیب اور نغمہ نگار جاوید اختر اور نوجوان اسلامی عالم مفتی شمائل احمد ندوی کے درمیان “کیا خدا موجود ہے؟” کے موضوع پر ایک مباحثہ ہوا۔ جسکو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے دیکھا۔ کئی لوگوں نے اسے ہندوستانی مسلمانوں کی نوجوان نسل کی فکری مباحث میں شرکت کی ایک مثال قرار دیا، جس کے ذریعے بہت سے افراد کو خدا کے بارے میں فہم حاصل ہوا۔ تاہم، متعدد دانشوروں نے اس طرح کے مباحثوں کو جذباتی، غیر ضروری، توجہ ہٹانے والا اور سماج کے لیے غیر نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
مختصراً ۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہت کچھ کھونے کا سال رہا ۔
جانوں کا ضیاع، مذہبی آزادی پر بڑھتے ہوئے حملے، سماجی تحفظ کا خاتمہ، سیاسی بےوزنی اور معاشی پسماندگی نے کمیونٹی کی حالت کو مزید نازک اور خطرناک کر دیا۔ یہ سال نہ صرف روزمرہ زندگی میں مشکلات کا، بلکہ جذباتی اور فکری آزمائشوں کا بھی سال رہا۔ مسلمانوں نے اپنی حفاظت، حقوق اور شناخت کے لیے مسلسل جدوجہد کی، مگر نتائج اکثر محدود اور نامکمل رہے۔
ان سب کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سیاسی اور سماجی سطح پر اپنی آواز کو مؤثر اور بامعنی بنانا ہو گا۔ ۲۰۲۵ ایک واضح انتباہ ہے کہ آئینی حقوق کا وجود اپنی جگہ، مگر ان کا تحفظ مسلسل جدوجہد، فہم اور اجتماعی نظم کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو پسماندگی، امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کمیونٹی تعلیم، قانونی شعور، معاشی خود انحصاری اور منظم سیاسی شرکت پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرے تو اپنی عددی طاقت کو حقیقی اثر و رسوخ میں بدلا جا سکتا ہے۔