از: ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب
ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے جمعیت علماء ہند کے قائدین مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کا جو بیان گردش کررہا ہے اس سے اختلاف کی قطعی گنجائش نہیں ہے،انہوںنے ملک کی بے لگام سیاست ، قوم کی بے بسی، اقلیتوںاورمحروم طبقات پر زیادتی اور متعصب میڈیا کے تعلق سے جو باتیں کہیں ہیں وہ صد فیصد درست ہیں، اس لئے اپنے فرائض منصبی کو بھول چکے گودی میڈیا میںہلچل اور ہنگامہ برپا ہے۔ وہ جمعیت کے قائدین کے بیانات کو منفی انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرکے اسے بھڑکاؤ بتانےمیں مصروف ہے۔حکمراں بی جے پی بھی سیخ پااور اس کے لیڈران مولاناکو مختلف انداز میں ہدف تنقید بنارہےہیں۔ہندی چینلوں کے بارے میں تو کچھ کہنا ہی فضول ہے۔ان کاتو کام ہی آگ میں گھی ڈالنا اور سچائی سے روگردانی کرکے حکومت و قت کی چاپلوسی کرنا ہے۔اس لئے مبنی بر حقیقت ان خیالات سے ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا لازمی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں میڈیا کے کردار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہےکہ قومی میڈیا نے جس طرح سے صحافت جیسے عظیم پیشے کا بیڑہ غرق کیا ہےاس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی ۔ میڈیانے حکومت و حکام کے سامنے سجدہ ریز ہوکراپنے فرائض و اصول کو یکسر فراموش کردیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ملک میں مظلوم و محروم طبقات کی آواز دبادی گئی ہے۔عدل و انصاف کے سسٹم و نظام پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں،کسان و مزدور پریشان ہیںاور بے روزگاری و مہنگائی آسمان چھو رہی ہیں،طب و صحت کا شعبہ تجارتی مراکز بن گیا ہے،ضروری ادویات کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہے، مگر ان بنیادی مسائل پر بحث و مباحثے کے لئے قومی میڈیا کے پاس وقت نہیں ہے۔اس کی وجہ واضح ہے کہ انہوںنے زر کے سامنے اپنے ضمیر کا سودا کرلیا ہے۔ اسی لئے انہیں ملک کی سچائی نظر نہیں آرہی ہے۔حکومتوں کی غلطیوں اورعوام مخالف پالیسیوں پر لب کشائی کی ہمت نہیں کی جاتی، نتیجہ ہےکہ آج حکومت سے لے کر اعلیٰ حکام تک اقلیتوں ،کمزور و پسماندہ طبقات کے مسائل و مطالبات کو نظر انداز کیا جارہا ہے، انکے جائز مطالبات کو کچلا جارہا ہے اوران پر طرح طرح کی زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ایک کے بعد ایک غیر اہم معاملے میں پھنسا کر انہیں اصل اور بنیادی مسائل پر بولنے کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ان نامساعد حالات میں اگر کوئی سچ بات بولنے کی جرأت کرتاہے تو اس کے پیچھے پولیس اور سرکاری ایجنسیوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ،معمولی باتوں اور تبصروں پر کیس و مقدمہ درج کرکے لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا عام بات ہے، تاکہ ڈرو خوف کے سبب کوئی اپنی آواز بلند نہ کرسکے،بس حکمراں اپنی مرضی کے مطابق جیساچاہیں منمانی کریں۔سیاست و قیادت کے زور پر کمزوروں کو دبانے اور ان پر ظلم و زیادتی کرنےکی روایت تو بہت پرانی ہے مگر اس وقت ہر طرف طاقت کا بول بالا ہے،کمزور وپریشان حال لوگوں کی کوئی سننے والا نہیں۔ یہاں تک کہ ملک میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران تک کی نہیں سنی جارہی ہے۔ان کی باتوں اور مانگوں پر توجہ دینے کی بجائے نظرانداز کرنے اور ان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈوں کی تشہیر کرکے انہیں بدنام کرنے کا بیہودہ چلن عام ہوگیا ہے۔حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیںکہ حکمرانوں کی غلط باتوں کو جلد تسلیم کرلیا جاتاہے جبکہ سیکولراورجمہوریت پسند رہنماؤںکی سچی اور اچھی باتوں پرسو طرح کے سوالات کھڑے کرکےانہیںبےاثر کیا جارہا ہے۔یعنی جھوٹ ،مکرو فریب بک رہےہیں اور سچ کا کوئی خریدارنہیں ہے۔انہی حالات پر پہلے جمعیت علما ء ہندکے صدر مولانا ارشد مدنی نےدہلی میں منعقدہ ایک سیمینار میں ملک کی سیاست اور حالات پر تشویش ظاہر کی۔اپنے بیان کے توسط سے انہوں نے حکمرانوں کویہ پیغام دیا تھاکہ ہندوستان کسی کی جاگیر نہیں ہے،ہمارے بزرگوں نے بڑی قربانیوں کے بعد اسے آزاد کرایا ہے۔یہ ایک سیکولر ملک ہے یہاں کسی کی ہٹلری زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتی ۔انہوںنے قوم کی بے بسی کو محسو کرتےہوئے ےکچھ اہم امور کی طرف توجہ دلائی اور کہاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے تئیں تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کسی بڑے تعلیمی ادارے کا وائس چانسلر مسلمان نہیں بن سکتا۔اس ضمن میں انہوںنے اقلیتی تعلیمی اداروں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک اور حکومت کے رویے کا بھی ذکرکیاکہ کس طرح سےان اداروںکوتباہ و بربادکرکے ان کے بانیان کو جیلوں میں ڈالاجارہاہے۔مولانا نے بطور مثال نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور لندن کے میئر صادق خان کی مثال پیش کی اور کہاکہ مسلمان اپنی قابلیت کی بنیاد پر دنیا بھرمیں ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں، لیکن ہندوستان میں حالات اس کے برعکس ہیں۔یہاں مسلمان وائس چانسلر تک نہیں بن سکتا، اور اگر بن جائے تو اسے اعظم خان کی طرح جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔’الفلاح یونیورسٹی‘ پر کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہاں یہ بتانےکی ضرورت نہیںکہ جمعیت علماء ہند کی شاندارتاریخ رہی ہے۔اس سے وابستہ بزرگوں نے ملک کو جب جب ضرورت پڑی ذات پات،رنگ و نسل سے اوپر اٹھ کرملک و انسانیت کی خدمت کی۔اسی طرح ظلم و ناانصافی کے خلاف بھی جمعیت آہنی دیوار کی طرح کھڑی رہی ہے۔دنیا جانتی ہےکہ ملک میں کہیں بھی مسلمانوں اور کمزور طبقات پر زیادتی ہوئی،یا ان پر کوئی ناگہانی و آسمانی آفات نے نقصان پہنچایا تو سب سے پہلے وہاں جمعیت علماء ہند کا کاررواں پہنچا اور پریشان حال لوگوں کی مدد کی ،ان کے آنسو پونچھے، دکھ تکالیف کا مداوا کیاان کے رہنے سہنے کے انتظامات کیے ۔یہ باتیں کہنے کی نہیں ہے جھوٹے مقدمات میں بند نہ جانے کتنے لوگوں کو جمعیت کی پیروی کی وجہ سے رہائی کا پروانہ ملا اور ان مظلومین کے گھروں میں خوشیوں کے چراغ پھر سے جلنے لگے ۔ آج بھی دونوں جمعیت کے قائدین قابل اور ماہر وکیلوں کی ایک ٹیم کے ساتھ بہت سے ایسے مقدمات چھوٹی بڑی عدالتوں میں لڑرہےہیں جن میں بےگناہوںکو پھنسایاگیاہےاور ان کی رہائی کے تمام دروازےمسدودکردیے گئے، تاہم یہ اکابر حکومت وقت کی مخالفت کا سامناکرتےہوئے حق و انصاف کے بول وبالاکے لئے اپنی جنگ جاری رکھے ہوئےہیں اور یہی جمعیت علماء ہند اور اس کے قائدین کی شان ہے۔
اسی طرح بھوپال میں ہفتہ ۲۹؍نومبر۲۰۲۵ء کو مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خطاب میں جو حقیقت بیانی کی اس پر بھی بی جے پی اور اس کے ہمنواؤں کے ساتھ بھاجپائی ذہنیت رکھنے والےلوگ بلبلا اٹھےہیںاور مولانا محمود مدنی کے بیان کو اشتعال انگیزکہہ کر تنقید کررہےہیں۔مولانا نے تو ملک کے موجودہ حالات پر عدالت کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ تاثر عام ہے کہ عدالتیں حکومتوں کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ بابری مسجد کیس اور طلاق ثلاثہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی مثال پیش کی۔یہ بھی کہاکہ ’پلیس آف ورشپ ایکٹ‘ کو نظر انداز کرکے گیان واپی اور شاہی عیدگاہ مسجدوں کے خلاف مقدمات پر سماعت کی جارہی ہےیہ سب کیا ہے؟۔ سپریم کورٹ اسی وقت تک ’سپریم ‘ کہلانے کا حق رکھتی ہے جب تک کہ وہ آئین کے مطابق کام کررہی ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو اخلاقی طور پر بھی سپریم کہلانے کا حق کھودے گی۔